اُمید سحر (مسجد،امام اور نمازی)۔محمد فاروق شائق سانگو

پاکستان میں جب اپنے محلے کی جامع مسجد میں چار(4) سال بعد نماز پڑھنے کے لئے جانا ہوا ۔ دیکھا تو دل تھوڑا پریشان ہوا اور ایک جھٹکا سا محسوس ہوا جیسا چھوڑ کر گیا ویسا ہی ملا، کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی تو وہ یہ تھی کہ مسجد کی دیواروں پر دیدہ زیب ماربل لگا ہوا تھا۔جس پر اللہ رب العزت کے نام مبارک اور سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام مبارک کنندہ تھے ۔مگر جس وجہ سے پریشان ہوا اور دل کو ایک جٹھکاسا لگا وہ یہ تھا کہ جو نمازی چار سال پہلے تھے چار سال بعد آج بھی وہی نمازی تھے تعداد اتنی ہی تھی یعنی کہ 15 کے لگ بھگ صرف یہ ضرور تھا کہ کچھ پرانے چہرے گم ہو گئے تھے، جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے، ان کی جگہ کچھ نئے چہروں نے لے لی تھی البتہ تعداد اتنی ہی تھی(15)، ان 15میں بھی زیادہ تر بوڑھےبزرگوں کی تعداد تھی، جوان نسل بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر تھے،نماز کے بعد کچھ دیر سوچتا رہا کہ میرے اس چھوٹے سے گاؤں میں کم از کم 78 ووٹ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمائندہ جماعت کے تھے، تو میری اس مسجد میں کم و بیش 50 سے 60 نمازی تو ہونے چاہیے تھے مگر تعداد تو اتنی ہی تھی جتنی چھوڑ گیا تھا یعنی 15
تو بہت دیر تک یہی سوچتا رہا کہ قصور کس کا ہے ؟
امام کا، لوگوں کا،والدین کا یا دین کی نمائندہ جماعتوں کا ووٹ کے لیے لوگوں کو تو نکال لیا، دھرنوں کے لیے لوگ نکل آئے مگر مسجدوں میں لوگوں کی تعداد کیوں کم ہو گئی یا تقریباً اتنی ہی رہی، کہا کمی ہے ؟
دین کی تبلیغ کی یا ہم میں شعور کی، دین کی تعلیم کی یا دین کی تعلیم دینے والوں کی یا دین کی تربیت کرنے والے والدین یا استاد کی یا دین کی نمائندہ جماعتوں کی جو لوگوں کو دین کے نام پر گھروں سے باہر سڑکوں پر دھرنوں میں لے آئی مگر مسجدوں میں نہ لا سکی۔
تو پھر میں سوچتا ہوں کہ قصور کس کا گردانہ جائے ؟
مسجدوں کو دیدہ زیب سے دیدہ زیب تر، ایک دوسرے سے بڑھکر اور برقی قمقموں کی سجاوٹ خوب تر سےخوبصورت ،نقاشی کے عمدہ نمونوں سے آراستہ، رنگ وروغن کے چار چاند لگاتے جا رہے ہیں مگر ہم لوگوں کے دلوں کو دین سے منور نہیں کر پا رہے ،لوگوں کی اور اپنی اگلی نسل کی تربیت دین پر نہیں کر پا رہے ۔یہاں تک کہ ہم نے مسجدوں کو بانٹ لیا ہے۔ محلوں کی مسجد، تیری میری مسجد، برادریوں کی مسجد، مسلک کی مسجد جبکہ ہمیں حکم ہے کہ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں مگر ہم مسجدیں بانٹ رہے ہیں ہمیں حکم ہے ایک امام کی پیروی کرنے کا مگر ہم امام بانٹ رہے ہیں،ہمیں حکم ہے کہ آپس میں اتفاق،اتحاد سے رہنے کا مگر ہم تو نمازی ہی بانٹ رہے ہیں، ہمیں حکم ہے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مگر ہم دین بانٹ رہے ہیں ،ہمیں حکم ہے محبت بانٹنے کا مگر ہم نفرتیں بانٹ رہے ہیں،ہمیں حکم ہے دلوں میں چاہت پیدا کرنے کا مگر ہم دلوں میں کدروت پیدا کر رہے ہیں ۔ہمیں حکم ہے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں مگرہم دین کے نام پر بھائی بھائی بانٹ رہے ہیں ۔ہمیں حکم ہے مل جل کر رہنے کا، مگر ہم آپس کا سکون بانٹ رہے ہیں،ہم ایک دوسرے کی بات کو سننے جاننے کے لیے تیار نہیں،ہم خود کو دوسرے سے برتر سمجھنے کی کوششوں میں کوشاں ہیں ۔ہم میں برداشت ختم ہو چکی ہے ۔ہم دین کی بات کو پہلی بات سننے کے لیے تیار نہیں اگر سن لیں تو عمل کے لیے تیار نہیں،محفل میلاد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں کتنے لوگ ہوتے ہیں کہ اگر مسجد میں ہو تو جگہ کم پڑ جاتی ہے اگر مسجد سے باہر پنڈال سجایا جائے تو تاحد نگاہ لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں، مگر عام روٹین میں مسجد میں لوگ کم کیوں رہ جاتے ہیں ۔
میری سوچ کا محور رکنے کا نام نہیں لیتا، میری سوچ کا محورگھوم پھر کر اسی جگہ اٹک جاتا ہے کہ کس کا قصور ہے، قصور دیکھنے بیٹھوں تو سب کاہی حصہ نظر آتا ہے۔ میرا ،آپ کا ،سب کا۔
ہم پریشان حال ہیں۔طرح طرح کی مصیبتوں میں گرے ہوئے ہیں، ظلم کی چکی میں پیستے جا رہے ہیں، اور جب تک ہم اپنی زندگی کو ڈھنگ سے نہیں گزاریں گے اسلام کے اصولوں کو نہیں اپنائیں گے، ہم یونہی دربدر،میصبتوں بھری غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے ۔ ابھی بھی وقت ہے خود کو سنبھالنے کا،ابھی بھی وقت ہے خود کو اپنی منزل کی طرف لیکر جانے کاابھی وقت ہے اپنے رستے کے تعین کا۔