حرمین ایکسپریس۔۔منور راجپوت

بلاشبہ وہ لوگ بڑے ہی قسمت والے ہیں، جنھیں بیت اللہ اور روضۂ رسولﷺ کی زیارت کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ ہمیں بارہا ایسے افراد سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جو ان مقدّس مقامات کی زیارت سے فیض یاب ہوئے اور اُن میں سے ہر اِک کو یہی کہتے پایا کہ’’ وہاں پہنچ کر دِل کرتا ہے کہ اُڑ کر مدینے چلے جائیں‘‘، مگر ایسا ہو نہیں پاتا، کیوں کہ مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منورہ جانے میں چھے، سات گھنٹے لگ جاتے ہیں اور عاشقانِ نبیﷺ پر یہ گھنٹے کس طرح صدیاں بن کر گزرتے ہیں، اُس کا حال بس وہی جانتے ہیں، جو اس کیفیت سے گزرتے ہوں۔ تاہم، سعودی حکومت نے اب اس فاصلے کو’’ بُلٹ ٹرین‘‘ کے ذریعے بہت حد تک سمیٹ دیا ہے۔
ہر برس دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج اور عُمرے کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ اگر ہم گزشتہ حج کی بات کریں، تو سعودی محکمۂ شماریات کے سربراہ، فھد بن سلیمان التخیفی کے مطابق’’ حجّاجِ کرام کی مجموعی تعداد 18,62,909 رہی، جن میں 13,25,372 حجاج بیرونِ مُلک سے آئے، جب کہ اندرونِ مُلک کے حاجیوں کی تعداد 5,37,537تھی۔ ان حجّاج میں 10,82,228مَرد اور7,80,681خواتین تھیں۔‘‘ اسی طرح دنیا بھر سے سالانہ 60 لاکھ کے قریب افراد عُمرے کے لیے آتے ہیں۔ سعودی عرب کے’’ وژن 2030 ء‘‘ کے تحت عازمینِ حج کی سالانہ تعداد میں 13 فی صد اور عُمرہ زائرین میں 30 فی صد تک اضافہ متوقّع ہے۔ سرکاری طور پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ اندرون اور بیرونِ مُلک سے 2020ء تک حجّاجِ کرام کی تعداد بڑھ کر پچیس لاکھ اور عُمرہ زائرین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہو جائے گی۔ حج اور عُمرے کے لیے آنے والے یہ افراد، مکّہ معظّمہ کے ساتھ، روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ بھی جاتے ہیں، جب کہ ان دونوں مقدّس شہروں کے درمیان کئی ایسے مقامات بھی ہیں، جن کی زیارت کی جاتی ہے۔ پھر یہ کہ حجّاجِ کرام یا عُمرہ زائرین کے پاس محدود وقت ہوتا ہے، جس میں وہ زیادہ سے زیادہ فیّوض و برکات سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ایک عرصے سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ مکّہ معظّمہ اور مدینۃ المنورہ کے درمیان تیز رفتار ریل سروس شروع کی جائے تاکہ ساڑھے چار سو کلومیٹر کا فاصلہ تیزی اور سہولت سے طے ہوسکے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر سعودی حکومت نے 2012 ء میں مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے پر کام کا آغاز کیا، جس کے تحت ان دونوں شہروں کے درمیان بُلٹ ٹرین چلائی جانی تھی۔ چھے سال کی محنت کے بعد یہ منصوبہ، چند ہفتے قبل مکمل ہوگیا اور سعودی فرماں روا، شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 25 ستمبر کو مدینہ منورہ میں منعقدہ ایک پُروقار تقریب میں اس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ حکّام کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً آٹھ ارب امریکی ڈالرز خرچ ہوئے ہیں۔