تاج محل کے متعلق 8دلچسپ حقائق

برِ صغیر میں مغل دورِ حکومت کا عظیم فنِ شاہکار تاج محل دنیا کے سات عجوبوں میں ایک ہے۔سال 1653میں 22ہزار مزدوروں کی مدد سے بننے والا تاج محل شاہ جہاں نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا تھا۔
فنِ تعمیر کے اس شاہکار سے متعلق 8دلچسپ حقائق ملاحظہ ہوں:
٭تاج محل کی تعمیر کےمتعلق یہ کہانی مشہور ہے کہ اس سے متعلقہ تمام فنکار اور مزدوروں کے بازو کٹوادیے گئے تھے تاکہ مستقبل میں ایسا کوئی شاہکار نہ بنایا جائے سکے۔ اس ٹیم کے کچھ ممبران نے لال قلع کی بنیادبھی ڈالیں تھیں جن میں اُستاد احمد لاہوری آرکیٹیکٹ ٹیم کے سربراہ تھے۔
٭دن کے مختلف حصوں میں عمارت کا رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رنگوں کا یوں بدلنا بادشاہ کی بیوی کے بدلتے مزاج عکاسی کرتا ہے۔ صبح میں محل سے گلابی رنگ چھلکتا ہے، شام میں سفید اور رات میں چاندنی پڑنے سے سنہرارنگ چھلکتا ہے۔
٭تاج محل کی تکمیل میں کُل 22برس لگے۔ فنِ تعمیر کے شاہکار پر 32کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی تھی۔
٭محل کی راہ گزر پر لگے فواروں کو اس برح سے بنایا گیا ہے کہ ان میں پانی کا پریشر یکساں رہتا ہے۔ فوارے کے پائپ براہِ راست تانبے کے پائپس سے نہیں جُڑے ہوئے۔ ہر فوارے کے ساتھ ایک پیالا نما چیز ہے جو پہلے بھرتی ہے اور پھر تمام فواروں سے پانی نکلتا ہے۔
٭تاج محل دنیا کے سات عجائب میں میں سے ایک ہے۔
٭تاج محل کا سانچہ اسلامی فنِ تعمیر پر مبنی ہے۔ کثرت سے استعمال کیے جانے والے سفید سنگِ مرمر کو 28قسم کے قیمتی پتھرجڑ کر آویزاں کیا گیا ہے جو دنیا کے مختلف حصوں سے منگائےگئے تھے۔ ان قیمتی پتھروں میں سے کچھ کوانگریزوں نے 1857 کی جنگ کے دوران اکھاڑ لیا تھا۔
٭تاج محل قطب مینار سے تقریباً پانچ انچ بڑا ہے۔
٭سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے تاج محل کی جانب چلا جاتا ہے تو عمارت چھوٹی ہونے لگتی ہے۔ تاج محل کو اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ جب اس سے دور جاتے ہیں تو یہ بڑا ہونےلگ جاتا ہے