دیواریں۔.تحریر ۔۔۔سید شیراز

عنوان سے ظاہر ہے کہ صاحب مضمون دیوار برلن یا دیوار چین پر کچھ لکھنے کی خواہش رکھتے ہے۔
لیکن ایسا نہیں ہے۔
ارے نہیں آپ غلط سوچ رہیں میں مشرقی اور مغربی تہذیب کے درمیان حائل دیواروں کی بات بھی نہیں کر رہا۔
دیوار مہربانی۔۔۔۔۔؟ نہیں صاحب
تو ضرور اس دیوار کی بات ہوگی جو بٹوارے کے وقت ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کھڑی کی گئ یا عموما والد کی وفات کے بعد جائیداد کے جھگڑے پر دو بھائیوں کے مشترکہ مکان میں کھڑی کی جاتی ہے۔
نہیں…..ہر گز نہیں صاحب اکییسویں صدی کا دور ہے تبدیلی کا دور ہے اور زمانہ جدت کی طرف جا رہا ہے۔ دنیا ہتھیلی میں سمٹ کر آگئ ہے۔ قلم کی جگہ سمارٹ فون کے ٹائیپنگ پیڈ نے لی اور خوشخطی اب قلم کی نہیں فونٹ کی دیکھی جاتی ہے۔
دیواریں تبدیل ہو چکی ہیں…لیکن تبدیلی بتدریج ہے۔ لیکن اس تبدیلی کے دور میں بھی نئ دیوار کو قبول کرتے ہوئے بھی پرانی دیوار کا استعمال جوں کا توں ہے۔
جی میں بات کر رہا ہوں۔ عوامی بیت الخلاء کی دیواروں کی اور جدید دور میں مارک زک برگر کی جانب سے متعارف کردہ فیس بک وال کی۔
جناب والا کل ائیرپورٹ کے ٹوائلٹ میں جانے کا اتفاق ہوا اور یہ اتفاق اکثر ہوتا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔
تو ہوا یوں کہ ایک تحریر نظر سے گزری جس میں صاحب تحریر “یشوا” کی محبت کو ہی اصل محبت قرار دے رہے تھے۔ پینٹ گھٹنوں سے زرا نیچے تک کیئے بیٹھے۔میں اس اظہار محبت کی شدت کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔بہرحال شدت کو شدت سے محسوس کرنے پر فطری عمل با آسانی طے ہوگیا۔ اور میر تجسس ابلاغ عامہ کے اس نادر نمونہ کے محرکات کی تلاش میں لگ گیا۔
“یشوا” سے اس محبت کا اظہار فیس بک اور بیت الخلاء دونوں کی دیواروں پر اسی شدت سے کیا گیا تھا۔ مطلب پیغام پہنچانا مقصود تھا۔
لیکن ماہرین کی رائے لینا ضروری تھی۔ تو دور جدید کے اصل ماہر گوگل بابا سے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہے؟
جواب میں گوگل بابا نے ہزاروں پیج یوں فراہم کیے جیسے مجھے کسی “مولوی ٹوکے” کی طرح مناظرہ میں پوری تیاری سے شرکت کرنا ہو۔
لیکن ایسا کب شروع ہوا کا جواب یوں ملا کہ پہلی صدی عیسوی میں مارشل نامی رومن شاعر نے اپنے مخالف کو سیخ پا کرنے کے لیے اسے تجویز دی کہ اگر وہ اپنی “شاعری” کو منظر عام پر لانا چاہتا ہے تو انہیں غسلخانوں کی دیواروں پر لکھ چھوڑے۔
ایسی ہی تجویز مخالفین دور جدید میں ایک دوسرے کو شاعری فیس بک وال پر لکھ چھوڑنے کی دیتے ہیں۔( شاعروں سے معذرت)
تاہم ثابت ہوا کہ اٹھارویں صدی اور اکیسویں صدی کے شعرا مخالفت میں سیخ پا ہو کر ایک جیسے مشورے دیتے پائے گئے ہیں۔
مغرب میں دیواروں پر لکھنے یا نقش و نگار بنانے کو گریفیٹی کہتے ہیں اور ہمارے ہاں وال چاکنگ کہا جاتا ہے۔
سیاح حضرات عموما اپنی حاضری کے ثبوت پر تاریخی مقامات پر اپنا نام لکھ کر اپنی موجودگی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔
موجودگی کے احساس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سزاے موت کہ ایک مجرم نے اپنی آخری خواہش میں جس بیم پر پھندہ لٹکایا گیا تھا۔ اس پر پہلی نظر پڑھنے والے مقام پر اپنی موجودگی کو امر کرنے کے ” آلیکس واز ہیر” لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ بعد میں آنے والے مجرم آخری لمحات میں آلیکس کی موجودگی کو محسوس کر سکیں۔
شہر کی دیواروں پر لکھے سیاسی نعرے بیت الخلا کی دیوار پر بھی پڑھنے کو ملتے ہیں ۔اور یوں” منزل نہیں رہنماء چاہیے” اور “تبدیلی آ رہی ہے” کا نعرہ ۔شیر شیر کرتا آخر فیس بک کی وال پر شئیر ہو جاتا ہے۔
لیکن اکثر گھٹیا جملوں۔غلیظ گریفیٹی اور جنسی خواہشات کے اظہار کے پیچھے گمنام چہرے اور گمنام آئی ڈیز ہوتی ہیں۔ اور پکڑے نا جانے کے احساس سے یہ تحریریں سامنے آتی ہیں۔
تحریروں کے بھی کیا کہنے۔
یہاں بڑوں بڑوں۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کیا چیز ہو
نفیسہ ائی لو یو۔۔۔۔
زور آزمائیے۔
اور بعض اوقت تو دو بڑی بڑی آنکھیں بنا کر آپکے فطری عمل کو غیر محفوظ کر دیا جاتا یے۔
خود ہی سوچیے اگر بیت الخلاء میں بیٹھے آپکی نظر اس جملے پر پڑے ۔
خبردار کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے تو آپکی کیا حالت ہو گی۔
لیکن المیہ یہ ہے کہ جس قبیل کا گھٹیا بیانیہ بیت الخلاء کی دیواروں پر دیکھنے کو ملتا تھا اب گمنام ائی ڈیز سے وہ معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
قیامت اس دن ہوگی جب یہ ائ ڈیز گمنام کے بجائے واضح شناخت سے اپنے پیغام جاری کریں گی۔