فرانکو کے دور آمریت میں نوزائیدہ بچوں کوچوری کرنے والا ہسپانوی ڈاکٹر سزا سے بچ گیا

اسپین کی عدالت نے ماؤں سے نومولود کو چوری کر کے بے اولاد جوڑوں کو سپلائی کرنے والے ‘مجرم’ ڈاکٹر کو بری کردیا۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 85سالہ گائنا کولوجسٹ ایڈوارڈو ویلا نے جرم کا ارتکاب کیا لیکن انہیں قانونی طور پر انہیں سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ کافی وقت گزر چکا ہے۔ڈاکٹر ویلا پہلے شخص ہیں جن پر فوجی آمر جنرل فرانکو کے دور اور اس کے بعد غیر قانونی طور پر بچے گود لینے کا مقدمہ چلایا گیا۔
اسپین میں 1936 سے 1939 کے دوران جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد اقتدار میں آنے والے فوجی آمر فرانکو کے فاشست دور میں سیاسی مخالفین اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے خاندانوں سے بچوں کو چھین کر ان لوگوں کو دے دیا گیا تھا جن کو حکومت نے بچوں کا زیادہ مستحق سمجھا۔مقدمہ کرنے والی اینس میڈریگل کو بھی اغوا کیا گیا تھا اور 1969 میں بچے کے طور پر غیرقانونی طور پر گود لدیا گیا۔ تھا، بعد ازاں انہوں نے ویلا کے خلاف 2012 میں مقدمہ کردیا۔ان کو گود لینے والی ماں اینس پیریز نے اپنی موت سے قبل بیان دیا تھا کہ ویلا نے انہیں بچہ تحفتاً دیا تھا کیونکہ وہ اور ان کے شوہر بے اولاد تھے جبکہ بعدازاں ڈین این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ میڈریگل ان کی اولاد نہیں تھیں۔
1987 میں بالغ ہونے والی میڈریگل نے آئندہ 25سال تک عدالت سے رجوع نہیں کیا لہٰذا مقدمے کی 10سالہ قانونی حد ختم ہونے کے سبب وہ اپنے دعوے کے مطابق حق حاصل نہیں کر سکیں۔جس وقت مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا، تو میڈریگل تو عدالت میں موجود تھیں لیکن ویلا نہیں آ سکے۔انہوں نے اپنے وکیل کے ہمراہ مقدمہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ ستے رجوع کریں گی تاکہ ڈاکٹر ویلا کو ان کے جرم کی سزا مل سکے۔پراسیکیوٹر نے ڈاکٹر ویلا کو 11 برس سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ویلا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہیں اب آپریشن کے کام کا طریقہ کار یاد نہیں، جو انہوں نے 1982 میں بند کرنے سے قبل 20 سال تک چلایا گیا۔میڈرڈ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر ویلا کو اغوا، دوران حمل فراڈ اور دستاویز میں تبدیلی کا مرتکب قرار دیا۔
میڈریگل نے عدالت سے باہر آ کر ملے جلے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خوش ہوں کیونکہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ مجھے اغوا کیا گیا تھا اور ڈاکٹر ویلا نے مجھے اغوا کیا تاہم انہوں نے ڈاکٹر ویلا کے بری ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا۔اسپین میں بچوں کے اغوا کا اسکینڈل فرانکو کے اقتدار کے ابتدائی دور سے کئی دہائیوں تک جاری رہا اور 1990 کی دہائی تک اس جرم کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔اسپین میں رومن کیتھولک چرچ اور طب کے شعبے کو مقدس اور قابل احترال تصور کیے جانے کے سبب کئی دہائیوں تک یہ اسکینڈل سامنے ہی نہیں آسکا جبکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی اسپین کے قانون میں بچے کو جنم دینے والی ماں کے نام کی پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر ضرورت نہیں ہوتی۔اس اسکینڈل میں چرچ کا بھی اہم کردار رہا جسے فرانکو کے دور میں ہسپتال، اسکولوں اور چلڈرن ہومز وغیرہ میں اہم ذمے داریاں ملتی رہیں۔نن اور پادری ان ماں باپ کی فہرست تیار کرتے جنہیں بچوں کی ضرورت ہوتی جبکہ ڈاکٹرز کا اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے کیونکہ وہ بچوں کے حوالے سے ماؤں سے جھوٹ بولتے کہ ان کے بچے مر چکے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب 2008 میں معاملے کی تحقیقات کرنے والے جج بلتاسر گیرزون نے دعویٰ کیا کہ فرانکو کے دور میں سیاسی مخالفین کے تقریباً 30 ہزار بچوں کو ان کے اہل خانہ سے چرایا گیا۔اس دوران تین3 ہزار کے لگ بھگ بچوں کے مبینہ اغوا کے واقعات سامنے آئے لیکن تفتیش کاروں نے ان مقدمات کو بند کردیا۔1975 میں فرانکو کی موت کے بعد اسپین میں جمہوریت کی آمد ہوئی لیکن اس کے باوجود کم از کم 1987 تک ملک سے بچوں کے اغوا کا سلسلہ جاری رہا۔