قبل ازیں، ’’ حرمین ایکسپریس‘‘ پہلی بار گزشتہ برس اکتوبر میں تجرباتی طور پر جدّہ سے مکّہ مکرّمہ تک چلائی گئی تھی، جس کے بعد رواں برس یکم جون کو یہ ٹرین مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منورہ تک گئی، جس میں اعلیٰ سرکاری حکّام کے علاوہ شہریوں کی بھی بڑی تعداد سوار تھی۔ نیز، ریڈیو اور ٹی وی سے اس سفر کی براہِ راست کمنٹری بھی نشر کی گئی۔اس کے بعد دو ماہ تک شہریوں کو تجرباتی طور پر مفت سفر کروایا گیا تاکہ سامنے آنے والے نقائص دُور کیے جا سکیں۔
مقدّس شہروں کے درمیان چلنے والی اس ٹرین کو’’ حرمین ایکسپریس‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منورہ تک کا 450کلو میٹر کا فاصلہ، 300کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دو گھنٹے میں طے کرے گی۔ واضح رہے کہ سڑک کے ذریعے یہ فاصلہ، چھے سے سات گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ یہ ٹرین، جدّہ سے ہوتے ہوئے مدینہ منورہ جائے گی اور اس رُوٹ پر 5اسٹیشن بنائے گئے ہیں، جو مکّہ مکرّمہ، جدّہ سٹی، جدّہ ائیرپورٹ، کنگ عبداللہ اکنامک سٹی اور مدینہ منورہ ہیں۔ حکّام کے مطابق اس رُوٹ پر یومیہ آٹھ ٹرینز چلیں گی، جو 35 بوگیوں پر مشتمل ہوں گی اور اُن میں مسافروں کے لیے 417 نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے، تاہم سال کے آخر تک ٹرینوں کی تعداد 12 تک بڑھا دی جائے گی، جن میں سالانہ چھے کروڑ افراد سفر کریں گے۔ یہ ٹرین مکّے سے جدّہ تک کا سفر 21 منٹ میں طے کرے گی۔ نیز، اس برقی ٹرین کو بجلی کی فراہمی کے لیے چھے پاور ہاؤس قائم کیے گئے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے سربراہ، رومیح الرومیح کا کہنا ہے کہ’’ یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا گیا۔ پہلے مرحلے کی تکمیل میں سعودی اور بین الاقوامی کمپنیز کے اشتراک سے 350 پُل اور پانی کی فراہمی کے لیے 850 چینلز بنائے گئے۔ ٹرین کا رُوٹ بنانے کے لیے 150 ملین کیوبک میٹر ریت اور چٹانوں کو ہٹایا گیا۔ پھر دوسرے مرحلے میں اسٹیشنز بنائے گئے اور آخری مرحلے میں ٹرین کے لیے ٹریک بچھایا گیا، سگنل سسٹم نصب کیا اور ٹکٹس سسٹم کو حتمی شکل دی گئی۔‘‘ سعودی حکومت کے مطابق، جدید ترین ٹرین کو چلانے اور دیکھ بھال کا ٹھیکا 12 سال کے لیے اسپین کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے۔مکّہ مکرّمہ کا ریلوے اسٹیشن حرم شریف سے صرف چار کلومیٹر کی دُوری پر الرصیفہ محلّے میں باب الداخلہ پر بنایا گیا ہے۔5 لاکھ3ہزار مربع میٹر پر پھیلے اس اسٹیشن پر ایک گھنٹے میں 20 ہزار مسافروں کو سفری سہولتیں مہیا کی جاسکتی ہیں، جب کہ مدینہ منورہ کا ریلوے اسٹیشن مسجدِ نبویؐ سے 9 کلومیٹر دُور بنایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر مواصلات، ڈاکٹر نبیل کا کہنا ہے کہ’’اس منصوبے سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے جذبے کی عکّاسی ہوتی ہے۔ اس پراجیکٹ کو’’ وژن 2030 ء‘‘کے تحت بنایا گیا ہے ،جس کا مقصد زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

تُرک دَور میں تعمیر کردہ مدینہ منورہ کا تاریخی ریلوے اسٹیشن
