پروفیسر حکیم عنائیت اللہ نسیم سوہدرویؒ (گولڈ میڈلسٹ)

تحریر..پروفیسر حکیم شفیق کھوکھر
تحریک آزادی کے سرگرم ،راہنما جنہوں نے قائداعظم اور مولانا ظفر علی خان کی راہنمائی میں پاکستان کے قیام میں بھر پور کام کیا۔ قید بند کی صعوبتیں بھی ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں طلائی تمغہ عطا کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔
آپ ۹دسمبر ۱۹۹۴ء کو خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔
پروفیسرحکیم عنائت نسیم سوہدرویؒ (علیگ) ہمہ صفت ،عہد آفرین ،ہمہ جہت اور نادرروزگارشخصیت تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں سے نوازاتھا۔وہ بیک وقت بے مثال خطیب،ممتاز طبیب،بہترین استاداور اعلیٰ ذوق کے حامل شاعر تھے۔آپ منجھے ہوئے صحافی،سماجی کاکن اور سچے و پکے مسلمان تھے۔( اس کا ثبوت ان کے علی گڑھ میں قیام کے زمانے میں ان کی مصروفیات سے بھی ملتا ہے اور اس کے بعد کی زندگی سے بھی) حکیم صاحب ؒ تمام زندگی اسلام ،پاکستان اور طب کے لئے سرگرم عمل رہے۔زندگی اس شان سے گزاری جو حق پرستوں کے شایان شان ہوتی ہے۔حالات و واقعات،جبر و استبداد ،مسائل اور مشکلات ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کر سکے۔جس کام یا تحریک میں حصہ لیا ان کے پیش نظر کوئی ذاتی یا مالی مفاد نہیں بلکہ واحد مقصد اسلام کی سربلندی و سرفرازی رہا۔ طب و صحت کا میدان ہو یا علم و ادب کی بات،شعروشاعری ہو یا سماجی بہبود کی سرگرمیاں ،تحریک پاکستان ہو ۔تحریک ختم نبوت ہو ،تحریک نظام مصطفیٰ ﷺ ہو استحکام پاکستان کی جدوجہد،اسلام یا پاکستان کی حرمت کا سوال ہو یا قومی خدمت کا معاملہ:وہ ہر جگہ سچے جذبے اور جنون کے ساتھ مصروف عمل نظر آتے تھے۔
حکیم عنائیت اللہ نسیم ؒ سوہدروی کا تعلق ایک دین دار گھرانے سے تھا ۔ ان کی ولادت مردم خیز سر زمین سوہدرہ میں ہوئی تھی۔انہوں نے دینی تعلیم مولانا غلام نبی الربانیؒ سے حاصل کی اور میٹرک مشن ہائی سکول وزیر آباد سے پاس کیا۔ دوران تعلیم ان کا تعلق مولانا ظفر علی خان ؒ سے ہوا ۔ مولانا کا گاؤں کرم آباد ،سوہدرہ اور وزیر آباد کے درمیان واقع ہے۔ آپ وزیر آباد جاتے اور آتے ہوئے کرم آباد رکتے اور مولانا ظفر علی خان کی صحبت سے استفادہ کرتے اس طرح ان کا مولانا سے گہرا قلبی تعلق قائم ہو گیا تھا،( جس کا ثبوت ان کی مولانا ظفر علی خان پر لکھی جانے والی کتاب سے ملتا ہے)میٹرک کا امتحان انہوں نے امتیازی حیثیت سے پاس کرلیا تو مولانا ظفر علی خان ؒ اور ان کے چچا حکیم عبدالرحما ن جو اپنے وقت کے نامور طبیب تھے کے مشورے پر انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا جہاں پانچ سالہ ڈگری کورس بھی امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔
علی گڑھ یونیورسٹی میں دوران تعلیم ہی حکیم صاحب کی قائدانہ صلاحیتیں نکھر کر سامنے آگئیں جب انہوں نے مولانا ظفر علی خان کے یونیورسٹی میں خطاب کا انتظامیہ کی خواہش کے باوجود اہتمام کرکے بتا دیا کہ وہ واقعی قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔آپ کا دور شباب حریت و آزادی کی جدوجہد سے عبارت ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برصغیر میں مسلمانان ہند کا ایک علمی گہوارہ تھا۔