جبرالٹر مذاکرات بریگزٹ ڈیل کی راہ میں آخری رکاوٹ

یورپی یونین کے مذاکرات کار آج جمعے کے روز ایک اہم ملاقات کر رہے ہیں۔ ملاقات کا مقصد اتوار کے روز بریگزٹ ڈیل کی توثیق کے لیے ہونے والے یورپی یونین کے سربراہ اجلاس سے قبل آخری رکاوٹ کو دور کرنا ہے۔ تاہم اسپین کی طرف سے جبرالٹر کے حوالے سے اٹھائے گئے حالیہ اعتراضات کا مطلب ہے کہ سمجھوتے کا حتمی متن آخری لمحے سے قبل تیار نہیں ہو سکے گا۔یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کی مقررہ تاریخ سے چار ماہ قبل بریگزٹ سے متعلق قانونی معاہدہ اور اس حوالے سے سیاسی اعلان تیار ہو چکا ہے۔ اس معاہدے میں فریقین کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا تعین کیا گیا ہے۔ اب اس پر برطانوی وزیراعظم تھریزا مے اور یورپی یونین کے ستائیس رکن ممالک کے سربراہان کی تصدیق باقی ہے۔
اسپین نے انخلا کے معاہدے اور برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے تعلقات کے اعلان میں ترامیم کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اسپین نے واضح کیا ہے کہ جبرالٹر کے متنازع علاقے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ میڈرڈ کے ساتھ براہ راست بات چیت میں کیا جائے گا۔اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر مذکورہ ترامیم نہ کی گئیں تو ان کا ملک یورپی یونین سے برطانیہ کی علاحدگی سے متعلق معاہدے کے مسودے پر اعتراض کرے گا۔یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کے مطابق بریگزٹ ڈیل کو متقفہ توثیق کی نہیں بلکہ اکثریت کے ساتھ توثیق مطلوب ہے لہذا کوئی ایک ملک توثیق میں رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتا۔ البتہ معاملے کے حساس ہونے کے سبب یورپی یونین کے سربراہان تمام ممالک کی رضامندی کے خواہاں ہیں۔
بریگزٹ ڈیل کو برطانوی پارلیمنٹ میں بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اگر برطانوی پارلیمنٹ سے بریگزٹ کی منظوری نہ دی گئی تو لا محالہ برطانیہ کو اقتصادی تبدیلیوں کے بوجھ میں کمی کرنے والی ڈیل کے بغیر ہی 29 مارچ 2019ء کو یورپی یونین سے نکل جانا ہو گا۔یورپی یونین کے ممالک نے تجویز دی ہے کہ اسپین کے تحفظات کو اتوار کے روز ایک علاحدہ بیان میں پیش کیا جانا چاہیے اور اسے برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ مذاکرات کا حصہ نہ بنایا جائے۔