اس منصوبے میں سعودی عرب، فرانس، چین اور اسپین کی کمپنیز نے حصّہ لیا۔ بلاشبہ یہ ایک بہت مشکل اور چیلنجز سے بھرپور منصوبہ تھا، کیوں کہ پہاڑی راستوں، ساحلی مقامات اور دلدلی علاقوں میں ریلوے پٹری بچھانا آسان نہیں تھا۔’’حرمین ٹرین‘‘ سے حجّاجِ کرام اور عُمرہ زائرین کے علاوہ ،عام مسافروں کے لیے بھی مکّۂ معظّمہ اور مدینۂ منورہ کے درمیان سفر انتہائی آرام دہ ہو گیا ہے۔‘‘ حرمین ایکسپریس کے کرایوں کی گیسٹ کلاس اور بزنس کلاس کی صُورت میں درجہ بندی کی گئی ہے۔ مکّۂ معظّمہ سے مدینہ منورہ تک کا کرایہ گیسٹ کلاس کے لیے 150 ریال، جب کہ بزنس کلاس کے لیے 250 ریال مقرّر کیا گیا ہے۔ مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر آن لائن ٹکٹنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، جب کہ اسٹیشنز پر جدید ریستوران بھی بنائے گئے ہیں۔ پروجیکٹ مینجر، محمّد فلاتح کا کہنا ہے کہ’’ یہ ٹرین مسافروں کو قابلِ اعتبار اور تیز سروس فراہم کرے گی۔ لوگ کُتب بینی کرتے اور برنس کلاس میں ٹی وی دیکھتے ہوئے سفر کر سکیں گے۔‘‘نیز، سعودی حکّام کا خیال ہے کہ اس ٹرین سروس سے’’کنگ عبداللہ اکنامک سٹی‘‘ میں بھی سیّاحوں کی آمدورفت بڑھ جائے گی،جس سے قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح حرمین ایکسپریس کو جدّہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک نئے ٹرمینل سے بھی منسلک کرنے کا منصوبہ ہے، جو ڈومیسٹک فلائٹس کے لیے تو کھول دیا گیا ہے، تاہم اس ٹرمینل کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے اگلے برس سے استعمال کیا جائے گا۔ وزیرِ مواصلات کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ اگلے مرحلے میں اس ٹرین کے ذریعے ریاض کو جدّہ سے ملا دیا جائے گا۔‘‘

دنیا کی تیز رفتار ٹرینز
دنیا بھر میں عوام کے لیے ریل گاڑی کے سفر کو سستا اور آرام دہ تصوّر کیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترقّی یافتہ ممالک کے درمیان تیز رفتار ریل گاڑیاں چلانے کا ایک مقابلہ سا جاری ہے۔ اس دَوڑ میں اس وقت سب سے آگے چین ہے، جہاں ٹرینز 500 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہیں، تاہم اُنھیں 350 سے 450 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلایا جاتا ہے۔ نیز، چین ایک ایسی ٹرین کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے، جو ڈھائی ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے دَوڑے گی۔ یعنی کراچی سے لاہور جتنا فاصلہ صرف 31 منٹ میں طے کر لے گی۔ پھر جاپان کی بُلٹ ٹرینز بھی اپنی تیز رفتاری کے سبب دنیا بھر میں مشہور ہیں، جو عموماً 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دَوڑتی ہیں۔ حال ہی میں جاپان میں’’ میگلیو ٹرین‘‘ نامی ایک انتہائی تیز رفتار ٹرین کا کام یاب تجربہ کیا گیا، جو 603 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی، لیکن فی الحال اسے 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلایا جا رہا ہے، تاہم حکّام کے مطابق 2027ء میں اسے اصل رفتار سے چلایا جائے گا۔علاوہ ازیں، فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، تُرکی، جنوبی کوریا،آسٹریا ، تائیوان وغیرہ میں بھی ٹرینز کا 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنا عام بات ہے۔ گرچہ طبیعت پر گراں تو گزرے گا، لیکن یہ بھی پڑھتے جائیے کہ پاکستان میں ریل گاڑیوں کی رفتار عام طور پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، لیکن یہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں۔