اس یونیورسٹی کے مسلمان طلبہ نے بر صغیرکی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور برطانوی استعمار سے نجات حاصل کی ، اور انہں اپنے ہیٹ اور سگار سمیت اس ملک سے اپنے اقتدار کا بوریا بستر سمیٹ کر یہاں سے کوچ کرنا پڑا۔اازادی کی اس تھریک کو کامیابی کی منزل تک لی جانے والے نوجوانوں میں آپ کا کردار بھی نمایاں ہی نہیں قابل ستائش بھی ہے۔اس لئے انہیں حکومت پنجاب نے ۱۹۸۷ء میں گولڈ میڈل سے نوازا۔قیام پااکستان کا عظیم کام آپ جیسے ہی سرفروش نوجوانوں کی شبانہ روز کاوشوں اور محنت کا نتیجہ ہے۔قیام علی گڑھ میں وہاں اُٹھنے والے فتنہ قادنیت کے خلاف ان کی خدمات اتنی وسیع ہیں کہ ان پر ایک کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے۔
حکیم عنائیت اللہ نسیم ؒ دوران تعلیم ہی عملی سیاست میں آگئے تھے ۔ اس کی ایک وجہ مولانا ظفر علی خان جیسے کہنہ مشق سیاستدان کا قرب اور ان حالات میں قائد اعظم کا نوجوانوں سے تحریک پاکستان کے مجاہد بنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا تو میں شریک ہوئے یوں وہ اس کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورصٹی کے جو طلباء آل انڈیا مسلم لیگ کے سیشن ۱۹۳۷ء ،لکھنوئسیشن ۱۹۳۸ء،پٹنہ ۱۹۳۸ء،سیشن ۱۹۴۰ء لاہور،اور سیشن ۱۹۴۲ء دہلی میں شریک ہوئے حکیم صاحب ان کے ساتھ تھے۔اس دوران ان کی قائد اعظم سے بھی ملاقاتیں ہوئیں ۔ ۱۹۳۷ء کے ضمنی انتخابات میں بجنور میں مولانا شوکت علی اور مولانا ظفر علی خان کے ہمراہ کام کیا۔
وہ طلباء جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دورے کے دوران ان کی بگھی کو کندھوں پر اُٹھا کر علی گڑھ شہر سے مسلم یونیورسٹی تک لے کر گئے تھے حکیم صاحب بھی ان میں شامل تھے۔فسادات بہار شہرت کے دوران آپ نے بیگم سلمیٰ تصدق حسین کے ساتھ کام کیا ۔۱۹۴۶ء کے انتخابات میں جو قیام پاکستان کے نام پر لڑے گئے تھے،ان میں آپ نے نوابزادہ لیاقت علی خان اور کنوراعجاز کے حلقہ انتخاب مظفر نگر میں لیگ کی جانب سیڈیوٹی انجام دی ۔وہاں آپ نے مقامی مساجد میں درس قرآن دینے کا سلسلہ شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مسلم لیگ کی اہمیت سے بھی متعارف کرایا یوں وہاں سے نمایاں کامیابی حاصل کی۔
تحریک پاکستان میں آپ نے مولانا ظفرعلی خانؒ اور ابو سعید انورؒ کے ہمراہ دوروں میں ہمراہی ہونے کی سعادت حاصل کی،اس طرح انہیں ان بزرگوں سے بھی سیاسی راہنمائی ملی۔قیام پاکستان کے بعد ایک اہم مرحلہ مہاجرین کی ااباد کاری تھا۔اس میں اور پھر تحریک جمہوریتاور تحریک نظام مصطفیٰ میں بھر پور کام کیا۔اسی لئے حکومت پنجاب نے ۱۹۸۷ء میں تحریک پاکستان گولڈ میڈل عطا کیا ۔
مرحوم نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی تھے۔گذشتہ نصف صدی کی ہر تحریک میں دلچسپی لی جس کا تعلق اسلام اور پاکستان سے تھا۔مگر انہوں نے کبھی سیاسی مفاد حاصل نہیں کیا۔وہ پاکستان کی بقاء و سلامتی،کو نظریہ پاکستان کے مطابق کام کرنے میں ہی تصورکرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عطیہ ربانی کی قدر نہیں کی اور قائد کی امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔اس وجہ سے اور آزادی کی ناقدری پر ہمیں سقوط ڈھاکہ کی صورت میں سزا مل چکی ہے۔پاکستان سے انہیں بے پناہ محبت تھی اسلام یا پاکستان کے حوالے سے جب کوئی سازش سامنے آتی وہ تحریر و تقریردونوں صورتوں میں میدان میں آجاتے۔جن لوگوں نے مجلس کارکنان تحریک پاکستان کے زیر اہتمام جناح ہال لاہور میں ان کے تاریخی خطاب سنے ہیں ان کے کانوں میں اس محب وطن مجاہد کی گرمئی جزبات کی حرارت ابھی تک سنائی دیتی ہے۔یہی نہیں ان کے دورخبارات کے فائل گواہ ہیں کہ وہ نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی اور اس سلسلے کی آخری کڑی تھے جس کے سرخیل مولانا محمد علی جوہرؒ ،مولانا ظفر علی خان ؒ ، شورش کاشمیریؒ اور حمید نظامی ؒ تھے۔
