پیپلز پارٹی51برس کی ہوگئی۔۔عبدالحفیظ ظفر

30 نومبر 1967ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی اور اس پارٹی کے قیام کو 51 برس ہو چکے ہیں۔ اس طویل عرصے میں یہ پارٹی کئی نشیب و فراز سے گزری۔ اس نے بہت مشکل وقت دیکھا۔ بے شمار لوگ اس پارٹی کو چھوڑ گئے اور بعد میں دوبارہ شامل ہو گئے۔ پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی حکومت میں وزیرخارجہ تھے۔ 1965ء کی جنگ کے بعد تاشقند میں پاکستان اور ہندوستان کے مذاکرات ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے صدر ایوب خان اور ہندوستان کی طرف سے اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری نے بات چیت میں حصہ لیا۔ ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ بھٹو نے معاہدہ تاشقند کا ذکر بڑے شد و مد سے کیا اور یہ تاثر دیا کہ اس معاہدے کی آڑ میں کشمیر کا سودا کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھٹو اقوام متحدہ میں تاریخی تقریر کر چکے تھے جس نے انہیں مقبولیت کے آسمان پر پہنچا دیا تھا۔ 1966ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس وقت ان کی شہرت بہت زیادہ تھی۔ انہوں نے بھارت کے خلاف ایک ہزار سال تک جنگ کا اعلان کیا۔ 1967ء میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس کے بنیادی ارکان میں جے اے رحیم، معراج محمد خان، خورشید حسن میر، مختار رانا اور دیگر کئی رہنما شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کا منشور انقلابی نظریات پر رکھا گیا جس کے بنیادی نکات یہ تھے، ۱۔ اسلام ہمارا دین ہے، ۲۔ جمہوریت ہماری سیاست ہے، ۳۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ ۴۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ 1970ء میں پاکستان میں پہلی بار بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات ہوئے اور پیپلز پارٹی اس منشور کی بدولت مغربی پاکستان میں انتخاب جیت گئی۔ اس نے پنجاب اور سندھ میں اکثریت حاصل کر لی۔ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ لگایا گیا جسے عوام میں بہت پذیرائی ملی۔ 1971ء میں پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان ٹوٹ گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ مغربی پاکستان میں چونکہ پی پی پی دو بڑے صوبوں میں انتخاب جیت چکی تھی اس لیے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح مغربی پاکستان کو نئے پاکستان کا نام دیا گیا۔ 1973ء میں نیا آئین بنایا گیا جو کہ بہر حال پیپلز پارٹی کا بڑا کارنامہ ہے۔ 1977ء میں انتخابات کرائے گئے جس میں پی پی پی بھرپور اکثریت سے جیت گئی۔ اپوزیشن اتحاد نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔ پھر اس کے ساتھ ہی احتجاجی تحریک شروع ہو گئی۔ پانچ جولائی 1977ء کو جنرل ضیاالحق نے مارشل لا لگا دیا۔ جنرل ضیا الحق نے 90 روز میں انتخابات کا وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ ایفا نہ ہوا۔بھٹو صاحب کو نواب محمد احمد خان کو قتل کرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس قتل کی ایف آئی آر 1974ء میں اچھرہ پولیس سٹیشن میں درج کرائی جا چکی تھی۔ بہرحال ہائی کورٹ نے انہیں اور ان کے پانچ ساتھیوں کو سزائے موت دے دی۔ سپریم کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی البتہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ 4-3 سے کیا گیا۔ چار اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اس کے بعد پی پی پی کے لیڈروں اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ انہیں کوڑے مارے گئے، جیلوں میں بھیجا گیا اور پھانسیاں دی گئیں لیکن پیپلز پارٹی بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں قائم رہی۔ 1988ء میں پی پی پی نے انتخاب جیتا اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ اس وقت وہ پارٹی کی شریک چیئرپرسن بھی تھیں۔ لیکن 20 ماہ بعد ہی ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ میاں نواز شریف وزیراعظم بن گئے اور پی پی پی ایک بار پھر زیرعتاب آ گئی۔ 1993ء میں نواز شریف کی حکومت اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے ختم کر دی۔ پی پی پی دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 2007ء میں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ 2008ء کے انتخابات کے نتیجے میں آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم بن گئے۔ 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی صرف سندھ تک محدود ہو گئی۔ 2018ء کے انتخابات میں بھی یہ صورت حال برقرار رہی۔ اتنے سال گزرنے کے بعد اب پی پی پی، جو کبھی وفاق کی علامت تھی، صرف سندھ تک محدود ہے اور وہ بھی سندھ کے دیہی علاقوں تک۔ یہ صورت حال پیپلز پارٹی کے لیے بہت تشویش ناک ہے۔ بہر طور پیپلز پارٹی تمام تر شکست و ریخت کے باوجود زندہ ہے۔ اب یہ اس کے بڑوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ اسے دوبارہ وفاق کی پارٹی بنانا ہے یا سندھ تک محدود کرنا ہے۔ پارٹی کے کئی رہنما کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں آصف علی زرداری بھی شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل کیا بلاول بھٹو کے ہاتھوں میں ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