بگ سکسر ( BIG SIXER)۔۔چوہدری ساجد وحیدسرور

حکومت بنے تو تقریباً چھ ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ تنقید بھی ہورہی ہے اور لوگ مثبت رویہ اپنانے کا درس بھی عام کررہے ہیں ۔ ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے سو ملا جلاُ رجحان جاری ہے ۔ حکومتی رویوں اور پالیسیوں پر ایک طرف لوگ حکومت کے فیل ہونے کا شور مچا رہے ہیں تو دوسری طرف مثبت خیال لوگ حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت کی نیت کے درست ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ سو طرح طرح کے اعتراضات و اختلافات کے باوجود بھی کپتان کی نیت کو غلط کوئی بھی ثابت نہیں کرپارہا ہے بلکہ حسنِ اتفاق تو یہ ہے کہ کپتان کے پاس پالیسیاں پہلے سے نہیں تھیں یا پھر اس کی ٹیم صحیح سے کام نہیں کرپارہی بلکہ کچھ ناقد تو یہ بھی فرمانے میں خود کو حق بجانب سمجھتے ہیں کہ کپتان مردم شناس نہیں ہیں سو غلط لوگوں سے کس طرح صحیح کام کروا سکیں گے۔مگر یہ دعویٰ یہ خیال اور تبصرے ایک طرف اور خان صاحب ایک طرف ۔
اگر کپتان کو کریڈٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو حالات،نیت، خوش قسمتی یا غیبی امداد جو بھی نام دے دیں اس بات سے انکارممکن نہیں کے ہزار ہا خامیوں کے باوجود بھی کپتان پر اعتماد کھیل پیش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ میرے خیال سے تو کھلاڑی اپنی ٹیم کو بھی بلند حوصلے اور ایمانداری سے کھیلنے کی ترغیب دے رہا ہے آج سے پہلے تو حکومت کے پاس شاید کوئی عملی مثال نہ تھی اور بس صبر اور حوصلے کا درس ہی جاری تھا مگر سعودی شہزادے محمد بن سلمان کا کامیاب دورہ تو میدان عمل کا بڑا چھکا ہے مجھے لگتا ہے کہ یوں سمجھ لیں کے کپتان ابھی اتک کریز پر سیٹ ہورہا تھا اب اس نے پہلی بونڈری لگاکر اپنی کامیابیوں کے سفر کا آغا ز کردیا ہے اب چوکوں چھکوں کے ساتھ ساتھ وکٹ پر جم کر کھیلتے رہے تو یقیناپاکستان کو فتح سے ہمکنار کرنے میں اپنا بھر پور حصہ ڈال دینگے ۔ جو لوگ ان کی ٹیم پر معترض ہیں وہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہیں مگر میں تو کہتا ہوں کہ کار خیر میں سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہے ۔ ویسے بھی تاریخ گواہ ہے کہ کپتان نے کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی تو ہر پاکستانی کو اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کیلئے راضی کیا اور وہ ناممکن کام آپ سب کے تعاون سے مکمل کرکے ایک سنگ میل عبور کیا اسی طرح سے نمل یونیورسٹی کی تکمیل کی اور اب اس نے ملک کو غربت اورکرپشن کے بھنور سے نکالنے کی ٹھان لی ہے ۔اس کار خیر میں ہم سب کو من حیث القوم اپنے اپنے مفادات کو چھوڑ کر ملکی مفادات کے لئے کپتان کا بھر پور ساتھ دینا ہوگا ہمت اور حوصلہ نہ ہارنا کپتان کی فطرت ہے ۔ میں بھی خان صاحب کے فیصلوں کو شاید سو فیصد صحیح نہ کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی میں ان کی حکمت اور ذہانت کے گن گانے کو تیار ہوں لیکن اُس کی ذات کی حد تک دیانت پر تو کسی کو بھی کوئی اعتراض اور شک نہیں ہے ۔ خوبی اس کو ماننا چاہے جس کی گواہی دوست تو دوست دشمن بھی دیں ۔ ایمانداری اور کرپشن سے دوری تو ثابت شدہ ہے۔
میرا آج بھی یقین ہے ہم بحیثیت قوم اس وقت ترقی کی منزلیں طے کریں گے جب ہم شخصیت پرستی سے نکل جائیں گے اور تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر کی طرف آجائیں گے میں ذاتی طور پرپیپلز پارٹی کے ایک منصوبے جو کہ فنی تعلیم کے متعلق تھا ذاتی پسند نہ پسند سے بالا تر ہوکر اچھا منصوبہ کہتا ہوں جبکہ بینظیر کارڈ کو ملکی پیسے کا ضیاع سمجھتا ہوں ۔اسطرح دانش سکولوں ،لیپ ٹاپ کی تقسیم کی پالیسی کے متعلق سخت مخالف رائے رکھنے کے باوجود میٹر و بس، اورنج ٹرین اور موٹر ویز کو(ن )لیگ کے اچھے اقدام گردانتاہوں ،ہاں مگر کرپشن کو ان منصوبوں سے الگ کرکے دیکھنا ہوگا کہ اچھا کام کرنے میں اپنے مفادات کو کس حد تک مد نظر رکھا گیا وہ ایک الگ بحث ہے۔
جس وقت ہماری قوم نے بلا تفریق اشخاص کی اچھائی کو اچھا اور برائی کو براکہنا شروع کردیا یقین جانیئے ترقی ہمارے گھر کی کنیز بن جائے گی ، ہمار ا المیہ ہی یہ ہے جو جس کو پسند کرتا ہے اس کے ہر کام کو سراہتا ہے اور جس کو نہ پسند کرتا ہے اس کے ہر کام میں کیڑے نکال کر اپنی تسکین کا سامان پیدا کرتا ہے یہی ہے وہ خرابی جو ہمیں قوم بن کر ابھرنے دیتی ہے اور نہ ہی ہمارے ملک کو ترقی کی منازل طے کرتے دیتی ہے
بالکل اسی طرح سے اب کپتان صاحب کے بھی اچھے کاموں کو سراہنا اور غلط پالیسیوں پر تنقید کرنی چاہے تاکہ ملک ترقی کرے عوام غربت کی چکی سے جان چھڑا سکیں ۔ خوشحالی کا دور دورہ ہواور ہماری آنے والی نسلیں اپنے وطن پر فخر کرسکیں، دنیا کے تمام فورموں پر سر اٹھا کر اپنے ملک وقوم کی نمائندگی کرنے میں حق نجانب ہوں اور کوئی ہمارے ملک وقوم کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھے بلکہ حسرت کی نگاہ سے دیکھنے پرمجبور ہوجائیں یہ ہد ف مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں اب ہم سب کو ملکر اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنی ہوگی کپتان نے آ پ کا ساتھ دینے کا پکا عزم کیا ہوا ہے ہمیں اس کے ہاتھ مضبوط کرکے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔
بس خود کو بد ل کے دنیا کو بدل ڈالیں قدرت ضرور مدد کرئیگی ۔