پاکستان ایمبیسی (اسپین) اور کاسا ایشیا کا ٹریڈ اینڈ انویسمنٹ سیمینار۔۔سید شیراز

Emerging Pakistan.
پاکستان ایمبیسی (اسپین) اور کاسا ایشیا کا ٹریڈ اینڈ انویسمنٹ سیمینار۔۔سید شیراز
قارئین اکرام !
میرے لیے آج کا کالم گذشتہ لکھے گئے تمام کالمز سے ذرا ہٹ کر ہے۔ معاشیات پر اگر بات کی جائے تو دلچسپی صرف متعلقہ شعبہ سے منسلک افراد کی رہ جاتی ہے لیکن اگر معاملہ ہو وطن عزیز کی منسٹری آف کامرس کے کامیابی کے منزلیں طے کرتے پروگرام Emerging Pakistan اور پھر اسپین و بارسلونا کی تو ہر خاص و عام کی توجہ اس پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
انتیس جنوری کی ایک روشن صبح میں ایسے ہی ایک پروگرام کا اہتمام بارسلونا میں کاسا ایشیا کے زیر اہتمام پاکستان ایمبیسی اسپین کے کمرشل سیکشن کی درخواست پر کیا گیا۔ جس میں سفیر محترم جناب خیام اکبر صاحب اور کمرشل قونصل ڈاکٹر حامد نے خصوصی شرکت کی اور بارسلونا میں تعینات قونصل جنرل عمران علی چوہدری اور ویلفئر اتاشی عمر عباس میلہ صاحب اور انکے علاوہ مقامی اتھارٹیز میں مئیر آفس اور کمشنر آفس بارسلونا نے بھر پور معاونت کی۔ چونکہ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کے حوالہ سے پاکستانی سفارتخانے کا بارسلونا میں کاسا ایشیا کے ساتھ پہلا پروگرام تھا تو اس کی تفصیلات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔
اس سلسلے میں خاکسار کو انتہائی اہم معلومات کمرشل سیکشن کے انچارج ڈاکٹر حامد سے موصول ہوئیں۔
ڈاکٹر حامد کے مطابق ایمرجنگ پاکستان کے آئیڈیا پر کام کرتے ہوئے کاسا ایشیا میں اس پروگرام کے 3 اہم گول تھے جو کہ ابتدائی سطح پر کامیاب رہے۔
نمبر 1، پروموشن آف ٹریڈ
نمبر 2، پروموشن آف انویسٹمنٹ
نمبر3، پروموشن آف ٹیکسپو پاکستان (2019)
فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق کاتالونیا اسپین اور پاکستان کے بیچ ہونے والی تجارت میں 35% حصہ ڈالتا ہے اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دوسرے دو بڑے حصہ داروں میں “سیوی یا” اور “میڈرڈ ” کا نام آتا ہے۔
سن 2017 میں پاکستان کا تجارتی حجم اسپین کے ساتھ لگ بھگ ایک بلین ڈالر کا رہا جو کہ سن 2018 میں 10 ماہ میں حاصل کر لیا گیا اور اضافہ کے ساتھ سال کے اختتام پر لگ بھگ 1،15 بلین ڈالر رہا۔ جو کہ گذشتہ 4 سال کے مقابلے میں دوگنا رہا، ڈاکٹر حامد نے اپنی گفتگو میں اگلے چار سالوں میں اسے موجودہ حجم سے دوگنا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ یورپین ٹریڈ میں (اسپین- پاکستان) تیسرے نمبر پر ہے اور بیلنس آف ٹریڈ میں پاکستان پہلے نمبر پر جرمنی اور انگلینڈ سے آگے ہے۔
اس وقت منسٹری آف کامرس کا مرکزی ہدف ٹیکسٹائل اینڈ لیدر انڈسٹری کی پروموشن کے حوالہ سے لاہور ایکسپو سنٹر میں ہونے والے میگا ایونٹ “ٹیکسپو پاکستان ” ہے جس میں انشاء اللہ اسپین کی شمولیت بھی ہوگی اس ضمن میں ڈاکٹر حامد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں دلچسپی رکھنے والے مختلف ڈیلیگیشنز کو پاکستان کا دورہ کروا چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اسپین سے بڑی کمپنیاں انڈی ٹیکس کے زیرنگرانی ” کورتےفیل” مینگو اور “زارا” نے اپنے بائنگ ہاوسز کھول لیے ہیں اسکے علاوہ اسپینش کمپنی” اوگرا” گرڈ اسٹیشن، ” اندرا ” انفارمیشن سیکٹر اور توانائی کے متبادل ذرائع (شمسی اور ہوائی) سے منسلک کمپنیاں اور بارسلونا کی مشہور کمپنی ایڈلتے (ADELTE) بورڈنگ اور ائیرپورٹس پر چالیس سے پچاس ملین ڈالر کا کام کر رہی ہے۔
توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے متبادل توانائی کی کمپنیز کے لیے ڈیوٹی فری امپورٹس کا اعلان کیا گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال پاکستان آفس آف سافٹ وئیر بورڈ کی جانب سے 6 سے 7 کمپنیز نے موبائل ورلڈ کانگرس میں شرکت کی تھی اور فروری میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگرس میں بھی پاکستانی کمپنیز کی شرکت متوقع ہے۔اور سفیرپاکستان محترم خیام اکبر صاحب کے ساتھ وہ اس ایونٹ کا دورہ کر سکتے ہیں۔
سیاحت کسی بھی ملک کے حقیقی چہرے کو متعارف کروانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ میڈرڈ میں اس حوالہ سے ہونے والے میگا ایونٹ( FITUR) میں اس سال دو لاکھ تریپن ہزار افراد نے شرکت کی جس میں پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وفد نے شرکت کی۔ یہاں میں ڈاکٹر حامد کے اس سمارٹ موو کی ضرور تعریف کرونگا کہ کاسا ایشیا میں ہونے والے سیمنار میں پہلے سے آئے اس وفد کو بھی لے آئے تاکہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ وفد اور پاکستان ایمبیسی اسپین دونوں سیاحت کے فروغ پر گفتگو کرسکیں۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ اسپین سے گذشتہ سال 2018 میں کوہ پیماوں کو 250 ویزہ ایشو کیے گئے تھے۔ خیبر پختونخواہ کے وفد کے اعداد وشمار پوری دنیا سے آنے والے کوہ پیماوں کے بارے میں کہیں زیادہ تھے۔
سیاحت کے فروغ کے مستقبل کے بارے میں یہ وفد اور پاکستانی سفارتخانے کے کمرشل قونصل ڈاکٹر حامد حال ہی میں پاکستان حکومت کی جانب سے ویزہ فری اور آن آرائیول ویزہ سکیم سے اس شعبہ میں بہتری اور ترقی کے امید رکھتے ہوئے اسے ایک انڈسٹری بنتا دیکھ رہے ہیں۔ اس پر مذید تبصرہ کرتے ہوئے قونصل جنرل عمران علی چوہدری نے کہا کہ یہ موجودہ حکومت کا ایک بہترین قدم ہے لیکن اسے فنکشنل ہونے میں کم از کم تین ماہ درکار ہونگے۔
مقامی پاکستانی کاروباری شخصیات میں پالسن الیکٹرونکس کے مین ڈسٹریبیوٹر چوہدری امانت وڑائچ نے شرکت کی جو کہ مقامی کاروباری شخصیات کو پاکستان میں کاروبار کے فروغ میں معاون بنانے کے لیے بہت احسن قدم تھا ۔چوہدری امانت اسپین کے بڑے کاروباری کمرشل سینٹر “ایل کورتے انگلش” کی انتظامیہ کے بہت قریب اور دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں۔جسکا اندازہ خیبر پختونخواہ کے وفد کے سربراہ کی گفتگو اور جوش وخروش سے جھلک رہا تھا کہ وہ بذریعہ امانت چوہدری صاحب اس کامیاب کاروباری ملاقات پر بہت خوش تھے اور بہترین بزنس ملنے پر اسے اپنے دورے کا بہترین حصہ قرار دے رہے تھے۔
دوسری جانب بارسلونا کی ہر دلعزیز نوجوان کاروباری شخصیت مہر امانت علی چوہدری نے بھی سیمینار سے پہلے فرسٹ سیشن میں شرکت کی لیکن پہلے سے طے شدہ مصروف کاروباری شیڈول کی وجہ سے سیمینار اور پریزینٹیشن میں شمولیت اختیار نا کر سکے ۔
اس حوالہ سے جب میری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے انتہائی صاف گوئی اور پوری ایمانداری سے بتایا کہ اگرچہ اس ایونٹ میں شمولیت کا دعوت نامہ انہیں مل چکا تھا لیکن سفارتخانے کے ساتھ اس دوران کمیونیکیشن گیپ کی وجہ وہ اس پروگرام کو ترتیب نہ دے سکے کچھ ایسی ہی سفارتی مصروفیت کا ذکر ڈاکٹر حامد سے گفتگو کے دوران ملا۔لیکن یہاں یہ بات بہت اہم ہے جسکا ذکر تقریب میں شامل صحافی اور مہمان حضرات کے علاوہ آفیشلز نے بھی کیا کہ حال ہی میں سپر سٹور کوندس کی ٹیم جو پاکستان کا کامیاب دورہ کر کے آئی ہے اور ایک بڑی انویسٹمنٹ کا عندیہ دے چکی ہے اگر وہ اس ایونٹ میں شامل ہوتے اور اپنے کامیاب کاروباری دورے کا ذکر اپنی ہی ہسپانوی کمیونٹی سے کرتے اور دوسری جانب امانت چوہدری صاحب “ایل کورتے انگلش ” کی انتظامیہ کو شامل کرتے جو بقول امانت چوہدری صاحب 1500 ملین کا بزنس پاکستان سے کرتے ہیں ۔تو اس سیمینار میں موجود کاروباری ہسپانوی باشندوں کو ایک بھرپور اور حوصلہ افزا پیغام جاتا۔ تاہم تقریب میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ یہ ایک نہایت مثبت قدم تھا جس سے نا صرف مقامی باشندوں کو پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کے متعلق بھرپور معلومات ملی بلکہ سیاحتی حوالہ سے بھی بہت مفید معلومات کا اضافہ ہوا۔
اس کالم کو مکمل کرنے میں کمرشل قونصل ڈاکٹر حامد، قونصل جنرل بارسلونا عمران علی چوہدری، سیاحتی وفد خیبر پختونخواہ، چوہدری امانت وڑائچ، چوہدری امانت حسین مہر، ڈاکٹر قمر، شاہد احمد شاہد اور راجہ شفیق کیانی صاحب کا شکر گزار ہوں