ویانا چرچ ، پانچ راہب باندھ کر ڈاکیٹی

آسٹریا کی پولیس کے مطابق دارالحکومت ویانا میں ایک چرچ میں دو افراد نے داخل ہو کر وہاں موجود راہبوں کو باندھ دیا اور ان سے پیسے اور دیگر قیمتی اشیاء طلب کیں۔پولیس کے مطابق یہ حملہ آور اس واقعے میں چرچ میں موجود راہبوں کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک راہب شدید زخمی ہے۔پولیس کے مطابق یہ حملہ جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق سہ پہر ڈیڑھ بجے ویانا کے فلوریڈزڈورف ضلعے میں کیا گیا۔ حکام کے مطابق پولیس جائے وقوعہ پر اس واقعے کے تین گھنٹے بعد پہنچی، تو وہاں یہ راہب بندھے ہوئے ملے۔
پولیس کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں ماریہ ایماکولاتا چرچ میں پیش آنے والے اس واقعے میں ’دہشت گردی کے عنصر کو خارج از امکان‘ قرار دیا گیا ہے۔پولیس بیان کے مطابق اس حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے۔ پولیس بیان میں کہا گیا ہے، ’’اب تک ہم یہ جانتے ہیں کہ مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک نے نقد رقم اور قیمی اشیاء کا مطالبہ کیا۔ فی الحال اس حملے کے درپردہ اصل وجہ نامعلوم ہے۔ مگر ہم اس واقعے میں دہشت گردی کے عنصر کو خارج از امکان سمجھتے ہیں۔‘‘ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے ویانا میں تلاش کا بڑا آپریشن جاری ہے۔ جمعرات ہی کے روز ویانا کے سینٹ شٹیفان کیتھڈرل کو بم کی اطلاعات کے بعد خالی کرا لیا گیا تھا، تاہم پولیس کو اس چرچ سے کوئی دھماکا خیز مواد نہ ملا اور قریب ایک گھنٹے بعد اسے دوبارہ کھول دیا گیا۔