زلفی، عبا سی ، منہ پر تما چہ۔۔۔۔۔۔ضیغم سہیل وارثی

ٹھیک کہا گیا ، ہما رے لیے کہا گیا صا حب ، پر وفیسر نے طا لب علم کو نکا لا ، طالب علم سیا ست دان بنا ، اس نے پر وفیسر کو نو کر ی سے ہی نکال دیا ، عوام نے سیاسی سیٹ سے نکا لا ، فیل ہو نے والے مشیر بن کر عوام کو خو شخا لی سے با ہر نکا لنے پر تل گے ،ایک جیل میں با قی تین پیس سو ٹ میں ، شا عر نے کہا تھا ، ۔۔۔
آئینہ دکھا یا برا مان گے
ہم مان جا تے ہیں کہ ، ابھی خاں صا حب کی حکومت کو آ ئے زیا دہ وقت نہیں گزرا ، لہذا ، کا رکر دگی کی بنیا د پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی حکو مت فیل ہو گئی ، ہم مان جا تے ہیں کہ گند گی کو ختم کر نے کے لیے وقت درکا ر ہے ، ہم یہ بھی مان جا تے ہیں کہ جیسے خاں صا حب کے آ نے کے بعد بڑوں پر ہا تھ ڈالا جا رہا ہے ، اس سے پہلے ایسا نہیں کیا گیا ، ہم مان جا تے ہیں کہ ڈالر کا اوپر جانا خاں صا حب کی حکو مت کی غلطی نہیں ہے ، ہم مان جا تے ہیں کہ کر پشن یک دم قدم نہیں کی جا سکتی ، ہم مان لیتے ہیں کہ منسٹروں کی لمبی قطا ر حکو مت کی مجبو ری ہو تی ہے ، ہم وہ سب مان لیتے ہیں جو تحر یک انصا ف والے چا ہتے ہیں ، مگر تحر یک انصا ف اس بات کا جو اب دے ، ان کو عوام نے الیکشن میں ووٹ کے ذریع منتخب کیا، اس ووٹ کے بل بو تے پر خاں صا حب نے کہا ، با قی پو ری جما عت نے شور ڈالا کہ عوام نے ووٹ کے ذریعے با قی سیا سی جما عتوں کو ان کی اوقا ت دکھا دی ، یہاں تک اوکے ہو گیا ، بلکے گو ڈ ہو گیا ، اب عوام کے فیل کر دہ سیا ست دان کو مشیر بنا کر ، اقتدار کے مز ے کر وانا کہاں کا عوام کے سا تھ انصا ف ،تحر یک انصا ف کیا عوا م کے سا تھ انصا ف کر رہی ، تحر یک انصا ف حنیف عبا سی کے خلا ف بو لتی تھی، تحر یک انصا ف حق پر تھی کہ ، عوام نے اس کوفیل کیا اورنواز شیر یف صا حب نے پنڈی کے بڑے پر وجیکٹ کو اس شخص کے حوالے کر دیا ، ادھر تحر یک انصا ف میں زلفی بخا ری صا حب کو عوام نے فیل کیا ، خاں صا حب نے ریکو لر امتخان سے فیل ہو نے والے کو اوپر سے پا س کر وا کر زلفی بخا ری کو ان کے برابر لا کھڑا کیا جہاں عوامی ووٹ سے منتخب ہو نے والے نما ئند ے ہیں، یہ عوام کے سا تھ انصا ف ، عر وج کے سا تھ زوال بھی ، صبح کے سا تھ شا م بھی ، سیاسی جما عتوں کو چھو ڑیں ، عام طو ر پر کہا جا تا ، زند گی کے کسی بھی شعبے میں کا میا بی مل جا تی مگر کڑا امتخان ہو تا کہ اس کا میا بی کو بر قرار رکھا جا ئے۔ جس سیا سی جما عت کو آ پ ہا را کر یہاں تک آ ئے ہیں اب اس کی روش پر چل نکلے ہیں تو آ پ کی کیا را ئے ہے کہ آپ کے رزلٹ اس ما ضی کی حکو مت سے کچھ مختلف ہو ں گے ،، تحر یک انصا ف کی دلیلیں اپنی جگہ ، مگر کہا گیا ہے ، دل کو بھلا نے کے لیے خیال اچھا ہے غا لب ، زلفی کو مشیر بنا کر لے آ ئے ، اس سے سیا ست دانو ں کے درمیان کمپسر ی کی سی صو رت حال بنا دی گئی، جیسے غر یب امیر کو دیکھ کر کمپسری کی حالت میں رہتا ، ایسے الیکشن ہا رنے والے سیا ست دان زلفی کو دیکھ کر سو چتے ہو ں گے پیسہ زیا دہ ہو تا ، والد صا حب پا رٹی ہیڈ کے بیسٹ فر ینڈ ہو تے تو ہم الیکشن میں فیل کر بھی امتخان میں ٹا پ پر آ نے والوں سے بھی آ گے بیٹھے ہو تے، خاں صا حب یہ سیا ست کمپسر ی کی صو رت حا ل سے دو چا ر ہیں ، غر یب کا تو آ پ سو چیں گے تو سو چیں گے ،پہلے ان سیا ست دانوں کا ہی سو چ لیں ۔
تحر یک انصا ف کی مین خامی دیکھی جا ئے تو وہ یہ کہ ان کی تو جہ اپنی ٹیم کی طر ف بلکل بھی نہیں ہے ، جو بھی تر جمان ، جو اس کے ذہن میں بات آ تی وہ میڈ یا پر آ کر بو ل دیتا ہے، اور تحفظ کے لیے کہا جا تا ہے جو یو ٹر ن نہ لے وہ بڑ ا سیا ست دان اور بڑ ا لیڈ ر ہو ہی نہیں سکتا ، مین پا ور کمز و ر ہو تو بز نس جلد ی بیٹھ جا تا ، سیا سی جما عت کی ٹیم کمزور پڑ جا ئے تو لیڈ ر جیل تک جا پہنچتا ہے ، وہ لیڈر نثا ر خاں کی با ت مان جا تا تو آ ج صو رت حال مختلف ہو تی ، خیر سمجھ بعد میں آ تی، بعد اوقا ت آ تی بھی نہیں ۔
بیا ن با زی بیا ن با زی ہی ہو تی ہے ،بلا ول صا حب فر ما رہے ہیں کہ وہ حکو مت ختم کر سکتے ہیں ، مگر حقیقت وہ جا نتے ہیں کہ ان کے والد صا حب جیل کے کتنے قر یب ہیں، اب عوام کو جو ش دلوا کر کچھ سہا ر بنا تے ہیں ، شر یف بر دار ن عوام کو ڈھیر کو دیکھ کر سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ عوام جیل تک نہیں جا نے دیں گے ،مگر یہ لو گ قد رت کے قا نون کو بھو ل جا تے ہیں ، عر وج کے سا تھ زوال بھی ہے ،طیب اردگا ن بچا اس کے پیچھے قدر ت کی طا قت تھی، جنا ب یہ طا قت ہما رے سیا ست دان بھی پہلے بنا لیں ، پھر ان کو بھی زوال نہیں آ ئے گا ۔ نثا ر خاں صا حب کی با ت نہیں ما نی گئی تو فواد چو ہد ری صا حب اور با قی بھی کچھ کنٹر ول سے با ہر ہیں، مین پا ور پر خاں صا حب کو تو جہ دینی چا ہیے ، کر کٹ کا کپ خاں صا حب اپنی کپتا نی میں جیتے مگر پیچھے پو ری ٹیم تھی ،تو خاں صا حب بہتر سے جا نتے ہیں کہ ٹیم پا ور ، مین پا ور کتنی ضر وری ہے ، اس با ت کی تعر یف کر تے ہیں کہ خاں صا حب کو سو ٹ بو ٹ بہت سادہ کو ئی شا ہی خر چ نہیں مگر ،،،، پر وٹو کو ل کا ایشو وہی ،،،،عوام جو اب ما نگیں گے مگر الگے الیکشن میں ،
ٹھیک کہا گیا ، ہما رے لیے کہا گیا صا حب ، پر وفیسر نے طا لب علم کو نکا لا ، طالب علم سیا ست دان بنا ، اس نے پر وفیسر کو نو کر ی سے ہی نکال دیا ، عوام نے سیاسی سیٹ سے نکا لا ، فیل ہو نے والے مشیر بن کر عوام کو خو شخا لی سے با ہر نکا لنے پر تل گے ،ایک جیل میں با قی تین پیس سو ٹ میں ، شا عر نے کہا تھا ، ۔۔۔
آئینہ دکھا یا برا مان گے