“اوورسیز ہیں یا سونے کی چڑیا”۔چوہدری ساجد وحیدسرور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کیسے ممکن ہے کہ ماں ، بہن کا زیور بیچ کر یا ٹریکٹر ، بھینس فروخت کرکے ویزے اور سفری اخراجات برداشت کرنے والے ا شخاص بیرون ملک جاکر ملک وقوم کے احسان مند ہوں ۔ یہ دیوانے کا خواب توہوسکتا ہے جس کاحقیقت سے دوردور کا واسطہ نہیں بنتا۔ہمارے ہاں کسی سطح پر بھی کسی قسم کا تعاون بیرون ملک جاکر محنت مزدوری کرنے والوں کو حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی جانے کیلئے اٹھنے والے اخراجات کی مد میں نہ سفری دستاویز کی تیار ی کے سلسلے میں حتیٰ کہ وہاں پہنچ کربھی سفارت خانہ کی طرف سے کسی قسم کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔ہمارے ملک کو زرمبادلہ بھیجنے والے بے یارومددگار لوگوں سے ہم یہ اُمید بھی لگائے رہتے ہیں کہ وہ حب الوطنی کی معراج پر بھی استادہ ہوں ۔ جو بادی النظر میں ممکن نہیں،خدمت ہمیشہ خدمت ،محبت یا اجرت کے بدلے میں لی جاسکتی ہے۔ابھی تک تو حکومتِ وقت کی بھی کوئی ایسی پالیسی نظر سے نہیں گزری جو ان پردیسیوں کے دکھوں کا مداوا کرسکے ،نہ کبھی ماضی میں اس طرف توجہ دی گئی ہے۔
پوری دنیا میں لوگ اپنی افرادی قوت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور ملک وملت کی ترقی میں خوب استعمال کرتے ہیں۔ایک طرف حکومت اپنے باہر جانے والے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کرتی اور دوسری طرف باہر جانے والے لوگ بھی انتہائی سخت محنت مزدوری کا انتخاب کرکے ہی ملک چھوڑ تے ہیں ۔ پاکستانی آپ کو صرف مزدور ہی دیکھائی دیں گے اور زیادہ سے زیادہ ٹیکسی یا ٹرک ڈرائیور بن جائیں گے ۔ وہ بھی دوسرے ممالک میں جاکر ڈرائیونگ سیکھ کر لائسنس لیں گے ۔ جو دیارِ غیر میں اُن کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے اس کے برعکس ہندوستان ،نیپال یا فلپائن کی مثال لیں تو ہمیں شرمندہ ہونے کو کافی ہوگا۔عمومی طور پر ہندوستانی، نیپالی سیلز سٹاف یادیگر آفیشلز جاب کرتے ہیں اور ایک طرف تو ان کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے اور دوسری طرف سخت مشقت بھی نہیں کرنی پڑتی۔مگر فلپائن نے تو اپنی افرادی قوت کو ایسے ہنرمند بنایا ہے کہ ساری دنیامعترف ہے، اُن کی اس ضمن میں کیے گئے اقدامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہوگی۔آپ دنیا میں کہیں بھی جائیں آپ کو اس جزیروں والے ملک کے لوگ کام کرتے نظر آئیں گے حیرت اس بات پر بھی ہوگی کہ مزدوری نہیں کرتے وہ عمومی طور پر مارکیٹ میں سیلزگرل، بوائے،یا کمپیوٹر آپریٹر ہونگے۔فلپائن حکومت کی حکمت عملی تھی یا لوگوں کی اپنی خدادا د صلاحیتیں کہ اُنہوں نے انجینئر کی بجائے ایسوسی ایٹ، انجینئر ز بنائے،ڈاکٹروں کی بجائے نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف تیار کیا۔گاڑیوں کے مکینک اورالیکٹریشن ،پلمبرز یا دیگر ٹیکنیکل ہنر مند بنائے،ڈگریوں کی بجائے ڈپلوموں کو ترجیح دی اور پھر پوری دنیا میں اپنا لوہا منوالیا۔