اسپین: ہم بریگزٹ کی منظوری جبل الطارق کے اسٹیٹس کو سمجھوتے سے مستثنیٰ رکھنے کی صورت میں دیں گے

اسپین اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات میں یہ موضوع تاحال حتمی نہیں ہے جس وقت یہ موضوع بریگزٹ سمجھوتے میں حتمی شکل اختیار کر جائے گا ہم بھی سمجھوتے کی منظوری دے دیں گے: جوزف بوریل
اسپین کے وزیر خارجہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ ہم یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ سمجھوتے کی منظوری ،جبل الطارق کے اسٹیٹس کو سمجھوتے سے مستثنیٰ رکھنے کی صورت میں دیں گے۔بیلجئیم کے دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کی وزرائے خارجہ عمومی امور کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد بوریل نے اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم بریگزٹ سمجھوتے کی 184 ویں شق میں تبدیلی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اس شق کے بہت واضح ہونے اور یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات میں جبل الطارق کی حیثیت کو بریگزٹ سے الگ رکھنے کے خواہش مند ہیں۔
جبل الطارق کی حیثیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسپین اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات میں یہ موضوع تاحال حتمی نہیں ہے جس وقت یہ موضوع بریگزٹ سمجھوتے میں حتمی شکل اختیار کر جائے گا ہم بھی سمجھوتے کی منظوری دے دیں گے۔واضح رہے کہ اسپین کے جنوب میں واقع خود مختار علاقے جبل الطارق کی حاکمیت، 1713 میں طے پانے والے اُٹریکٹ معاہدے کی رُو سے ،اسپین کی طرف سے برطانیہ کے حوالے کر دی گئی تھی۔1967 اور 2002 میں منعقدہ ریفرینڈموں میں اکثریتی حمایت کے ساتھ جبل الطارق کے برطانیہ سے منسلک رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ بھی معلوم امر ہے کہ اسپین، جزیرہ نما پر اپنے حق کے موقف پر قائم ہے اور خاص طور پر بریگزٹ کے بعد اپنے اس مطالبے کو زیادہ تقویت دینا چاہتا ہے۔برطانیہ کی زیر حاکمیت اور تقریباً 35 ہزار آبادی والے علاقے جبل الطارق کی اقتصادیات کا انحصار آف شور بینکاری، انٹرنیٹ کے ذریعے سٹے بازی اور سیاحت پر منحصر ہے۔ اسپین کے جنوب میں واقع 6.7 کلو میٹر زمین کا یہ ٹکڑا فوجی اور سفارتی پہلووں کی وجہ سے وقتاً فوقتاً اسپین اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتا رہتا ہے