ہسپانوی علیحدگی پسند رہنما پوج دیمونت کا نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان

اسپین کے نیم خود مختار علاقے کاتالونیا کے سابق صدر کارلیس پوج دیمونت نے نئی علیحدگی پسند سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً ایک سال قبل کاتالونیا کو اسپین سے الگ کرنے کی پوج دیمونت کی کوشش ناکام ہوئی تھی۔’’کریدا ناسیونال پیر لا ریپبلک‘‘یعنی نیشنل کال فار دی رییپبلک کا اعلان کرتے ہوئے کارلیس پوج دیمونت نے کہا ،’’ہم نے ابھی اپنی کوششیں ترک نہیں کی ہیں اور مستقبل میں بھی یہ جاری رہیں گے‘‘۔ پوج دیمونت آج کل بیلجیم میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ برسلز سے اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کاتالونیا کی اسپین سے آزادی کی حمایت کرنے والوں سے فوری طور پر متحد ہونے کا کہا۔
پوج دیمونت کا خطاب سننے کے لیے بارسلونا کے قریب ’مانریسا‘ نامی مقام میں بڑی تعداد میں ان کے حمایتی اکھٹے تھے۔ پوج دیمونت کی اس تحریک کا مقصد علیحدگی پسند تمام گروپوں کو ایک پرچم تلے اکٹھا کرتے ہوئے’جمہوریہ کاتالونیا‘ کے قیام کی جانب بڑھنا ہے۔ ان کے بقول وہ اگلے انتخابات میں بھی حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سیاسی ماہرین کی رائے میں پوج ڈیمونٹ کی کامیابی کے حوالے سے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ علیحدگی پسند زیادہ تر رہنما یا تو زیر حراست ہیں اور یا پھر جلا وطن۔ دوسری جانب پوج دیمونت کے کئی سابق رفقاء نے ’کریدا ناسیونال پیر لا ریپبلک‘ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے۔
کاتالونیا کے سابق سربراہ کے خلاف اس نیم خود مختار علاقے میں اسپین سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کرانے کے الزام میں ایک ہپسانوی عدالت میں مقدمہ چل رہا، جس میں انہیں 25 برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔انہوں نے گزشتہ برس یکم اکتوبر کو ہسپانوی سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود آزادی کے ریفرنڈم کا انعقاد کرایا تھا۔ اس ریفرنڈم کو اسپین کی قدامت پسند حکومت نے بھی خلافِ ضابطہ قرار دے دیا تھا۔ اس ریفرنڈم کے بعد ستائیس اکتوبر 2017ء کو انہوں نے یکطرفہ طور پر کاتالونیا کی اسپین سے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد میڈرڈ حکومت نے پوج دیمونت کی کابینہ کو برطرف کر دیا تھا، جس کے بعد پوج دیمونت بیلجیم فرار ہو گئے تھے۔