آسیہ بی بی کیس اور عوامی رائے(بارسلونا کے لوگ کیا سوچتے ہیں)..سید شیراز

قارئین اکرام۔
آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں سے زاتی ملاقاتوں میں۔ ریڈیو ایپ پر لائیو ڈسکشن اور فیس بک پر اپنی پوسٹ پر اٹھائے گئے چند سوالات پر مفید تبصروں ، تمام مذہبی سکالرز کی اس حوالہ سے گفتگو اور ہیومین اور پولیٹیکل ایکٹویسٹ کی فیس بک لائیو پر کی جانے والی گفتگو کے بعد جو چیزیں سامنے آئی ہیں وہ کچھ یوں ہیں۔

لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس معاملہ پر خاموش رہنا چاہتی ہے۔جب ان سے اس بارے میں بات کی گئ تو انکا کہنا تھا کہ اسکی ایک وجہ خوف ہے۔
خوف کی بھی تین مختلف اقسام سامنے آئیں۔
پنجاب گورنمنٹ میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے کام کرنے والے اور اعلی تعلیم یافتہ دوست #عمر_فاروق بولنے کی جرات رکھتے ہوئے بھی اس لیے خاموش ہیں کہ ان کے دل میں کہیں نا کہیں یہ ڈر ہے کہ اگر کسی کو بے گناہ یا گناہ گار کہنے میں کوئی رائے دی اور اگر حقیقتا ایسا نا ہوا تو وہ قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کیسے پیش ہونگے۔
#قدیر_حسین_چوہدری اتنے حساس موضوع پر بات کرنا رسک سمجھتے ہیں۔انہیں یہ خوف بھی لاحق ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی نے انہیں کافر کہہ دیا تو یہ بات کسی تازیانے سے کم نا ہو گی ۔اور یہ بات ان کے لیے ناقابل برداشت ہوگی
ذاتی ملاقات میں ٹیکسی سیکٹر کے ایک دوست نے کہا کہ پاکستان میں ایسی بات کرنے کے نتائج وہی ہیں جو گورنر سلمان تاثیر کو بھگتنا پڑے ۔یعنی شدت پسندی اور جان کا خطرہ
طب کے مقدس شعبہ سے منسلک مصنف اور #ڈاکٹر_عرفان_مجید_راجہ اسے ہماری 70 سالہ ریاستی پالیسیز کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔اور اپنے ہی بوئی فصل کاٹنا کہتے ہیں۔ اسکا حل پیش کرتے ہوئے وہ ترک ماڈل اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پولیٹیکل اور ہیومین ایکٹویسٹ۔ کاتالونیا کی سیاسی جماعت سیودادانس کے متحرک رکن #طاہر_رفیع اسے لیڈر شپ کا فقدان سمجھتے ہیں۔انکے مطابق قائداعظم کے بعد آج تک کوئی حقیقی لیڈر نہیں ملا۔اور ان واقعات اور اس پر عوامی ردعمل کو وہ مذہبی جماعتوں کا ناکام ہونا سمجھتے ہیں۔اور شعوری بیداری کا سہرا میڈیا کے سر پہناتے ہیں۔
#مسٹر_شکیل_ملک۔ پولیٹیکل اینڈ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ نے بہت جامع بات کی۔انکا کہنا ہے دس سال قبل کے مقابلے میں اب مذہبی شدت پسندی کا خوف کم ہے اور ججز کے فیصلے اور عوام کا اس فیصلے کے حق میں کھڑا ہونا اس کا ثبوت ہے۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مولوی خادم رضوی کو ماضی میں ایک خاص ایجنڈے کے تحت آگے لایا گیا اور شائد اب ان کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو سب سے ذیادہ ضرورت معاشی حالت بہتر بنانے کی ہے اور اس کے لیے آسیہ بی بی کو چھوڑنے کے علاوہ مذید اقدامات بھی کرنے پڑے تو حکومت کرے گی۔اوورآل وہ حالات کو بہتری کی جانب جاتا دیکھتے ہیں لیکن پالیسی سازوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔
#عثمان_اعوان۔پاکستان میں مذاہب پر دسترس رکھتے ہیں ۔وہ اس احتجاج میں ہونے والی شدت پسندی کو “تنگ آمد بجنگ آمد ” قرار دیتے ہیں ، اسے حکومت کی جانب سے جیوڈیشل سسٹم میں موجود خامیوں پر ردعمل کہتے ہیں ۔گو وہ بھی ہر قسم کی شدت پسندی کے خلاف ہی نظر آتے ہیں۔
اور کسی بھی مسلمان کی طرح نبی اخرالزمان (ص) کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قرار واقعی سزا دینے کی بات کرتے ہیں۔ اور اس قسم کی مادر پدر آزادی اظہار رائے کو مکمل طور پر ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پر” شدت پسندی” کو لبرلز کی طعنہ زنی قرار دیتے ہیں۔
دنیا نیوز سے منسلک کہنہ مشق صحافی #ڈاکٹر_قمرفاروق قران پاک کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں۔
“ورفعانا لک ذکرک” ترجمہ ” اور ہم نے آپ کا زکر بلند کیا” اور یہ زکر (بے شک) بلند ہی رہے گا۔ انکا کہنا ہے کہ یورپ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو بھی امہ نے احتجاج کے زریعے روکا اور خاکوں کی اشاعت روک دی گئ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مسلمان جسکی جان و مال سے زیادہ عزیز پیارے نبی(ص) کی زات اقدس ہے ۔ اس کا جذبات میں آنا ایک فطری عمل ہے۔
