مسٹرجناح سےقائداعظم..مسڑگاندھی سے مہاتماگاندھی تک

تاریخ کے چند گمشدہ اوراق پر قونصل جنرل عمران علی چوہدری کی گفتگو
سید شیراز
قارئین! 27 دسمبر کی شام پاکستانی قونصل خانہ بارسلونا میں کرسمس اور قائداعظم کی پیدائش کے حوالہ سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب کے مختلف پہلوؤں پر تصویری جھلکیاں اور تفصیلات آپ مقامی اخبارات میں دیکھ لیں گے۔ لیکن قائد کی زندگی کے جن پہلوؤں پر بات کی گئ انکا سمجھنا بہت ضروری ہے،
10 سے 15 منٹ کی پرمغز گفتگو سے سننے والے کو نا صرف بہت سی گمشدہ تاریخ اور غلطیوں کا پتا چلتاہے بلکہ پاکستان کی سول بیوروکریسی یا سول سرونٹس ان معاملات کو کیسے دیکھتے اور کیسا پاکستان چاہتے ہیں،اسکا بخوبی اندازہ ہوتا ہے،
جہاں جموں میں ہونے والے قتل عام کے بعد ناردرن ایریاز کے قبائیلوں میں پھیلنے والی بے چینی اور اس کے نتیجہ میں اکتوبر 47 میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے بڑے حصہ کے پاکستان میں شامل ہونے کو نہایت مثبت انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا، وہاں تاریخ کے ایک ایسے تاریک پہلو پر بھی روشنی ڈالی گئ کہ غصہ اور انتقام سے بھرے ان قبائیلوں نے اعتدال سے تجاوز کیا اور چرچ کی قیمتی اشیاء اور نوادرات پر مال غنیمت سمجھتے ہوئے ہاتھ صاف کیا اور کچھ ایسے شرمناک واقعات بھی ہوئے جنہیں تحریر کرنا شائد مناسب نا ہو، لیکن جنگ یا محبت میں سب جائز کے فلسفہ پر بھرپور عمل کیا گیا، اور لمحوں کی یہ لغزش صدیوں پر محیط ہونے کے بعد آج مقبوضہ وادی میں وہی شرمناک کھیل، کھیل رہی ہے،
اب اس غلطی کا ذکر اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے بھیانک نتائج پر نظر ڈالیں تو شائد قونصل جنرل صاحب کی یہ بات ان بہت سے لوگوں کے ذہن میں آ جائے جو آسیہ بی بی کی رہائی اور مولوی خادم رضوی کی گرفتاری پر انکے موقف کو سننے کے بعد محفل میں تذبذب کا شکار تھے، اور خاکسار اپنی دائرہ نگاہ میں موجود تمام لوگوں کے چہروں کے بدلتے تاثرات اور حرکات و سکنات سے انکے اندر کا حال پڑھ رہا تھا، اس پر بھی مذید بات کرنا شائد ابھی مناسب نا ہو، کیونکہ یہ بات بیان سے ذیادہ سمجھنے کی ہے کہ کیونکہ گفتگو کے آغاز میں کشمیر بلتستان پر بیک وقت خراج تحسین اور اسکے تاریک پہلووں کا ذکر بلاوجہ نہیں تھا ،
پاکستان کے موجودہ حالات کچھ یہی منظر نامہ بنانے والے تھے، اور تاریخ نے وہ غلطی عدالتی اور حکومتی سطح پر نا دہرائی گو کہ جتھوں کی خواہش اسکے برعکس تھی۔
اب ذکر ہے مسٹرجناح کہ زندگی کی چند حقیقتوں کے بارے میں، ایک انسان جو اپنی زندگی میں غلط اور درست فیصلے لیتے آیا، لیکن وہ ایک اچھا وکیل ،بزنس میں یا کچھ بھی اور ہونے کے بجائے ایک بہترین سیاستدان بن کر ابھرا ،
لیکن یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ آغاز میں قائد کے سیاسی نظریات ون یونٹ انڈیا کی آزادی کے تھے جس میں ہندو اور مسلم ایک جھنڈے تلے اکھٹے رہتے اور ایسا کوئی بھی سیاسی نظریہ رکھنے والا لیڈر انگریزوں سے تو آذادی حاصل کر سکتا تھا لیکن شائد ایک علیحدہ وطن نا حاصل کر سکتا۔
