یورپ کی جبرالٹر کے شہریوں کو ویزا کے بغیر شنگن ممالک کےسفرکی اجازت

لندن( نیوزڈیسک) یورپی یونین نے ایک قانون تجویز کیاہے جس کے تحت برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ پر ڈیل نہ ہونے پر بھی جبرالٹر کے شہری سپین سمیت تمام شنگن ممالک کا بغیر ویزا سفر کرسکیں گے جبکہ اس سے قبل یورپی یونین جبرالٹر کو سپین کے ساتھ متنازعہ برطانوی نوآبادی کے طورپر تسلیم کرتاتھا یورپی یونین کے مجوزہ قانون سے برطانیہ کے اوورسیز علاقوں کے باشندوں اوربرطانوی شہریوں کے درمیان امتیاز پیدا ہوجائے گا، انڈیپنڈنٹ نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ برطانوی حکام کاکہناہے کہ میڈرڈ اس پہاڑی پر اپنے دعوے کومستحکم کرنے کیلئے صورت حال سے فائدہ اٹھانا چاہتاہے، برطانوی حکام کاکہناہے کہ یورپی یونین کی جانب سے جبرالٹر کے لوگوں کو ویزا کے بغیر سفر کی سہولتوں کی فراہمی کافیصلہ مناسب نہیں ہے برطانیہ نے اس کو قطعی اشتعال انگیز قرار دیاہےکیونکہ جبرالٹر برطانیہ کی نوآبادی نہیں ہے اور بلکہ برطانیہ کامکمل حصہ ہے اور برطانیہ کے ساتھ اس کا جدید آئینی رشتہ قائم ہےاوریورپی یونین سے ہماری علیحدگی سے اس کی اس حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اس لئےاسے ایسا کہنامناسب نہیں ہے۔تمام فریقوں کو برطانیہ کے ساتھ جبرالٹر کی جمہوری خواہش کااحترام کرنا چاہئے، سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی سفیر نے یورپی یونین کے سفیروں کے اجلاس میں جبرالٹر کے حوالے سےبرطانیہ کے اعتراضات اٹھائے تھے ۔ فنانشیل ٹائمز کے مطابق جبرالٹر کی خودمختاری کے حوالے سے سپین اور برطانیہ کے درمیان تنازعہ جس کافیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہوناہے۔