قائداعظم…چند فکر انگیز یادیں. ڈاکٹر صفدر محمود

آج یوم قائداعظم ہے۔ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ سیر و سیاحت کر رہی تھی جس میں ایک مشہور و معروف عالم و فاضل شخص نظر آئے جو اپنے سینکڑوں عقیدت مندوں سے خطاب کر رہے تھے۔ خطاب کے دوران قائداعظم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے قائداعظم اور وائسرائے مائونٹ بیٹن کے حوالے سے ایک واقعہ سنایا جب کہ یہ ’’تاریخی ٹاکرا‘‘ برطانوی وزیر اعظم رامزے میکڈالنڈ سے ہوا تھا مجھے احساس ہوا کہ اس کی تصحیح ضروری ہے او رساتھ ہی خیال آیا کہ قائداعظم کی اس سالگرہ پر ان کے تصورِ پاکستان یا نظریات یا سیاست پر لکھنے کی بجائے ان کے کچھ دلچسپ واقعات لکھ دیئے جائیں جن سے قائداعظم کی شخصیت پر تھوڑی سی روشنی بھی پڑے اور قارئین بانی پاکستان کا موازنہ بعد کی قیادت سے بھی کر سکیں۔ آپ جانتے ہیں کہ قائداعظم سیاسی لیڈروں میں سے میری محبوب ترین شخصیت ہیں۔ میرے نزدیک عظیم قائد کردار اور ذہانت سے بنتا ہے۔ جب تک یہ دونوں اوصاف بدرجہ اتم ایک شخصیت میں موجود نہ ہوں وہ لیڈر تو بن سکتا ہے لیکن عظیم قائد نہیں۔اس حوالے سے قائداعظم ہمارے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

وہ واقعہ سن لیجئے جس سے میں نے کالم کا آغاز کیا۔ حکومت برطانیہ نے 1935ء کے ایکٹ کے تحت ہندوستان کو فیڈریشن کی پیشکش کی۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر کے مطابق قائداعظم واحد سیاسی لیڈر تھے جنہوں نے یہ ’’آفر‘‘ مسترد کر دی۔ وزیر اعظم میکڈالنڈ نے قائداعظم کو پرائیویٹ ملاقات کے لئے بلایا اور ان کی حمایت جیتنے کے لئے کہا کہ اگر لارڈ سہنا صوبائی گورنر بن سکتا ہے اور لارڈ کا خطاب و اعزاز حاصل کر سکتا ہے تو کوئی اور بھی یہاں اعزازات حاصل کر سکتا ہے۔ قائداعظم خاموشی سے اٹھے اور دروازے کی طرف چل دیئے۔ وزیراعظم نہایت شرمندہ ہوا اور پریشانی کے عالم میں دروازے کی طرف لپکا۔رخصت کرنے کے لئے اس نے ہاتھ بڑھایا لیکن قائداعظم نے اس سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم پر گھڑوں پانی پڑا اور اس نے پریشانی کے عالم میں اس ’’سلوک‘‘ کی وجہ پوچھی۔ قائداعظم نے اس کے دفتر کا دروازہ کھولتے ہوئےکہا میں آئندہ آپ سے کبھی نہیں ملوں گا۔ کیا آپ مجھے قابلِ فروخت جنس سمجھتے ہیں۔ یاد آیا ہماری تاریخ کے ایک قابلِ رشک سیاسی رہنما سردار عبدالرب نشتر بتاتے ہیں کہ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل قائداعظم مجھے ساتھ لیکر سابق صوبہ سرحد کے ممتاز لیگی لیڈر اور روحانی شخصیت پیر آف مانکی شریف سے ملنے گئے۔ وہاں بہت سے پیر حضرات جمع تھے جن کے عقیدت مندوں کا حلقہ نہایت وسیع وعریض تھا۔ قائداعظم ملاقات کے بعد کار کی طرف جانے کےلئے نکلے تو سارے پیر حضرات ان کے پیچھے ہاتھ باندھے نہایت مودب انداز سے چل رہے تھے۔ کار میں بیٹھے تو میری ہنسی نکل گئی قائداعظم نے استفسار کیا تو میں نے کہا کہ قائداعظم یہ پیر حضرات جن کے مرید ان کے سامنے دم نہیں مارتے آپ کے پیچھے ہاتھ باندھے چلے آ رہے تھے۔ قائداعظم نے جواب دیا ’’یہ اس لئے ہے کہ انہیں یقین ہے میں قوم کا سودا نہیں کروں گا۔اگر تم بھی عزت کمانا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو ایسا ہی بنا لو‘‘۔

قائداعظم ہندوستان میں مزید اصلاحات کے حوالے سے انگلستان گئے ہوئے تھے۔ انہیں انگلستان کے بادشاہ کی جانب سے بکنگھم پیلس میں لنچ کا دعوت نامہ ملا جو بہت بڑا اعزاز تھا۔قائداعظم نے یہ جواب دے کر انکار کر دیا کہ آج کل رمضان ہے میں لنچ کی دعوت قبول نہیں کر سکتا۔