اگر ہم مسٹر جناح کی کچھ پسند نا پسند یا اختلاف کا جائزہ لیں تو ان میں اور سر سید احمد خان کے درمیان کانگرس میں شمولیت اختیار کرنے پر گہرا اختلاف تھا اور جناح کانگرس میں شمولیت کرکے اپنے سیاسی دور کا آغاز کرنا چاہتے تھے اور دوسری جانب دو برٹش پرائم منسٹر اور ماڈرن ہندو کرشنا چاری آپ کی پسندیدہ شخصیات میں شامل تھے، ضروری ہے کہ Glad stone اور کرشنا چاری کی کی زندگی کے متعلق جانکاری حاصل کی جائے تاکہ انکی ذات کے پسندیدہ پہلو سامنے آ سکیں اور یہ کام آپکو خود کرنا ہو گا،
تیس سال تک کی عمر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی یا نام نا کمانے والے جناح کے اگلے چالیس سال ایک مسلسل جدوجہد اور اونچ نیچ کا نقشہ پیش کرتے نظر ائے جنہیں قونصل جنرل صاحب نے ایک خوبصورت پریزینٹیشن کے ذریعہ سمجھنے کی خواہش رکھنے والوں کو سمجھا دیا۔
بنگال کی تقسیم پر مسلمانوں اور انگریزوں کے یکساں بہائے گئے خون پر مشتمل تصاویر نے جہاں اس وقت جناح کی روح کو جنجھوڑا ہو گا ٹھیک اسی طرح ہال میں بیٹھے سامعین اور ناظرین کو بھی اس کیفیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کیوں جناح نے مسلمانوں کو فقط ایک صوبہ مانگنے او اس ظلم کا شکار ہونے پر سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور 1916 میں کانگرس اور مسلم لیگ کو اکھٹا کر کے انگریزوں کے خلاف اتحاد کو باقاعدہ سیاسی شکل دی،
لیکن اس ابھرتی خالص سیاسی سوچ کو ختم کرنے کے لیے خلافت موومنٹ کے خلاف کھڑے ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا، ناگ پور کے جلسہ میں لوگ علی برادران اور گاندھی جی کے ساتھ کھڑے تھے اور سڑکوں پر مار دھاڑ کے لیے تیار تھے اور جناح اس بات پر مضبوطی سے ڈٹے تھے کہ اگر عوام کو یہ تربیت دی گئ تو کل یہ ایک دوسرے کو بھی ماریں گے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب جناح نے گاندھی جی کو مسٹر گاندھی تو کہا لیکن مہاتما کہنے سے انکار کر دیا لیکن عوامی ردعمل شدید تھا ہندو و مسلم دنوں نے جناح پر ٹماٹر ،آلو اور اینٹیں برسائیں بہت دلبرداشتہ ہوئے اور یہ معاملات نا صرف سیاسی زندگی کا سکون برباد کر گئے بلکہ مسز جناح “رتی جی” کے ساتھ تعلقات خراب ،علیحدگی اور پھر 1928 میں رتی جی کی وفات اور یوں 1933 تک گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کیے رکھی۔
لیکن اس یاسیت کے دور سے نکلنے کے بعد دہلی مسلم پرپوزل پر موتی لعل نہرو سے بات کی اور متحدہ ہندوستان کے آئین بنانے پر زور دیا، لیکن موتی لعل جی کے بنائے گئے آئین میں مکمل طور پر مسلمانوں کی نفی کی گئ اور وفاقی طرز حکومت کو پس پشت ڈال کر صوبوں اور مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا جس پر آپ نے کلکتہ میں سخت احتجاج کیا اور اور اس ذیادتی پر شدید جذباتی ہو گئے ۔لیکن موتی لعل نہرو اپنی سیاسی طاقت کے نشہ میں جناح کو بہت ہلکا لے رہے تھے اور پھر یوں جناح سے قائد کا سفر شروع ہوا، لیکن 1934 کی گول میز کانفرنس میں ایک بار پھر تعصب کی نذر ہو کر دلبرداشتہ ہو گئے،
