لیونل میسی کی اسرائيل کے سب سے زیادہ “نسل پرست” فٹبال کلب میں شمولیت

ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے فٹبالر اور اسپین کے بارسلونا کلب کے اسٹار لیونل میسی نے رواں ہفتے اسرائیل کے بیٹر یروشلم فٹبال کلب میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس سے قبل میسی نے کلب کی اعزازی رکنیت حاصل کر لی تھی۔ وہ یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے شخص ہیں۔اسرائیل کے بیٹر یروشلم کلب نے ٹوئیٹر پر ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں کلب کے سربراہ موشے ہوگیگ لیونل میسی کو اعزازی رکنیت دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بیٹر یروشلم کلب اپنے قیام کے بعد سے اسرائيل میں دائیں بازو کے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کا گڑھ رہا ہے۔ ایک طرف وہ اپنی پالیسی میں نسل پرستی اور سخت گیری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے تو دوسری جانب اس کو سپورٹ کرنے والے تماشائی فٹبال میچوں میں عربوں کے خلاف نعرے بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔روسی ارب پتی گائيڈمیک نے 2013 میں بیٹر یروشلم کلب میں مسلمان کھلاڑیوں کی شمولیت کی کوشش کی تھی۔ اس کے نتیجے میں شدت پسند سپورٹر تماشائیوں کے حلقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر احتجاج سامنے آیا تھا۔ انہوں نے کلب کے ہیڈکوارٹر کو نذر آتش کر دیا اور کلب کا بائیکاٹ کر دیا۔بیٹر یروشلم کلب کے مداحوں کی انجمن “لا ویمیلیا” کلب میں کسی بھی عرب یا مسلمان کھلاڑی کی شمولیت کو مسترد کرتی ہے۔ ماضی میں کلب نے نائيجیریا کے ایک مسلمان کھلاڑی ناڈال ابراہیم کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم پھر ابراہیم نے نسلی امتیاز پر مبنی نعرے بازی کے سبب اس سمجھوتے کو ختم کر دیا اور اسرائيل سے کوچ کر گیا۔