پراگ : ایک تاریخی شہر

پراگ (Prague) یورپ میں واقع جمہوریہ چیک کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ ملک کا سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور تعلیمی مرکز ہے۔ وسطی بوہیمیا میں دریائے ولتواوا کے کنارے واقع یہ شہر تقریباً 13 لاکھ آبادی کا حامل ہے۔یہ یورپی یونین کا 14 واں سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے۔یہاں پر بہت سے تاریخی اہمیت کے مقامات واقع ہیں۔ ان میں پراگ کیسل، چارلز برج اور اولڈ ٹاؤن سکوائر شامل ہیں۔ تاریخی اہمیت کے سبب پراگ کے مرکزی علاقے کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔ شہر میں دس سے زائد بڑے عجائب گھر ہیں۔ یہاں تھیٹروں، گیلریوں اور سینماؤںکی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ یہاں سب سے پہلے پراگ کیسل بنا تھا۔ پھر اس کے اردگرد آبادی بڑھتے بڑھتے شہر کی شکل اختیار کر گئی۔ پہلی عالمی جنگ میں آسٹرو ہنگری سلطنت کی شکست کے بعد چیکوسلواکیہ وجود میں آیا۔ پراگ کو اس کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اس وقت پراگ صنعتی لحاظ سے بہت ترقی یافتہ شہر تھا۔ 1930ء میں اس کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ تھی۔دوسری عالمی جنگ کے دوران ایڈولف ہٹلر نے 15 مارچ 1939ء کواپنی فوجوں کو پراگ میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ تاریخ کے زیادہ تر ادوار میں پراگ میں متعدد قومیں بیک وقت آباد رہیں جن میں جرمن اور چیک اہم ہیں۔ ایک بڑی تعداد یہودیوں پر مشتمل تھی۔ نازیوں کے قبضے کے دوران ان کی زیادہ تر آبادی کو بے دخل کر دیا گیا یا مار دیا گیا۔ 1942ء میں پراگ میں نازی جرمنی کے انتہائی طاقت ور رہنما ریہارڈ ہائیڈرخ کو قتل کیا گیا جس کے بعد ہٹلر نے خونیں ردعمل کا حکم دیا۔ فروری 1945ء میں امریکی ایئرفورس نے متعدد بار بمباری کی۔ اس کے نتیجے میں 701 افراد ہلاک اور ایک ہزار زخمی ہوئے۔ تاہم بیشتر تاریخی عمارات محفوظ رہیں۔ دوسرے شہروں کی نسبت پراگ کو اس جنگ کے دوران کم نقصان پہنچا۔ جرمنوں کے قبضے کے خاتمے سے قبل ان کے خلاف بغاوت نے جنم لیا۔ اس دوران سڑکوں اور گلیوں میں خونیں لڑائیاں ہوئیں۔ چند دن بعد سوویت یونین کی سرخ فوج یہاں داخل ہو گئی جس کی قابل ذکر مزاحمت نہ ہوئی۔ سرد جنگ کے دوران اس پر سوویت یونین کا سیاسی اور عسکری کنٹرول رہا۔ یہاں سوویت حاکم جوزف سٹالن کے سب سے بڑے مجسمے کا افتتاح 1955ء میں ہو ااور اسے 1962ء میں تباہ کر دیا گیا۔ چیکوسلواکیہ کے مصنفین کی چوتھی کانگریس نے حکومت وقت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ 31 اکتوبر 1967ء کو طلبہ نے شہر کے ایک مقام پر احتجاج کیا۔ اس کے بعد ’’بہارِ پراگ‘‘ کا آغاز ہوا جس میں ملک میں اداروں کی جمہوری تشکیل نو کا ارادہ کیا گیا جس کا ساتھ اس وقت کے مقامی کمیونسٹ رہنماؤں نے بھی دیا۔ لیکن وارسا پیکٹ کے ممالک، سوائے رومانیہ اور البانیہ کے، 21 اگست 1968ء کو ٹینکوں کے ساتھ ملک میں داخل ہو گئے اور اصلاحات کے عمل کو روک دیا۔ چیکو سلواکیہ کے چیک اور سلواکیہ کی صورت میں الگ الگ ملک بن جانے کے بعد پراگ جمہوریہ چیک کا دارالحکومت قرار پایا