عراق کے گرجا گھر برائے فروخت!

عراق کی مسیحی برادری ایک دہائی سے قتل، اغواء، جبری ھجرت اور کئی دوسرے جنگی جرائم کا سامنا کر رہی ہے
عراق سے جنگ وجدل کی خبروں کے جلو میں مسیحی عبادت گاہوں کے حوالے سے ایک بری خبرآئی ہے۔ عراق کو مختلف قدیم تہذیبوں کا مرکز کہا جاتا ہے۔ ملک میں بڑی تعداد میں عیسائی آباد ہیں اور ان کے صدیوں پرانے گرجا گھر موجود ہیں۔ مگر اب عیسائیوں کے گرجا اور عبادت گاہیں اپنا وجود کھو رہی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق عراق کے گرجا گھر ویران ہونے کے بعد دکانوں اور تجارتی مراکز میں بدل رہے ہیں۔ بہت سے گرجا گھروں کو سرمایہ کاری، فروخت اور کاروبار کے لیے کھولا جا رہا ہے۔
عراق کے سابق عیسائی رکن پارلیمنٹ جوزف صلیوا کا کہنا ہے کہ مسیحی وقف بورڈ اور پادری دونوں عراق میں گرجا گھروں کی فروخت اور انہیں تباہ کرنے میں ملوث ہیں۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں صلیوا کا کہنا تھا کہ بغداد میں شورجہ کے مقام پر واقع کیتھولک سریانہ چرچ کو کاروباری مراکز کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایسا کرنا خلاف قانون اور مسیحی وقف بورڈ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ یہ گرجا گھر کسی دوسری املاک میں بدلا تو جا سکتا ہے مگر اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سوال کے جواب میں صلیوا کا کہنا تھا کہ مسیحی وقف بورڈ کے زیر انتظام بہت سی املاک کو فروخت کیا گیا مگر کوئی نہیں جانتا کہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کہاں گئی۔ اس رقم کا گم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وقف بورڈ اور پادری دونوں کرپشن میں ملوث ہیں۔
عراق میں عیسائی برادری کا کہنا ہے کہ وہ ایک عشرے سے قتل، اغواء، جبری ھجرت اور کئی دوسرے جنگی حربوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ سب سے تکلیف دہ عرصہ داعش کے تسلط کے دوران دیکھا جب نینویٰ صوبے کے عیسائیوں کو بدترین مظالم اٹھانا پڑے۔ اس سے قبل القاعدہ کے ہاتھوں بھی عراق کے عیسائیوں بالخصوص بغداد، بصرہ اور بابل میں عیسائیوں کو خون ریز انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
جوزف صلیوا نے گرجا گھروں کی خرید وفروخت پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت کئی دوسرے شہروں میں کئی گرجا گھروں کو فروخت کر دیا گیا۔ خرید وفروخت کے اس حربے میں مذہبی رہ نما اور سرکردہ کیتھولک پادری لوس ساکو سمیت کئی دوسرے اہم مذہبی لیڈروں کا ہاتھ ہے جنہوں نے گرجا گھروں کی خرید وفروخت میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔
خیال رہے ک الشورجہ کے مقام پر کیتھولک چرچ 1834ء میں قائم کیا گیا تھا۔ حال ہی میں اسے تجارتی مرکز میں‌ تبدیل کردیا گیا ہے۔ اب وہاں لوگ عبادت کے لیے نہیں بلکہ خرید وفروخت کے لیے آتے ہیں۔