اور پھر 61 سال کی عمر میں 1936 میں مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پہلا الیکشن لڑا اور بری طرح شکست سے دوچار ہوئے لیکن قائدانہ صلاحیتیں مذید بڑھتی چلی گئیں اور گوشہ نشینی کے بجائے مقابلہ کرنے کی ٹھانی یہ وہی وقت ہے جب علامہ اقبال نے قائد کو سات خط لکھے جنہیں آپ تحریک پاکستان میں اقبال کا سیاسی اور عملی کردار کہہ سکتے ہیں، ان خطوط کا لب لباب یہ تھا کہ وہ قائداعظم کو یہ سمجھانا چاہ رہے تھے کہ میری زندگی شائد جلد ختم ہو جائے لیکن آپ پچھلے 61 سال سے جس نظریہ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں وہ غلط ہے اور پھر عمر کے اس آخری عشرے میں قائد اعظم کو یہ احساس ہوا کہ مسلمانوں کو ایک بھرپور سیاسی جنگ کے بغیر کچھ حاصل نا ہو گا۔اور پھر چونسٹھ سال کی عمر میں انیس سو چالیس کے خطبہ میں دو قومی نظریے پر بات ہوئی جسے اسی شام ہندو پریس نے پاکستان کا نام دے دیا، جسکا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ قراداد لاہور میں علیحدہ وطن کا مطالبہ تھا لیکن پاکستان کا نام نہیں تھا،
یہ وہی دور تھا جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا اور کانگرس مضبوط ہوتی چلی گئ اور دوسری جانب قائد پر پریشر بڑھایا گیا کہ کسی طرح سے جناح اپنے یا اقبال کے پیش کردہ نظریہ اور مطالبہ سے ہٹ جائیں اور متحدہ ہندوستان کے نظریہ پر عمل کر لیں، مختلف سیاسی لالچ دیئے گئے لیکن جناح اپنی بات پر قائم رہے،
اور یوں قائد اعظم جن کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا 70 سال کی عمر میں اپنا دوسرا الیکشن لڑتے ہیں اور یوں اس عشرہ کی محنت اور پاکستان کے نعرہ کہ نتیجہ میں وفاقی لیجسلیشن میں 30 میں سے 30 اور صوبائی میں 480 میں سے 404 نشستیں حاصل کرتے ہیں اور پہلی دفعہ برٹش اور کانگرس کو قائد کی اصل کرشماتی اور قائدانہ صلاحیتوں کا احساس ہوا اور برطانوی حکمرانوں نے پہلی دفعہ مسلمانوں کے لیے ایک سنجیدہ اور مخلصانہ پلان ترتیب دے کر قائد کو پیش کیا،جو کہ کیبنٹ مشن پلان تھا،اور یہ مارچ 1946 کی بات ہے، یوں اس کمیشن کی گزارشات پر قائد کو پاکستان بنتا ہوا نظر آ گیا اور پھر یہیں سے قائد کی سوچ کا ایک رخ سامنے آتا ہے اور وہ اتنا سب کچھ مل جانے کے بعد بھی ایک بار پھر متحدہ ہندوستان کی شق پر غور کرتے ہیں، بلکہ کسی حد تک مان جاتے ہیں اور اس فیصلہ سے ایک دفعہ پھر بے یقینی کے حالات پیدا ہوئے لیکن جولائی میں جواہر لعل نہرو نے ہی متحدہ ہندوستان کے نظریہ کو ماننے سے انکار کر دیا ،جہاں ایک طرف تو پاکستان کا مطالبہ پھر زور پکڑ گیا تو دوسری جانب ہندوستان کی تقسیم کا الزام بھی خود جواہر لعل نہرو کے سر چلا گیا، اور قائد اعظم نے اپنی اس قربانی کو نظرانداز کرنے پر تحریک کو اور طاقت بخشی،