اب آپ کو گلف سے لیکر یورپ اور امریکہ ، کینیڈا تک صحت کے شعبہ میں فلپائنی ہی نظر آئیں گے ۔ اس طرح نہ صرف وہ خود کو اچھا معیارِ زندگی دے پاتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ زرِمبادلہ بھی خوب اپنے ملک کو ترسیل کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اُن پیشوں کی بدولت وہ زیادہ معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔دوسری طرف ہمارے مزدور جو خوب خون پسینہ بہا کر بھی کمائی زیادہ نہیں کرپاتے۔ جس کی وجہ سے نہ تو زرِمبادلہ زیادہ بھجو اسکتے ہیں اور خود بھی کسمپرسی کی زندگی گزار تے ہیں۔ہمارے ہاں بے شمار لوگ بیرونِ ملک کمانے جاتے ہیں اُ ن کی طرف پاکستان اگر توجہ کرے تو بے پناہ فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ کرنا یہ ہوگا کہ سب سے پہلے تو ووکیشنل تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ووکیشنل ٹریننگ کے نئے ادارے بنائے جائیں ،جو پہلے سے ہیں اُن کو خوب فعال کیا جائے۔ لوگوں کو آگاہی دی جائے اور ووکیشنل ٹریننگ لینے والے لوگوں کو دوران تعلیم وظائف دینے چاہیے تاکہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیں، اور ملکی ضرورت پوری ہونے کے بعد اِن ٹرینڈ لوگوں کے اعداد وشمار حکومت اپنے بیرونِ ملک سفارت خانوں کو بھجوائے اور ان کے ذمہ لگائے کہ تمام معلومات اکٹھی کرکے بیرونی حکومتوں سے معاہدے کریں کہ ہم آپ کو ہنرمندافراد منگوا کر دیں گے ۔ابھی تک یہ کام پرائیویٹ کمپنیاں کرتی ہیں ایک طرف تو وہ اپنے ملک کا نام خراب کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے اور دوسرے وہ بچارے محنت مزدوری کے لیے جانے والے لوگوں کو بھی خوب لوٹتے ہیں ، بارہا تو ان لوگوں کی جان تک داؤ پر لگادیتے ہیں کبھی قانونی طور پر اور کبھی تو غیر قانونی طور پر بھی لوگوں کو بیرون ملک بھجواتے ہیں جوکہ ملک وقوم کے وقار کو بھی مجروع کرتے ہیں اور لوگوں کو مالی و جانی نقصان سے بھی دوچار کرتے ہیں۔کتنا اچھا ہواگر ہمارے سفارت خانے اُن ملکوں میں اُ ن کی ضرورت کے مطابق ہنرمند افراد کو وہاں منگوائیں اور کام پر لگائیں پھراُ ن کی متواتر خبرگیری بھی کرتے رہیں ۔ تمام سفری اخراجات بھی اگر حکومت برداشت کرے اور پھر اُن کی تنخواہ سے ایک معقول کٹوتی کرکے پورے کرلیں اس سے ایک طرف تو لوگوں کی بھرپور مدد ہو جائے گی اور ساتھ ہی حکومت کو بھی لوگوں کی آمدن کا بھی اندازہ رہے گا اور حکومت کے ذریعے ہی پیسے ملک میں بھجوائیں گے۔ جس سے ہنڈی وغیرہ سے بھی جان چھوٹی رہے گی اور لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ بڑھانے میں یہ بہت اہم ہوگا جب ملک آپ کو روزگار دے گا ہنر دے گا تو کیا وجہ ہوگی کی آپ میں ملک وقوم کی خدمت کا جذبہ نہ جاگے۔ اس کام کو بطریقِ احسن سرانجام دینے کے لیے سفارت خانوں میں باقاعدہ اس کام کے لیے افسران کی تعیناتی کرنی چاہیے جو نیک نیتی سے یہ فریضہ سرانجام دیکر ملک و ملت کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بس خود کو بد ل کر دنیا کو بدل ڈالیں قدرت ضرور مدد کرئیگی ۔