مولانا ظفر علی خان کے تو وہ خصوصی مداح تھے۔اس لئے انہون نے مولانا ظفر علی خان کے انتقال کے بعد ان کے نام ،خدمات اور کاہائے نمایاں کو اجاگر کرنے کے لئے جس محنت و مشقت اور جانفشانی سے کام کیا وہ ان کا ہی خاصا ہے ۔یہ کام ایک مستند کتاب کی صورت موجود ہے۔حکیم صاحب مرکزیہ مجلس ظر علی خان ؒ کے بانی صدر تھے۔ہر سال وہ مولانا مرحوم کے حوالے سے خصوصی مضامین اور تحریریں شائع کراتے،اور ان کی تعلیمات اور افکار کو عام کرنے کے لئے جگہ جگہ خطاب بھی فرماتے۔دوسرے لفظوں میں مولانا ظفر علی خان کے انتقال کے بعد وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ظفر علی خان کے فکر و عمل کے چراغ کو نہ صرف جلائے رکھا بلکہ اس کی روشنی کو آنے والی نسل تک پہنچانے کی سعی جاری رکھی جو اب ان کے صاحبزادے حکیم راحت نسیم سوہدروی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
ان کی شخصیت پرقائداعظمؒ کے افکار و بصیرت ،علامہ اقبال ؒ کے فکر و فلسفہ اور مولانا ظفر علی خان ؒ کے جزبہء حریت اور ولولوں کی گہری چھاپ تھی۔ان کی تحریریں ان کے گہرے سیاسی شعوراور عمیق فکر پر دلالت کرتی ہیں۔اسلام اور پاکستان سے ان کی وابستگی عشق کی حد وں کو چھوتی تھی۔انہوں نے جس جوش و جذبے سے تحریک پاکستان میں کام کیا ،اس سے زیادہ اس کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں رہے۔تحریک پاکستان کے تقریباً سبھی لیڈروں سے ان کے تعلقات تھے،مگر انہوں نے کبھی ان تعلقات کو کیش کرانے کی کوشش نہ کی ۔اسلام سے محبت ان کی گٹھی میں پڑی تھی۔طالب علمی کے دور ہی سے وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔اسلامی شعار و روایات کی بے حرمتی وہ کسی صورت برداشت نہیں کرتے تھے۔عشق رسولﷺ کا سب سے بڑا ثبوت جعلی نبی سے ان کی شدید نفرت اور اس کے خلاف ان کی جدوجہد ہے( جو ایک طویل داستان ہے)غریبوں کی مدد اور عزیزوں کی دلبری ان کا طرہٗ امتیاز تھا۔سوہدرہ میں انہوں نے ایک رفاہی کمپلیکس بنایا جس میں لڑکیوں کے لئے سلائی سکول ،قرآن سکول اور دارالمطالعہ آج بھی ان کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
حکیم عنائیت اللہ نسیم انجمن حمائت اسلام لاہور کی جنرل کونسل اور اس کی کئی ذیلی کمیٹیوں کے ممبر کی حثیت سے فعال رہے ہیں ۔ اتنی مصروف زندگی کے باوجود وہ باقاعدہ اپنے مطب کو بھی وقت دیتے تھے۔اخبارات،میں قومی مسائل کے علاوہ صحت و طب پر بھی مضامین لکھتے تھے۔طبی کونسل پاکستان کے ممبر،اور امتحانی کمیٹی کے چئیر مین بھی رہے۔ نیشنل کونسل فار طب کے دو بار پانچ پانچ سال کے لئے ممبر منتخب ہوئے۔مستند اطباء کی تنظیم پاکستان طبی ایسوسی ایشن ،جس کے صدرحکیم محمد سعیدشہید تھے ،کے تا دم مرگ سیکرٹری جنرل رہے۔ ان ذمے داریوں کے حوالے سے ملک بھر کے دورے کرتے ،یہی وجہ ہے کہ وہ میدان طب کے قائدین میں شمار ہوتے تھے۔
