ٹیکسی سیکٹرکاعروج وزوال،میرے نوسال کےتجربے میں..تحریر.سہیل باجوہ

ویسے ایک بات ہے پہلی دفعہ میں “وی ٹی سی” کی ایک ایسی بات کرنے جا رہا ہوں جہاں انکو موقع ملا اور کافی حد تک یہ سچ بھی ہے۔کہ ٹیکسی سیکٹر کو محدود کر دیا گیا ہے، کچھ تنظیموں اور کچھ سپانش آتونومو والوں نے مل کے۔ وہ کیسے میں بتاتا ہوں۔جب 2009 سے پاکستانی شامل ہوئے تو انہوں نے امتحان کو مشکل بنایا تاکہ باہر کے لوگ کم داخل ہوں، مگر ہم نے اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی، پھر جب ان کو نسخہ ناکام محسوس ہوا تو کاتلان زبان کا لازمی قرار دلوا دیا گیا! یہاں تک کے شروعات میں کافی مشلکات دیکھنے کو ملی، آپ کا حق کھایا جاتا، گاڑی لیبرے کی صورت میں آگے لگا کر کئی بہانے اور قانون بتائے جاتے، جبکہ خود یہ سارے ڈرامے کیا کرتے تھے۔مگر ہم نے پھر بھی ہمت نہ چھوڑی اور دیکھتے دیکھتے ہمارے لوگ لائسنس تک خریدنے لگے اور پھر انہوں نے ہمیں نشانے پہ لیا کہ یہ پیسے اکٹھے کرنے میں ماہر ہیں فیملی دوست وغیرہ سے لے کر یہ بندوبست کر لیتے ہیں۔ تو لائسنس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے ہمارے ہی بھائیوں کو بیچنے لگے، آہستہ آہستہ ہمیں شامل کر لیا گیا کیونکہ تین سال پہلے سینکڑوں ٹیکسی ڈرائیور پینشن پہ جانے والے تھے، ان میں سے کچھ نے اپنی اولاد کے نام لائسنس ٹرانسفر کیا اور کچھ نے ہمارے آگے بیچ دیے۔ پھر کچھ بھائیوں نے کمیٹی سسٹم بنا کر بنا سود اور بینک کے ٹیکسی لینے میں بھی خاص توجہ دے کر انکو اپنی طرف مراغب کیا۔پیچھلے دو سال میں اتنے لائسنس خریدے گئے کہ ہمارے بھائیوں نے ہزار زیادہ دینے کی آفر کیساتھ تہہ شدہ سودہ بھی خراب کر کے خود خریدنے کی لالچ کی۔
یہاں اک بات اور قابل غور ہے کہ وقت کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا بھی استعمال ہونے لگا، پہلی Lyca نے فری کالز کے زریعے ہم سب پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی آپس میں رابطے کروائے ہم مشکل لمحے میں ایک دوسرے سے مدد لے کر آگے بھڑنے لگے، پھر زیلو اور واٹس ایپ کا دور آیا تب تک اچھی خاصی تعداد میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور آ چکے تھے اس سیکٹر میں۔ اور یہاں سے وہ وقت شروع ہوا جب گروپس بننے لگے اور جھگڑے وغیرہ۔پہلے الیتے جو اس وقت مشہور تنظیم ہے ٹیکسی سیکٹر کی پاکستانی ڈرائیورز کے بہت خلاف تھی اور غنڈہ گردی تک دیکھلاتی تھی، پھر ایک واقع میں پاکستانی دوست کی سپانش جو الیتے سے تعلق رکھتی تھی جھگڑے کی بنیاد پر اس کا کافی مالی نقصان کیا گاڑی کی توڑ پھوڑ کی صورت میں، تب مجھے اچھی طرح یاد ہے اور آپکو بھی ہو گا جب ائیرپورٹ پر ہم نے اپنا اتحاد دیکھایا سینکڑوں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز اکٹھے ہو کر اس بات کی مذمت کی اور تب الیتے اور باقی گروپس کی ہمارا اکٹھا ہونا انکی آنکھیں کھولنے کے برابر ہوا اور انکے رویوں میں تبدیلیاں آنے لگی۔اب آتی ہے بات ڈبل ڈرائیور کی، چند تنظیموں اور آتونومو والوں نے جب بے حساب لوگوں کی ٹیکسی سیکٹر میں شمولیت دیکھی تو ایک قانون بنوا دیا کہ ڈبل ڈرائیور صرف وہی رکھ سکتا ہے جس کا خونی رشتے دار نے ٹیکسی کردینسیال کر رکھا ہو، مطلب (بھائی، بہن، باپ یا بہنوئی) اب یہ قانون کس لیے؟ مطلب کہ جو سالوں سال اس سیکٹر کو اپنی جا گیر سمجھتے ہیں وہ کیا باہر کے لوگوں کو برداشت کریں گے؟ باقی ان کے خاندان میں تو ہر دوسرا بندہ ٹیکسی ڈرائیور پیدا ہوتا آ رہا تھا، لہذا یہاں بھی دوسروں کے لیے دروازے بند کر دیے گئے، مگر ہم بھی بے مثال لوگ ہیں لائسنس خریدنے کے بعد ہمارا اگلا مرحلہ یہ ہونے لگا کہ ہم نے بہنوئی، بھائی باپ سب کو لائسنس کروا کے اپنی ٹانگیں سیکٹر میں گاڑ لی۔ “انکی ایسی کی تیسی” تم جہاں تک چلاؤ گے ہم وہاں سے بھی آگے جائیں گے۔اب یہ وی ٹی سی کا شور شرابا مگر شائد آپکو معلوم ہو اس کھیل میں بھی چند ٹیکسی سیکٹر کے لوگ ہی ملوث ہیں اور یہ سارا ڈرامہ ایک نیا رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اب آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا۔۔۔