جسے خدا عر وج بخشے..ضیغم سہیل وارثی

سفا رتی تعلقا ت کی بنا ء پر دوسرے ممالک سے با دشا ہ ہما رے ہا ں مہما ن بنتے رہے ہیں ،تر قیا تی منصو بوں پر با ت چیت ہو تی ، مگر ، مگر ، صر ف ، صرف دو ہزار مز دوروں کے درد میں اتنا درد محسو س کیا گیا کہ کہا جا ئے با د شا ہو ں کی محفل میں مز دوروں کی با تیں تم بھی کما ل کر تے ہو خاں ، ما ضی میں ایسی در خو است کسی حکو مت کی طر ف سے سا منے آ ئی، نہیں ، تو ان دو ہز ار خا ندا نوں کی دعا ئیں ہی ، قدرت بد لا دے گی ، اور خا ں کی عز ت بنی رہے گی ، پہلی نشا نی ، بھا رت کو کر ارا جو اب ، جو پو ری عوام نے سر اہا ،کہا گیا ہے ، ،،،،
جسے خدا عر وج بخشے
سعو دیہ کے مہمان آ ئے چلے بھی گے ، مگر ، ہو ا کچھ ایسا کہ خاں کے لب ایسی محفل میں ہلے ، اور ان لو گوں کے لیے ہلے جن کے با رے خاں کہتا آ یا کہ جو سیا ست دان غر یب کا نہیں سو چتا وہ سیا ست دان صر ف مفا د کی سیا ست کر تا ہے ، قید یو ں کی با ت میں ایسی کما ل کی با ت تھی کہ لو گ بھو ل ہی گے کہ کتنے روپے پا کستان آ رہے ہیں اور کتنے تر قیا تی کا م ہو ں گے ،ہما ری تا ریخ کا یہ واحد دورہ تھا کہ با دشا ہوں کی محفل میں غر یبوں کا ذکر ہو ا اور با ت گو ل مول نہیں کی گئی اور فورا ایکشن لیا گیا ، بے چا رے اپو ز یشن والے حیر ان ہیں کہ جہاں ہم یہ چا ہ رہے تھے کہ مو جو دہ مہنگا ئی کی وجہ سے عوام کو حکومت کے خلا ف اکسا ئیں گے اب یہاں الٹا ہی ہو چلا ہے ، قد رت کا فیصلہ ہے ، کو غر یب کی سو چے گا ، قد رت اس کی عز ت بنا کر رکھے گی ، بھا رت میں جو فو جی ما رے گے ، انہوں نے حملے کے پا نچ منٹ بعد ہی الزا م پا کستان پر لگا دیا ، ان سے سوال بنتا ، بلکے مذا ق بنتا ہے کہ ، پا نچ منٹ میں آ پ کے پا س کو ئی و حی اتری کے اس حملے میں پا کستان کا ہا تھ ہے ، لو جی ، جس دن حملہ ہو ا ، اسی دن سے بھا رت کی میڈ یا نے شو ر مچا یا کہ ہم ، ہما ری عوام بد لے لے گی ، سا تھ میں بھا رت سر کا ر نے بھی ، مو دی نے کہہ دیا کہ ہم پا کستا ن سے اب بد لا لیں گے ،اب بات چیت کا وقت گز ر گیا ، بھا رت والے بے چا رے اس سو چ میں تھے کہ ہم جنگ کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس طر ف عوا م پی سی ایل انجو ائے کر رہی اور حکومت والے مہمان کے سا تھ بز ی ، ان کے پیٹ میں اور درد بڑ ھنے لگا کہ ایک بڑ ا ملک دوسرے ملک کو جنگ کی دھمکی دے رہا اور ان پر کو ئی اثر ہی نہیں ہو رہا ، اثر تو دور کی بات ان کی طر ف سے ان کے خیا لا ت کا اظہا ر بھی نہیں کیا جا رہا ہے کہ ان کو ہما ری دھمکی کے بعد کیسا لگ رہا اور یہ اب کیا کہیں گے ، ، چا ر پا نج دن گز رے ، خاں صا حب اپنے مہمان سے فر ی ہو ئے ، اور پھر بو لے ،کہ بھا رت سن لے ، کہ کو ئی بھی کا روا ئی ہو ئی تو ہم سو چیں گے نہیں کہ کیا کر نا چا ہیے بلکے ہم فو را کر گز ریں گے ، اس طر ح کے خیا لا ت کا اظہا ر کیا جا ئے تو