یہاں پٹیل اور نہرو نے متحدہ ہندوستان کے مطالبہ کو تو تسلیم نا کیا لیکن اگست 47 میں تقسیم کے عمل کو تسلیم کر لیا ،تاکہ اس جلد بازی میں بننے والا ملک دفاعی اور معاشی طور پر سنبھل نا پائے اور لارڈ ماونٹ بیٹن بھی اس سازش کا حصہ بنے اور دوسری جانب قائد کا اس فوری تقسیم کو تسلیم کرنا انکی گرتی صحت اور ڈاکٹر کی تنبیہ تھا کہ شائد ذندگی اتنی مہلت نا دے، پاکستان کے بننے کے بعد اسکا قائم رہنا ذیادہ بڑا اور مشکل سوال تھا ،اور پھر اب آنے والے واقعات گاندھی جی کو مہاتما گاندھی بناتے ہیں،
اور یہ تاریخ کا وہ گمشدہ ورق تھا جو پہلی دفعہ قونصل جنرل عمران علی چوہدری صاحب نے ہمارے سامنے پیش کیا ،ہو سکتا ہے چند لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں ۔ موہن داس کرم چند گاندھی وہ عظیم شخص تھے جنہوں نے قائداعظم کے اس مطالبہ کی بھرپور حمایت کی کہ ایک نو مولود ریاست کے انتظام کو چلانے کے لیے اس کے 330 ملین روپے فوری طور پر اس کے حوالہ کیے جائیں، جبکہ دوسری جانب نہرو ،پٹیل اور ماونٹ بیٹن اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اب جناح کمزور ریاست کیسے چلا پائیں گے، ایسے میں گاندھی جی کا روزہ یا مرن بھرت پٹیل، نہرو اور ماونٹ بیٹن کو کمزور کرتا چلا گیا اور انہیں یہ روپیہ پاکستان کو دینا پڑا، دوسری بڑی مدد حیدر آباد کے وزیراعظم کی تھی جنہوں نے امریکہ سے پیسہ پاکستان منتقل کیا اور یہ بھی تاریخ کا ایک گمشدہ ورق ہے، اور پھر ایک غیبی امداد کورین جنگ کی صورت میں عالمی منڈی میں کپاس اور پٹ سن کی قلت سے میسر ہوئی، اور اس وقت پاکستانی کپاس اور پٹ سن 10 گنا ذیادہ قیمت پر فروخت ہوئی اور ملک معاشی طور پر سنبھل گیا ،
گاندھی جی، جو مرن بھرت رکھنے کے باوجود بچ گئے اس جرم کے پاداش میں گولی کا نشانہ بنے اور بارڈر کے اس پار رہنے والوں کے لیے تو مہاتما تھے ہی لیکن اس پار احسان مندوں کی نظر میں آج بھی مہاتما گاندھی ہیں ۔قارئین !امید کرتا ہوں کہ قونصل خانہ میں پیش کی گئ عمران چوہدری صاحب کی پریزینٹیشن کو آپ اس کالم کو پڑھنےکے بعد اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا محسوس کر رہے ہونگے اور ضرور مستفید ہوئے ہونگے،
کالم کے اختتام پر میں سبھی منتظمین کو اس کامیاب کاوش پر مبارکباد دوں گا، خصوصا قونصل خانہ کے عملہ کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی پر سب کو سراہنا ضروری سمجھتا ہوں، اور قونصل جنرل عمران علی چوہدری صاحب کو کمیونٹی کے بیچ تناو کو ختم کرنے، مختلف مذاہب کے دوستوں کو نزدیک لانے ،اسپانش اور مراکشی نژاد پارلیمینٹیرینز کو قونصل خانہ کی چھت تلے اکھٹا کرکے اس پروگرام میں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دینے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں