طب کی تاریخ میں ذیابیطس کا علاج کرنے والی پہلی دوا دریافت

امریکی محققین کی ایک ٹیم نے ایک نئی دوا “ہارمین” کا انکشاف کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ “انقلابی” نوعیت کا یہ علاج ذیابیطس کے مرض کا خاتمہ کر سکتا ہے۔نیویارک کے “ماؤنٹ سینائی” ہسپتال کے محققین کی تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دوا انسانی جسم میں انسولین تیار کرنے والے خلیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔ لہذا یہ انکشاف آکری کار ذیابیطس کے مکمل علاج میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ذیابیطس میں مبتلا افراد لُبلبے میں موجود بیٹا خلیوں کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ خلیے انسولین کے اخراج کے ذمے دار ہوتے ہیں۔ لہذا انسولین کی مطلوبہ مقدار تیار نہ ہونے کے سبب یہ افراد گلوکوز کا مناسب طور علاج کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
محققین کے مطابق ان کے سامنے یہ بات آئی ہے کہ “ہارمین” نامی دوا کے ذریعے “لُبلبے” کے بیٹا خلیوں کی جانب سے روزانہ خارج ہونے والی انسولین کی مقدار میں دس گُنا اضافہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں “ہارمین” کو ایک دوسری دوا (جو عموما ہڈیوں کی نشو نما کے واسطے استعمال ہوتی ہے) کے ساتھ استعمال کرنے پر روزانہ بیٹا خلیوں کی جانب سے تیار ہونے والی انسولین کی مقدار کو 40 گُنا بڑھایا جا سکے گا۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق یہ طریقہ علاج ابھی جانچ کے پہلے مرحلے میں ہے تاہم محققین کا کہنا ہے کہ انسولین کے اخراج پر اس کا بڑا اثر ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں بڑا انقلابی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