بھارتی پادری کی جنسی زیادتی، نن سراپا احتجاج بن گئیں

بھارت میں کیتھولک راہباؤں کا ایک گروپ ریاست کیرالا کی سڑکوں پر ایک غیر معمولی احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ خواتین اس نن کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں، جسے ایک پادری نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کیرالا کی پولیس نے اس مقدمے میں نامزد بشپ کو اگلے ہفتے ایک مرتبہ پھر پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔ تاہم یہ پادری جنسی زیادتی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
متاثرہ نن نے اپنے ایک خط میں ویٹیکن سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کلیسا سے انصاف کے حصول کی متعدد کوششوں میں ناکامی کے بعد وہ یہ معاملہ عام کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔اس موقع پر احتجاج کی شریک منتظم ایک نن نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ یہ احتجاج کلیسا کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے، ’’ہماری جنگ سچ کے لیے ہے۔ ہم اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جب تک سچ کا بول بالا نہ ہو جائے اور متاثرہ نن کو انصاف نہ مل جائے۔‘‘یہ احتجاج کوچی میں گزشتہ چھ روز سے جاری ہے۔ یہ شہر کیرالا کے اقتصادی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس احتجاج کو اس وقت کافی اہمیت اس وقت ملی، جب مقامی طور پر سرگرم افراد، سیاستدان اور ادیب اس جانب متوجہ ہوئے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا کہ جب اس ریاست میں آباد مسیحی برادری کو پادریوں کے جنسی واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے دباؤ کا سامنا ہے۔ مسیحی اس ریاست کی آبادی کا انیس فیصد بنتے ہیں۔گزشتہ ماہ پانچ پادریوں کو جنسی استحصال کے دو مختلف واقعات میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا جب کہ 2017ء میں ایک کیتھولک پادری کو ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پادری پر ایک نو عمر لڑکی کے ساتھ جنسی رابطہ قائم کرنے کا الزام تھا، جس کے بعد وہ حملہ ہو گئی تھی۔ تاہم اس لڑکی کی زچگی کے وقت اس پادری نے بھارت سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی