فرانسیسی حکومت نے ’یلو ویسٹ‘ کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

فرانس کی حکومت نے مظاہرین کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیا۔
فرانس کے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا فیصلہ 6 ماہ کے لیے واپس لیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں ‘یلو ویسٹ’ موومنٹ کے تحت 2 لاکھ 44 ہزار افراد نے ملک بھر کی اہم شاہراہوں سمیت 2 ہزار سے زائد مقامات پر احتجاج کیا۔پرتشدد مظاہروں کے دوران 3 افراد جاں بحق اور 106 سے زائد ازخمی ہوئے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ فرانس کے وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے کہا کہ مشتعل لوگوں کی بات سنی چاہیے اور احکامات تھوپنے نہیں چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک اس مسائلے پر معقول بحث و مباحثہ نہیں ہوجاتا، اضافے کا اطلاق نہیں ہوگا‘۔واضح رہے کہ معاشی اصلاحات کے مینڈیٹ کی وجہ سے ایمانوئیل میکرون گزشتہ برس صدر منتخب ہوئے تاہم گزشتہ چند مہینوں میں ان کی مقبولیت کا گراف تنزلی سے دوچار ہے۔
دوسری جان ایمانونیل میکرون نے سیاسی مخالف پر الزام لگایا کہ انہوں نے احتجاجی مظاہروں کو یرغمال بنا کر اصلاحات کا راستہ روکا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف جاری ’یلو ویسٹ ‘ موومنٹ فرانس کے اکثر دیہاتی علاقوں میں بھی جاری رہی۔سابق انویسٹمنٹ بینکر اور موجودہ صدر ایمانوئیل میکرون کو مزدوروں کو زیادہ تنخواہیں دیے جانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا لیکن بے روزگاری سے متعلق ان کی اصلاحات کے اثرات انتہائی محدود رہی۔’ یلو ویسٹ ‘ موومنٹ کے اکثر کم تنخواہ دار مظاہرین صدر کی جانب ڈیزل پر ٹیکس بڑھائے جانے کے فیصلے پر غصہ تھے کیونکہ امیر طبقے پر عائد ویلتھ ٹیکس کا خاتمہ کردیا گیا۔فرانس کے شمال مغربی گاؤں لا گراویلے کے قریب اے 81 موٹر وے پر مظاہرین میں شامل کیتھرین مارگوئر کا کہنا تھا کہ ’ ہم صرف ایندھن کی قیمتوں کے لیے نہیں لڑ رہے ، یہ ٹیکس سے متعلق ہے جو ہم ادا کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’ لوگ اسے زیادہ برداشت نہیں کرسکتے ، ہمیں حکومت اور اعلیٰ سطح پر لوگ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

امیروں کے صدرمستعفی ہوں، ‘یلوویسٹ’ کے نعرے
فرانس میں ایک ماہ قبل سوشل میڈیا سے شہرت حاصل کرنے والی ‘یلو ویسٹ’ نامی تحریک نے قلیل عرصے میں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اپنے حامیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جن کی کال پر مظاہرین نے ملک کی اہم شاہراہوں اور سڑکوں کو بند کردیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ برسوں سے پیٹرولیم مصنوعات میں عائد کیے جانے والے مختلف ٹیکسوں کی چکی میں پس رہے۔بلغاریہ کی سرحد کے قریب ہونے والے احتجاج میں شریک 47 سالہ الیکٹریشن فرینک ڈیرو کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ دکھارہے ہیں کہ فرانسیسی اپنی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت نہیں کررہے ہیں’۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک سروے میں اس تحریک کے حق میں 73 فیصد فرانسیسیوں نے ووٹ دیا تھا۔صدر ایمانوئیل میکرن کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ متوسط اور نچلے طبقے کو نظر انداز کررہے ہیں اور ٹیکسوں کے ذریعے کمپنیوں اور بڑے منافع خوروں کی مدد کررہے ہیں۔مشرقی فرانس میں احتجاج کرنے والے 38 سالہ آندرے کا کہنا تھا کہ ‘میکرن غریبوں کے نہیں بلکہ امیروں کے صدر ہیں، انہیں غریبوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے’۔