تاریخی حجاز ریلوے
عثمانی خلیفہ، سلطان عبد الحمید ثانی نے حجّاجِ کرام اور عمرہ زائرین کی سہولت کی خاطر 1900ء میں دمشق سے مکّہ مکرّمہ تک ریلوے لائن بچھانے کا اعلان کیا اور آٹھ برسوں کی جان توڑ جدوجہد کے بعد دمشق سے مدینہ منورہ تک 1320 کلومیٹر طویل ریلوے لائن بچھادی گئی، جسے بعدازاں مکّہ مکرّمہ تک توسیع دینے کا ارادہ تھا، مگر کچھ عرصے بعد ہی پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی، جس کے سبب منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔ یہ ٹرین دمشق سے عفولہ، عمان، یزع، قطرانیہ، معان، غیر الحیی، بطن الغول، المدورہ، تبوک، الاجدر، المعظم، دار الحمراء، مدائنِ صالح، العلا اور ہدیہ سے ہوتی ہوئی مدینہ منورہ جاتی تھی۔ اس منصوبے پر اندازاً ڈھائی ملین پاؤنڈز خرچ ہوئے، جب کہ جرمنی نے تیکنیکی معاونت فراہم کی۔دراصل یہ منصوبہ ’’ برلن، بغداد ریلوے‘‘ کا حصّہ تھا، جس کے تحت پورے خطّے کو آپس میں جوڑنا تھا ۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عثمانی خلیفہ نے اس منصوبے کے لیے دنیا بھر کے مسلمانوں سے چندے کی اپیل کی تھی اور سب سے زیادہ چندہ، مسلمانانِ ہند کی جانب سے دیا گیا۔ چوں کہ بعض عناصر اس منصوبے کو تُرک، عرب تنازعے کا رنگ دے رہے تھے، سو جنگِ عظیم کے دوران حجاز میں تُرک حکم رانوں کے خلاف بغاوت ہوئی، تو لارنس آف عریبیہ کی قیادت میں قبائلیوں نے اس ریلوے لائن کو جگہ جگہ سے اکھاڑ دیا اور گاڑیوں اور انجنز کو تباہ کردیا گیا۔ یوں 1920 ء میں بھاپ کے انجن سے چلنے والی یہ ٹرین سعودی علاقے میں تو بند ہوگئی۔ تاہم ،دیگر کئی علاقوں میں چلتی رہی۔ 1960ء میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی اپنے سوا تین ماہ پر محیط’’ سفرِ ارضِ قرآن‘‘ کے سلسلے میں کئی علاقوں میں اسی ٹرین کے ذریعے پہنچے تھے، جب کہ بی بی سی کی 2006ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اُن دنوں بھی شام اور اُردن کے کچھ علاقوں میں یہ ٹرین چلتی تھی، تاہم، جنگ سے تباہ حال مُلک میں اب یہ تاریخی ریل سروس کس حال میں ہے، کچھ علم نہیں۔ آج بھی حجاز ریلوے کی نشانیاں پورے عرب میں بکھری پڑی ہیں۔ خصوصاً مدینہ منورہ میں واقع، حجاز ریلوے کا آخری اسٹیشن اس عظیم منصوبے کی داستان سُنانے کے لیے کافی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ریلوے اسٹیشن اُس مقام پر بنایا گیا تھا، جہاں نبی کریم ﷺ نے غزوۂ بدر کے موقعے پر اپنا خیمہ لگایا تھا اور اہلِ مدینہ کے لیے خیر وبرکت کی دُعا فرمائی تھی۔ سعودی محکمۂ سیّاحت و آثارِ قدیمہ نے اسی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس اسٹیشن کی عمارت کو عجائب گھر میں تبدیل کردیا ہے