تاہم شدت پسندی اور توڑ پھوڑ کے وہ بھی سخت خلاف ہیں اور اسے ملک میں قانون کا احترام اور خوف نا ہونا قرار دیتے ہیں۔
یونیورسٹی اف انجئیرنگ اور ٹیکنالوجی کے ہونہار طالب علم #زین_الحسن اسے جیوڈیشل سسٹم کی ناکامی اور طے شدہ فیصلے قرار دیتے ہیں۔
اور سیکولر طبقات کو مذہبی جذبات بھڑکانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ آج تک ثابت ہونے پر بھی توہین کے مرتکب کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئ ہے۔ حل کے طور پر وہ جمہوری نظام کے بجائے درست اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔
بارسلونا میں مقیم سوشل میڈیا ایکٹویسٹ #اسجدبٹ کا کہنا ہے کہ مذہبی و سیاسی جماعتیں اس قانون کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اور عوام گھیراو جلاو اور دھرنے کی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔اور سوال پوچھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ دوسرے اسلامی ممالک اس قانون کے نفاز پر خاموش ہیں۔
بارسلونا کے ایک کاروباری اور مذہب سے گہرا تعلق رکھنے والے دوست #فاروق_شائق_سانگو اسے دین سے دوری قرار دیتے ہیں۔ اور اس قانون کے پروسیجرل پہلووں کو زیر بحث لانے کی بات کرتے ہیں۔
صوفی ازم اور مذہب سے گہری وابستگی رکھنے والے دوست #حاجی_عامر_کمالی کا کہنا ہے کہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو ناصرف اس قانون کے پروسیجرل پہلووں پر غور کرنا ہو گا بلکہ عائمہ اکرام کے رائے اور امام ابو حنیفہ (رض) کی رائے اور درج کردہ قوانین کے تحت دیکھنا ہو گا۔
قارئین اکرام ان تمام احباب کے علاوہ ان دنوں انٹرنیٹ پر تمام جید عالموں کے خطبات اور ارشادات سننے کا موقع ملا۔
#علامہ_طاہرالقادری فرماتے ہیں کہ غیر مسلم عورت کے سزا کے معاملے کو دیکھنا ہو گا۔
اہانت کے مرتکب شخص کا اہانت سے انکار اگر کوئی ڈاکومنٹڈ ثبوت نہیں ہے تو مانا جانا چاہیے۔
دعوت اسلامی کے امیر #الیاس_قادری صاحب غیر مسلم کو توبہ اور اسلام کی دعوت سے دینے کی بات کرتے ہیں۔
#جاوید_غامدی صاحب قران و سنت کے مطابق 5 سزاوں کا زکر کرتے ہیں اور اس قانون کو تعزیرات پاکستان کا حصہ سمجھتے ہوئے اسکے پروسیجرل پہلووں پر غور کی بات کرتے ہیں۔اس حوالہ سے وہ اختلاف عام علماء کی نسبت زیادہ رکھتے ہیں۔
تاہم تمام مذہبی، سیاسی ۔سماجی اور عوامی طبقات پرتشدد کاروائیوں کی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔
اس معاملہ کے حل کے بارے جو آراء سامنے آئیں ہیں وہ سپریم کورٹ کے کیس میں جن وجوہات کی بناء پر رہائی کا حکم ملا ہے اس پر تجربہ کار وکلاء کی زیر نگرانی قانونی حل نکالنا ہی قرار پایا ہے۔ اور ایک بڑے طبقہ کی رائے یہ ہے کہ مذہبی جماعتیں صرف فیصلے پر احتجاج نا کریں بلکہ عملی طور پر اس کیس کا مکمل حصہ بنیں تاکہ دوران کیس کمزور شہادتوں اور بیانات کی بابت کی جانے والی باتیں انہیں کوئی طے شدہ منصوبہ نا لگیں بلکہ وہ ہر قسم کے فیصلے کے لیے پہلے سے زہنی طور پر تیار ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ کالم کے اختتام پر احباب میری رائے بھی جاننا چاہیں گے۔ تو سب سے پہلے تو میں بتاتا چلوں کہ یہ کالم لکھنے سے پہلے دو رکعات نفل ادا کیے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ قلم کے ساتھ ناانصافی نا ہو۔ اور ہر کسی کی رائے کا مفہوم درست بیان کر سکوں۔اگر کسی کی بات کو غیردانستہ طور پر غلط لکھ دیا ہو تو وہ کامنٹ کے خانے میں اپنی رائے دے سکتا ہے۔ غلطی کی صورت میں پیشگی معافی چاہتا ہوں۔
میری ذاتی رائے کے مطابق سرور کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں تمام قوانین قران وسنت کی روشنی میں بنیں جس پر ناصرف پاکستان بلکہ کل عالم اسلام کو اطمینان ہو۔
موجودہ قانون جو پاکستان میں رائج ہے اور کثیر تعداد میں اسکے پروسیجرل حصہ میں جو بہتری کی بات کی گئ ہے اسے زیر بحث لانا چاہیے۔
آپکی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔ جو دوست اپنی مصروفیات کی وجہ سے رائے نا دے پائے وہ اپنی آراء کا اظہار کامنٹ باکس میں کر سکتے ہیں۔