سمجھا جا تا ہے کہ بند ے نے سا منے وا لے کی مٹی ہی پلید کر دی ہے ، بس ا یسا ہی ہو ا ، بھا ر ت کی مٹی خاں صا حب کے خیا لا ت کے بعد پا گل ہوگئی ، دھمکی ملک تبا ہ کر نے کی اور کا روا ئی یہ کی گئی کہ جس ملک کو تبا ہ کر نا تھا اس کے لیے ٹما ٹر بند کر دیے گے ،تا ریخ میں یہ لکھا جا ئے گا کہ ایک بھا رت ریا ست تھی جس کو جنگ کر نے کا بہت شو ق تھا مگر وہ اپنا شو ق ٹما ٹر ٹما ٹر کھیل کر شوق پو را کر لیتی تھی، ہم عز ت دار قو م ہیں ، جو ش اس طر ف کم نہیں ، بھا رت کو نا جا نے کو ن سی غلط فہمی ہے ، پا کستان میں مو جو د بھا رت کے ٹما ٹر کو یہاں کے تا جر وں نے سٹر کوں پر پھنک دیے ، بھا رت کا میڈ یا یہ بتا رہا تھا کہ ہم اس اس طر ح حملہ کر ئیں تو پا کستان کا زیا دہ نقصا ن ہو سکتا ہے ، سا تھ اسی میڈ یا کا سر براہ ، ملک کا وز یر اعظم اہم پر یس کا نفر نس میں ، جس کا نفر نس میں سعو دیہ کا ولی عہد مو جو د تھا وہاں ملک پا کستان کا نا م نہیں لے سکا ، اور جو مو دی صا حب فر ما چکے تھے کہ اب ہم بد لا لیں گے اور جنگ کر یں گے ، ایک لفظ نہیں بو ل سکے ،، اس تما م صو رت حال میں بھا رت کی عوام کے لیے پیغا م ہے کہ مو دی سر کا ر صر ف آ نے وا لے الیکشن میں اپنی کا میا بی کے لیے ایسے ڈرا مے کر رہی ہے ، حا لا نکہ ، اس کے اپنے سیا ست دان کہہ رہے ہیں کہ جہاں تین ہز ار فو جی گزر رہے ہوں وہاں سیکو رٹی ایسی کہ چا ر من سے زیا دہ با رود کے سا تھ حملہ کر دیا گیا اور ادارے ، ایجنسیا ں سو رہی تھیں ، ،تین ہز ار فو جیوں کی حفا ظت نہیں کر سکے ، یہ ملک کیا پا کستان جیسے مضبو ط ملک کے سا تھ جنگ کا سو چ بھی سکتا ہے ،
جب سے خاں صا حب کی حکومت بنی ، اپو ز یشن وا لے صر ف انتظا ر میں ہیں کہ کو ئی سیا سی نعر ہ ملے اور ہم عوام کو لے کر سڑ کوں پر آ ئیں، اگر حکو مت کی طر ف سے غلطیاں ہو ں تو اپو ز یشن والوں کو اپنا رول ادا کر نا چا ہیے ، مگر ، تمام تر مسا ئل کے با جو د ، خاں صا حب کی جب بھی کو ئی تقر یر سا منے آ تی ، عوام کے دلوں میں خاں گھر کر جا تا ہے ، یہ خاں صا حب کا اپنا کما ل ہے ، یا قد رت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جو اس کے بند وں کا سو چے گا تو قدرت اس کی مد د کر تی رہے گی ،
سفا رتی تعلقا ت کی بنا ء پر دوسرے ممالک سے با دشا ہ ہما رے ہا ں مہما ن بنتے رہے ہیں ،تر قیا تی منصو بوں پر با ت چیت ہو تی ، مگر ، مگر ، صر ف ، صرف دو ہزار مز دوروں کے درد میں اتنا درد محسو س کیا گیا کہ کہا جا ئے با د شا ہو ں کی محفل میں مز دوروں کی با تیں تم بھی کما ل کر تے ہو خاں ، ما ضی میں ایسی در خو است کسی حکو مت کی طر ف سے سا منے آ ئی، نہیں ، تو ان دو ہز ار خا ندا نوں کی دعا ئیں ہی ، قدرت بد لا دے گی ، اور خا ں کی عز ت بنی رہے گی ، پہلی نشا نی ، بھا رت کو کر ارا جو اب ، جو پو ری عوام نے سر اہا ،کہا گیا ہے۔ جسے خدا عر وج بخشے