طب کی دنیا میں آپ شہید حکیم محمد سعید کے دست راست اور علمی فکر و نظر کے حامل تھے۔وہ تعلیمطب کے معیار کو بلند کرنے او ر اسے دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے حامل تھے۔وہ عطائیوں اور نسخہ بازوں کے بھی سخت مخالف تھیاور انہیں طب کے لئے بد نامی کا باعث خیال کرتے تھے۔طبیہ کالجز کو اپ گریڈ کرنا چاہتے تھے۔آپ طبیہ کالج لاہور کمیٹی کے ممبر ورکنگ گروپ فارایسٹرہیلتھ پلان اور سلیکٹ بک کمیٹی طبی بورڈ میں بھی کام کرتے رہے۔
حکیم مرحوم طبابت کے ساتھ ساتھ شعروشاعری کا بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ان کی شاعری کا محور ہجرو وصال کی بجائے قومی درد و اور فکر تھا۔ قرارداد مقاصد منظور ہونے پر آپ نے فرمایا ۔
؂ ابھی تو صرف ترتیب گلستاں ہی کو بدلا ہے ابھی تبدیل کرنا ہے مزاج باغباں مجھ کو
۱۹۵۸ء میں جب ملک مارشل لاء کی زد میں آ گیا اور آئین پاکستان کی بساط اُلٹی گئی تو فرمایا۔
؂ سحر تاباں ہوئی غنچے کھلے،ہر شاخ گل بھومی بہار آئی عجب انداز سے صحن گلستاں میں
اُٹھایا بلبلوں نے شاخ گل سے آشیاں اپنا ۔نسیمؔ اب خاک اُڑتی ہے محبت کے گلستاں میں
ارض کشمیر کے حوالے سے فرمایا :۔
؂ عظمت ملت بیضا کے بڑہانے والو نغمہ توحید ہر قدم پر گاتے جاؤ
خود اپنے ہی خون شہادت سے نہانے والو ۔ ارض کشمیر کو آزاد کراتے جاؤ
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا؛۔
؂ چل رہی ہے پھر ظلم کی خونی ہواکشمیر میں ۔ ہو رہا ہے پھر زخم کہن تازہ کشمیر میں
حکیم صاحب مرحوم نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود قلم قرطاس سے بھی رشتہ قائم رکھا۔ مولانا ظفر علی خان پر ان کی تصنیف ’’ ظفر علی خان اور ان کا عہد‘‘ شہرہ آفاق حیثیت کی حامل ہے۔رسول اللہ کائیناتﷺ، علی گڑھ کے تین نامور فرزند،اور طبی فاما کوپیا ان کی اہم کتابیں ہیں۔ راقم الحروف سے ان کی ملاقاتیں روزنامہ نوائے وقت میں ملازمت کے دوران اکثر ہوتی تھیں جہان وہ مجید نظامی مرحوم اور رشید وارثی سے ملنے آتے تھے ۔وہاں رشید وارثی کے توسط سے اکثر میری بھی ملاقات ہوتی تھی اور ان کے خیالات عالیہ سے شرف یاب ہونے کا موقع بھی ملتا۔ کہتے ہیں کہ موت سے کسے مفر ہے ۔ اسی اصول کے تحت حکیم عنائت اللہ نسیم سوہدروی بھی دسمبر ۱۹۹۴ء کو اچانک علیل ہوئے اور ۹دسمبر جمعہ کی شام کو خالق حقیقی سے جا ملے اور اگلے دن ہفتہ ۱۰دسمبر کو سپرد خاک ہوئے۔ ان کی نماز جنازہ حافظ احمد شاکر بن عطاء اللہ حنیف نے پڑھائی ۔اس کے بعد انہیں اپنے اباؤ اجداد کے قریب سپرد خاک کر دیا گیا۔
شہید حخیم محمد سعید نے انہیں یوں خرج عقیدت پیش کیا ؛۔
’’ حکیم عنایت اللہ نسیم راہ حق کے مسافر تھے اس راہ میں ہر سنگ گراں کو نظر انداز کیا اور صحیح کیا ۔ ان کا اصول حیات خدمت خلق رہا اور وہ نفی ذات کرکے حقوقالعباد پر ہمہ دم اور ہمہ جہت متوجہ رہیا۔ وہ ایک بلند فکر طبیب تھے۔ساتھ ہی علم و ادب کے میدانوں میں مستعد و متحرک تھے، تحریک پاکستان سے ان کی وابستگی اور راہنمائیاں وقت سے ان کی قربت تاریخ پاکستان کا ایک باب ہے۔‘‘
جبکہ ڈاکٹر وحید عشرت مرحوم نے ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔
؂ ای دوست زمانے روتے ہیں ، تب کہیں ہم ہوتے ہیں
جب ہم کہیں نہیں ہوتے ہیں ،تو صدیوں زمانے روتے ہیں
اور راقم کے خیال میں ۔
؂ دنیا ہزاروں سال تک کرتی رہے گی یاد ہوتے ہیں ہم سے لوگ بڑی آرزو کے بعد