خاشقجی کی موت کے ذمہ داروں کو کڑی سزا دی جائے گی: سعودی ذرائع

سعودی عرب کی حکومت کے ایک ذمہ دار ذرائع نے باور کرایا ہے کہ سعودی شہری جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر موت کے گھاٹ اتارنے والے افراد کو سخت سزا دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ خاشقجی کو لڑائی کے دوران مارا گیا۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمال بن احمد خاشقجی کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ خاشقجی کی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد اس کی موت تک تمام پہلوئوں پر تفتیش ہو رہے ہے۔
سعودی عرب نے تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی ٹیم 6 اکتوبر ترکی بھیجی جس نے ترکی کے اداروں کے ساتھ مل کر جمال خاشقجی کے کیس کی چھان بین۔ مشترکہ تحقیقات کے بعد برادر ملک ترکی کے سیکیورٹی اداروں کو بھی قونصل خانے کی تلاشی لینے کی اجازت دی گئی۔
ترک پولیس نے استنبول میں سفارت کاروں کی رہائش گاہوں کی بھی تلاشی لی۔ ان تمام اقدامات کا مقصد جمال خاشقجی کیس کے حوالے سے جاندار تحقیقات کرنا اور حقائق سامنے لانا تھا۔ادھر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ خاشقجی کیس کی ٹھوس تحقیقات کر کے حقائق دنیا کے سامنے پیش کرے۔