مٹی کا بیٹا۔ (چوہدری امانت مہر )تحریر.سید شیراز

قارئین اکرام اگر آپ کسی خوبصورت مجسمے کو دیکھیں جسے مصور نے بڑی محنت سے تراشا ہو تو آپ داد دیے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔ یہ تعریف نا صرف اس مجسمے کی ہوگی بلکہ اس مصور کے کام کی بھی ہو گی۔
شعر و ادب کی دنیا سے شغف رکھنے والے دوست جب کوئی خوبصورت شعر سن لیں تو داد دیے بغیر نہیں رہ پاتے۔اپنی کچھ عادت ایسی ہے کہ اگر کچھ اچھا سننے کو مل جائے تو داد نا دینا کنجوسی لگتا ہے۔بھلے پھر وہ سخن ور رقیب روسیاہ ہی کیوں نہ ہو۔ داد ضرور دیتا ہوں۔
اسی طرح مختلف شعبوں کے ماہر ایک دوسرے کے ہاتھ کی مہارت کی تعریف کرتے نظر آئیں گے۔
80 کی دہائی میں بھارتی فلموں میں سرمایہ داری نظام کے خلاف ایک جنگ کا سماں پیش کیا جاتا رہا چونکہ وطن عزیز میں بھلے بھارت کے خلاف جیسے بھی جذبات ہوں لیکن انکی فلمیں ہمیشہ سے مقبول رہی ہیں یوں اس دور میں پرورش پانے والوں میں سرمایہ داروں کے خلاف خوامخواہ کی نفرت بھی پلتی رہی بھلے کوئی شخص کتنی ہی محنت اور تگ و دو سے کسی مقام پر پہنچا ہو لوگ اس کی ترقی اور دولت مند ہونے سے نالاں ہی نظر آئے۔
سرمایہ دار کے ساتھ نظر آنا مفاد اور تعریف کر دینا خوشامد ہی کہا گیا، اسی ایک بات کو لے کر ہمیشہ کوشش کی کہ کسی سرمایہ دار کی کبھی تعریف نا کی جائے بھلے وہ کھلاڑیوں کو پروموٹ کرے ۔کرکٹ لیگ کروائے۔گراونڈ خریدے یا کسی رفاہی کام میں پیسہ لگائے ،اس کے ہر کام کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، لیگل ٹیکس بچانے پر بھی اسے برا بھلا کہا جائے یہ اپنے معاشرے کی ریت ہے اور راقم الحروف اسی معاشرے اور بھیڑ کا حصہ ہے۔
لیکن پھر کہیں نا کہیں شاعری اور ادب سے شغف رکھنے کی صفت اور بے اختیار داد دے اٹھنے کی عادت مجھے حافظ عبدالرزاق صاحب کی ایک پوسٹ پر تعریفی کلمات لکھنے سے نا روک پائی جس میں چوہدری امانت مہر سپینش برانڈ کوندس کے کاروباری ڈیلیگیشن کو لے کر پاکستان کے بیرون ملک سے سرمایہ کاری میں معاونت کرنے والے ماہرین اور حکومتی اہلکاروں سے ملاقات کرتے دکھائی دئیے ۔حافظ صاحب سے بات چیت پر پتہ چلا کہ نا صرف کوندس بلکہ کچھ اور سپینش برانڈز کے مالکان کو بھی پاکستان کا دورہ کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
چوہدری امانت مہر کے بطور ایک سرمایہ دار پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کرنا کسی ممتاز مصور کے خوبصورت مجسمے یا کسی بہت اعلی اور مشکل بحر میں لکھے گئے کلام سے کہیں بڑھ کر ہے۔ کیونکہ وطن عزیز اس وقت سخت معاشی مشکلات کا شکار ہے ،ایسے میں امانت مہر صاحب کا بغیر کسی سرکاری عہدے کہ پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کرنا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، اپنی ذاتی جیب سے یہ اخراجات برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
وزیراعظم کے حالیہ دوروں میں سرمایہ کاری کروانے کے لیے ان ممالک سے بات چیت کی راہ ہموار کرنے اور معاہدے طے کرنے پر بہت سے اعلی دماغ اور افسران نے کام کیا ہوگا تب جا کر یہ معاہدے طے پائے ہونگے۔
ایسے میں پاکستانی ینگ بزنس میں چوہدری امانت مہر کا ان معاملات کو ابتدائی سطح پر بارسلونا میں اپنی ٹیم کے ساتھ طے کرلینا انکی کاروباری فراست اور مہارت کا عملی ثبوت ہے۔
ایسے وقت میں جب چیف جسٹس آف پاکستان لندن دورے میں ڈیم فنڈنگ کررہے ہیں اور بارسلونا کے ٹیکسی ڈرائیورز بساط بھر اس نیک مقصد میں حصہ ڈال رہے ہیں۔تو اسی شہر سے وطن کے ایک اور بیٹے کا پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کروانا تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔
اس عظیم خدمت پر امانت مہر زندہ باد ہی کہنا بنتا ہے