یہ واقعہ دلچسپ بھی ہے اور حاضر دماغی کا شاہکار بھی۔ 25دسمبر 1940ء کے دن قائداعظم حاجی عمر اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے تو ایک صاحب نے کہا کہ آپ پر کانگرس یہ اعتراض کرتی ہے کہ آپ ٹرین میں فرسٹ کلاس پر پورا ڈبہ ریزرو کروا کر تنہا سفر کرتے ہیں جو مسلم لیگ کے مالی وسائل پر بوجھ ہے۔ قائداعظم نے سگریٹ سلگایا، لمبا سانس لیکر کہنا شروع کیا۔ اول تو یہ نوٹ کرلیں کہ میں سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتا ہوں۔ گاندھی تھرڈ کلاس میں سفر کرتا ہے لیکن اس کے کمپارٹمنٹ میں صرف اس کے عقیدت مند کانگرسی کارکن موجود ہوتے ہیں پھر ایک واقعہ سنایا جس کے بعد قائداعظم نے تنہا سفر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کہنے لگے کہ میں فرسٹ کلاس میں اکیلا مسافر تھا لیکن کمپارٹمنٹ ریزرو نہ ہونے کی وجہ سے دروازہ کھلا تھا۔ پنجاب میل میں بمبئی سے دہلی جا رہا تھا واڈورو اسٹیشن سے گاڑی چلی تو کمرے میں ایک اینگلو انڈین خاتون سوار ہو گئیں اور آہستہ آہستہ کھسکتے ہوئے میرے قریب آ گئیں۔کہنے لگی مجھے ایک ہزار روپے دو ورنہ میں ابھی گاڑی کی زنجیر کھینچ کر رونا اور شور مچانا شروع کر دوں گی۔میں بہرا بن گیا جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا اس نے بے صبری سے میرا ہاتھ پکڑا اور جھنجھوڑتے ہوئے کہا سن رہے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں۔ میں تمہاری عزت خاک میں ملا دوں گی، میں نے کانوں کی طرف اشارہ کیا میں بہرا ہوں۔ پھر اسے کاغذ قلم دیا کہ اپنا مطالبہ لکھ دو اس نے کاغذ پر لکھا مجھے ایک ہزار روپے دو ورنہ بے عزتی (DEFAMATION) کے لئے تیار ہو جائو۔ میں نے وہ کاغذ جیب میں ڈالا اور اٹھ کر زنجیر کھینچ دی۔چند لمحوں میں گارڈ آ گیا میں نے اسے وہ کاغذ دیا اور گارڈ اس خاتون کو حراست میں لے کر چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ پورا ڈبہ ریزرو کرا کر سفر کروں گا۔پھر کہا

گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح کے اے ڈی سی کیپٹن گل حسن (بعدازاںجنرل)بتاتے ہیں کہ قائداعظم چھٹی کے دن ملیرچلے جایا کرتے تھے۔ گورنر جنرل کی کار کے پیچھے صرف ایک کار چلتی تھی جس میں سیکورٹی آفیسر ہوتا تھا بس یہی کل پروٹوکول تھا ہم ملیر پہنچے تو ریلوے پھاٹک بند تھا۔ ٹرین دور تھی میں نے گیٹ کیپر سے کہہ کر گیٹ کھلوا دیا لیکن قائداعظم نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے سے منع کرکے مجھے واپس بھیجا کہ گیٹ بند کروا کر آئو۔ پھر مجھ سے کہا ’’اگر میں قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو دوسروں سے یہ توقع کیونکر رکھوں گا‘‘۔

قائداعظم کے ایک اے ڈی سی نے گورنر جنرل ہائوس کی ڈیوٹی فری شاپ سے اپنے استحقاق اور ضرورت سے زیادہ سامان خرید لیا۔ قائداعظم گورنر جنرل ہائوس کا حساب کتاب خود چیک کرتےتھے انہیں پتہ چلا تو اے ڈی سی کو ڈسمس کر دیا۔ وہ معمولی کرپشن بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ قائداعظم کے اے ڈی سی کیپٹن نور حسین نے مجھے خود بتایا کہ ایک بار ایک اے ڈی سی نے قائداعظم کو ایک چٹ دی جس پر لکھا تھا کہ فلاں جگہ آج اثنائے عشری کی مجلس ہے جہاں آپ کا انتظار رہے گا۔ قائداعظم نے حکم دیا کہ اے ڈی سی کو پہلی دستیاب ٹرین سے پنڈی جی ایچ کیو بھجوا دیں اور اس کی جگہ کسی دوسرے افسر کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وہ مذہبی فرقہ واریت سے بلند تھے یہ چھوٹی چھوٹی یادیں قائداعظم کی شخصیت اور کردار پر روشنی ڈالتی اور ہمیں دعوتِ فکر دیتی ہیں۔