واشنگٹن سے پہلے بھی ہمارا وجود رہا،امریکا سے بھیک مانگتے ہیں نہ اسلحہ مفت لیا، سعودی ولی عہد

ریاض(دوست نیوز) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے بیان کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہم سعودی قوم کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیےامریکا سےبھیک نہیں مانگتے ، سعودی عرب امریکا سے اسلحہ مفت میں نہیں لیتا بلکہ اپنے پیسوں سے خریدتا ہے، سیکورٹی کے لئے امریکا کو پیسے نہیں دیں گے، سعودی عرب اپنے مفادات کی حفاظت کی صلاحیت رکھتا ہے، ریاض واشنگٹن کو سعودی عرب کی سکیورٹی کے لیے احسان مند نہیں ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ کوئی بھی دوست اچھی باتیں بھی کہے گا اور بری بھی۔ آپ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ دوست آپ کے بارے میں ہمیشہ سو فیصد اچھی باتیں ہی کریں گے۔ امریکی اخبار کو ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ٹرمپ کیساتھ بہترین تعلقات قائم ہیں، اور ان تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد ہم نے اپنی اسلحہ پالیسی پر نظرثانی کی آئندہ 10 سال تک ہم سعودی عرب کی ضرورت کا60 فی صد اسلحہ امریکا سے خریدیں گے۔ اسی لیے ہم نے 400 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے ہیں۔سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ سعودی عرب امریکا کے قیام سے بھی 30 سال پہلے موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما 8 سال تک اقتدار پر فائز رہے اور انہوں‌ نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا اس کے باوجود ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ خود کیا اور ہم کامیاب رہے اور امریکا ناکام ہوا اس کی مثال مصر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ٹرمپ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے محمد بن سلمان نے کہا کہ یہ امریکا اور سعودی تعلقات میں ʼ99 اچھی چیزوں میں ایک بری چیز ہے۔محمد بن سلمان کا کہنا تھا، ’’یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ کوئی بھی دوست اچھی باتیں بھی کہے گا اور بری بھی۔ آپ یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ دوست آپ کے بارے میں ہمیشہ سو فیصد اچھی باتیں ہی کریں گے۔ دوستوں کے مابین غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں تو اس بیان کو ہم اسی درجے میں رکھیں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ سعودی عرب نے کبھی بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تعین میں مداخلت نہیں کی، ایران کو تیل کی منڈی تک رسائی سے روکیں گے۔ ریاض نے واشنگٹن کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تہران پر پابندیوں کے بعد خام تیل کی قلت پوری کرنے کے لیے سعودی عرب کردار ادا کرے گا اور اب یہ وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔ سعودی ولی عہد کے مطابق، ’’پابندیوں کے بعد ایران نے تیل کی درآمد میں یومیہ سات لاکھ بیرل کمی کر دی تھی، سعودی عرب اور اوپیک کے رکن ممالک اب یومیہ 1.5 ملین بیرل اضافی تیل فراہم کر رہے ہیں۔ یوں عملی طور پر ہم نے خام تیل کی فراہمی دو گنا کر دی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کہ عرب ممالک میں ایک اور حزب اللہ کو سر نہیں اٹھانے دیں گے امید ہے کہ یمن جنگ بہت جلد اختتام پذیر ہوگی۔ ہم آبنائے ہرمز پر حزب اللہ اور ایران کا کنٹرول گوارا نہیں کریں‌ گے یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کی جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہر جنگ میں غلطیاں ہوتی ہیں المناک واقعات کا جلد حل نکالا جائے گا۔ یمن کی جنگ دراصل قومی سلامتی کی جنگ ہے ہم چاہتے ہیں کہ عرب ممالک کی قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا نہ کیے جائیں مگر جب ایسا ہوتو ان خطرات کو دور کرنے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس پاس جنگ کےسوا کوئی چاری نہیں رہتا۔گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ سعودی حکمران امریکی عسکری امداد کے بغیر دو ہفتے بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے، اس لیے ریاض کو امریکا کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ کے بدلے میں رقم ادا کرنا چاہیے