کتوں کو لگنے والے مرض میں مبتلا دنیا کا منفرد بیمار انسان

مغربی ممالک کےانسانوں کا کتوں اور دیگر جانوروں سے بڑھتا پیارانوکھی بات نہیں، یہ عمل یورپی و مغربی ممالک سمیت کئی ممالک میں عام چیز ہے۔کتوں اور بلوں دیگر جانوروں سے پیار کرنے والے افراد نہ صرف ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور سوتے ہیں بلکہ انہیں دن میں متعدد بار چومتے بھی ہیں۔انسان اور جانور کے ایسے ہی پیار کو دیگر افراد کے لیے مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے، تاہم دنیا کے چند افراد کو یہ پیار مہنگا بھی پڑتا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست وسکونسن کے 48 سالہ گریگ مینٹوفیل کو رواں برس جون میں اس وقت ہسپتال داخل کرایا گیا، جن ان کے ہاتھ اور پاؤں سمیت چہرے اور جسم کے دیگر حصوں کے زخم سرخ اور بلیو بن چکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گریگ مینٹوفیل میں مرض کی تشخیص میں کئی ہفتے لگے۔ڈاکٹر یہ جان کر حیران رہ گئے کہ گریگ مینٹوفیل کو انسانوں نہیں بلکہ جانوروں والی اور خصوصی طور پر کتوں میں پائی جانے والی ایک عام بیماری ہے۔
رپورٹس سے پتہ چلا کہ گریگ مینٹوفیل کو کتوں میں پائی جانے والی نزلے اور کام کی عام بیماری ‘Capnocytophaga canimorsus ’ کی تشخیص ہوئی۔یہ بیماری نہ صرف کتوں بلکہ بلوں اور بلیوں میں بھی عام پائی جاتی ہے، تاہم یہ انسانوں میں انتہائی کم اور نہ ہونے کے برابر پائی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ بیماری انسان کو کتوں کے کاٹنے، ان سے ہر وقت لپٹے رہنے یا پھر انہیں چومنے جیسے عوامل سے انسان میں منتقل ہوتی ہے، تاہم ایسا بہت ہی شاذ و نادر ہوتا ہے کہ کتوں کی بیماری سے انسان متاثر ہو۔اگرچہ کتوں اور دیگر جانوروں سے پیار کرنے والے زیادہ تر انسان جانوروں میں پائی جانے والی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، تاہم اگر کوئی شخص ان سے متاثر ہو تو وہ بیماری انسان کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
کتوں میں پائی جانے والی بیماری سے متاثرہ امریکی شخص بھی ان بدنصیب افراد میں سے ہیں، جنہیں ایک خطرناک مرض لاحق ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق اب تک 48 سالہ گریگ مینٹوفیل کی زندگی بچانے کے لیے ان کی 6 سرجریاں کی جا چکی ہیں۔اس بیماری کے باعث جہاں متاثرہ شخص کے دونوں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں کاٹی جا چکی ہیں، وہیں ان کے جسم کے دیگر حصوں سے گوشت کو نکال کر ان کے ناک اور چہرے کو قدرے بہتر بنایا گیا ہے۔ابتداء میں کتوں کی بیماری سے متاثرہ امریکی شخص کے چہرے سمیت جسم کے دیگر حصوں پر کئی زخم تھے، تاہم اب ان کے زخم خشک ہوچکے ہیں۔