اسپین بریگزٹ سمجھوتے کو ویٹو کر دے گا: پیدرو سانچز

ہم چاہتے ہیں کہ بریگزٹ سمجھوتے میں جبل الطارق کی حیثیت کا واضح شکل میں تعین کیا جائے اور جزیرہ نما سے متعلق مذاکرات کو صرف اسپین اور برطانیہ پر چھوڑ دیا جائے: وزیر اعظم پیدرو سانچز
اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سینچیز نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے سمجھوتے بریگزٹ میں جبل الطارق کی حیثیت میں تبدیلی کی طلب کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین بریگزٹ سمجھوتے کے موجودہ خاکہ بل کے لئے منفی ووٹ کا استعمال کرے گا۔سانچز نے “اسپین سمِٹ ” نامی تنظیم کے افتتاحی خطاب میں کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ بریگزٹ سمجھوتے میں جبل الطارق کی حیثیت کا واضح شکل میں تعین کیا جائے اور جزیرہ نما سے متعلق مذاکرات کو صرف اسپین اور برطانیہ پر چھوڑ دیا جائے۔انہوں نے کہا ہے کہ اسپین کی حیثیت سے ہمارے لئے ناقابل قبول ہے کہ جبل الطارق کے مستقبل کا انحصار یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات پر رہے۔ اس موضوع پر اسپین اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں۔واضح رہے کہ اسپین کی حکومت کا کہنا ہے کہ بریگزٹ سمجھوتے کی 184 ویں شق کو آخری لمحات میں سمجھوتے میں شامل کیا گیا ہے اور اس نے ہمیں حیران کر دیا ہے لہٰذا سمجھوتے کی منظوری صرف اس شق میں تبدیلی کئے جانے اور جبل الطارق کے اسٹیٹس کو یورپی یونین اور برطانیہ کے باہمی مذاکرات سے باہر رکھنے کی صورت میں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسپین کے جنوب میں واقع خود مختار علاقے جبل الطارق کی حاکمیت، 1713 میں طے پانے والے اُٹریکٹ معاہدے کی رُو سے ،اسپین کی طرف سے برطانیہ کے حوالے کر دی گئی تھی۔1967 اور 2002 میں منعقدہ ریفرینڈموں میں اکثریتی حمایت کے ساتھ جبل الطارق کے برطانیہ سے منسلک رہنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ بھی معلوم امر ہے کہ اسپین، جزیرہ نما پر اپنے حق کے موقف پر قائم ہے اور خاص طور پر بریگزٹ کے بعد اپنے اس مطالبے کو زیادہ تقویت دینا چاہتا ہے۔برطانیہ کی زیر حاکمیت اور تقریباً 35 ہزار آبادی والے علاقے جبل الطارق کی اقتصادیات کا انحصار آف شور بینکاری، انٹرنیٹ کے ذریعے سٹے بازی اور سیاحت پر منحصر ہے۔ اسپین کے جنوب میں واقع 6.7 کلو میٹر زمین کا یہ ٹکڑا فوجی اور سفارتی پہلووں کی وجہ سے وقتاً فوقتاً اسپین اور برطانیہ کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتا رہتا ہے۔