کھلا خط بنام وزیراعظم پاکستان و قونصل جنرل عمران علی چوہدری

وزیرآعظم پاکستان اور قونصل جنرل عمران علی چوہدری کے نام ایک پیغام اور لمحہ فکریہ
میں عام آدمی سپین بارسلونا سے
یہاں پر اتنی یونین بنی ہیں
ایسوسی ایشنز ہیں
پریس کلبز ہیں
گروپ بندی ہے
پوچھو مت سب اپنے آپ میں گم ہیں
دینی مذہبی جماعتیں
کھیل سے منسلک جماعتیں
لیکن کسی نے اس پوائنٹ کو نہیں اپنایا
کہ ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ کریں
سب ایک دُھن میں مست ہیں
کوی بھی اس طرف دھیان نہیں دے رہا کہ
اسپین میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کو سکول چاھیے جہاں بچوں کو اپنے ملک کی تہذیب پہچان دین تاریخ کا کچھ پتہ چل سکے میں نے بہت ملک دیکھے تقریباً ہر ملک میں پاکستان ایمبیسی اسکول ہے اور یہاں دور دور کوئی بھی نہیں جبکہ یہاں دوسری نسل کے بعد تقریباً تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے مگر یہاں کچھ بچوں کو اپنے قائد اعظم علامہ اقبال یا کسی قومی دن تہوار کا پتہ نہیں دین کا کچھ پتہ نہیں وہ مکمل یہاں کی تہذیب میں گُھل مل رہے ہیں سپین میں کم و بیش اسی نوّے ہزار پاکستانی بستے ہیں اور اندازے کیمطابق پندرہ ہزار بچے تو ہوں گے جن کو کچھ اپنے ملک کا پتہ نہیں نہ ہی کوئی اس طرف دھیان دیتا۔ سب اپنا نام اونچا کرنے میں لگے ہیں نا دین نا مُلک بس کاروبار بچے سکول جا رہے ہیں لیکن کیا سیکھ رہے ہے کسی کو کوئی فکر نہیں سب اپنے حال میں مست ہیں
جبکہ یہاں کافی ملکوں کے سکول ہیں لیکن ہمارا کوئی نہیں تو خدارا آنے والی نسل کے لیے آپ کو اس طرف دھیان دینا ہو گا قونصل جنل عمران صاحب سے گزارش ہے کمیونٹی میں اور سب سے پہلے یہ کام سر انجام دیا جاۓ جہاں بچیوں کی عزت ہو اور علیحدہ پڑھے بچوں سے دوسرے ملکوں کے بچوں سے خُدارا اس کام میں دیر نا کی جاۓ آپ یہ کام نہیں یہاں پر بسنے والے نوّے ہزار پاکستانیوں پر نیکی کر جائیں گے ہماری نسلیں شائید کچھ محفوظ ہو جاۓ یہاں پر آپ تفریح گاہوں میں دیکھے پاکستانی بچے اور اُن کا ماحول آپ کو کچھ اقدامات کرنے ہوں گے
میرا یہ پیغام ہر اُس زمہ دار شحص کے لیے ہے جو آنے والے وقت کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں میں آپ کو اصل عوامی منظر بتاتا رہو گا
بشکریہ
عام آدمی