الجزائر میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی کافی کی 84 فی صد اقسام “مُہلک”؟

افریقی ملک الجزائر میں تحفظ صارفین کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی کافی کے متعدد برانڈز غیرمعیاری ہونے کے باعث انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنطیم “بوس” کے چیئرمین مصطفیٰ زبدی نے ایم سیمینار سے خطاب میں کہا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے مقامی سطح پرتیار ہونے والی کافی کے متعدد برانڈز کا لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا تو ان میں 84 فی صد کافی صحت کے لیے خطرناک نکلی۔
ان کا کہنا تھا کہ کافی کے معیاری ہونے کے لیے 12 علامات مقرر کی گئی ہیں۔ لیبیارٹری میں اس کی کوالٹی کی چیکنگ کے دوران پتا چلا کہ ان میں 12 میں سے 5 علامات منفی ہیں۔ کافی کی ان اقسام میں قانون کے مطابق مقرر کردہ شوگر کی مقدار بھی زیادہ ہے۔ زبدی کا کہنا تھا کہ کافی کی دیسی برانڈز میں الاکریلامیڈ نامی ایک مرکب صحت کے لیے خطرناک ہے اور عالمی ادارہ صحت بھی اسے مہلک قرار دے چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر جلنے سے الاکریلامیڈ نامی مرکب پیدا ہوتا ہے جو صارفین میں کینسر کا موجب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ مرکب آلو اور بھونے گوشت میں بھی پایاجاتا ہے۔