تاریخ کے آئینے میں : چین نے امریکا کو 1 کروڑ خواتین کی پیش کش کی !

تونس ـ طہ عبدالناصر رمضان۔جدید چین کے بانی ماؤزے تنگ نے انقلاب کے ذریعے 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا تو امریکا نے اس کمیونسٹ حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بدلے واشنگٹن نے قوم پرست رہ نما چیانگ کائی شیک کی حکومت کی حمایت کی جو جزیرہ تائیوان میں محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اگلے بیس برسوں کے دوران امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار رہے۔ اس کی وجہ کوریا اور ویتنام کی جنگوں میں چین کا مخالف فریقوں کو سپورٹ کرنا تھا۔گزشتہ صدی میں 1970 کی دہائی کے اوائل میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں واضح قربت دیکھی گئی۔ اس سے قبل 1969 میں سرحدی تنازع کے نتیجے میں چین اور سوویت یونین کے بیچ تعلقات کشیدہ ہو چکے تھے۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فروری 1972 میں چین کا دورہ کیا اور وہاں چینی رہ نما ماؤزے تنگ سے ملاقات کی۔اگلے برس فروری 1973 میں اُس وقت امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہنری کیسنجر نے ماؤزے تنگ کے ساتھ دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات پر بات چیت کے لیے چین کا دورہ کیا۔ اس دوران 17 فروری کو بیجنگ میں دونوں شخصیات کے درمیان ملاقات ہوئی۔ رات گئے ہونے والی یہ ملاقات ایک گھنٹے کے قریب جاری رہی۔ اس دوران دونوں ملکوں کے بیچ مشترکہ معاملات پر بات چیت ہوئی جس کے بعد ماؤزے تنگ نے کیسنجر کو ایک انوکھی تجویز پیش کر دی۔
بات چیت کے دوران ماؤزے تنگ نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تبادلے کے کمزور حجم پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے باور کرایا کہ چین ایک غریب ملک ہے جو خواتین کی اضافی تعداد کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ساتھ ہی ماؤزے نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے کے لیے ایک کروڑ چینی خواتین امریکا منتقل کرنے کی تجویز کیسنجر کو پیش کر دی۔اس انوکھے خیال کو سن کر ملاقات میں موجود حاضرین ہنس پڑے۔ ان میں چینی وزیراعظم ژو انلائی بھی شامل تھے۔ ان میں سے کسی نے بھی چینی رہ نما کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔اس دوران ہنری کیسنجر نے ہنستے ہوئے باور کرایا کہ امریکا ہجرت کے لیے اقدامات کو آسان بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے بات چیت کا موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
تاہم کچھ دیر بعد ماؤزے تنگ ایک بار پھر چینی خواتین کے موضوع کو لے آئے۔ انہوں نے حیرت انگیز طور پر کیسنجر کو باور کرایا کہ چینی خواتین کئی طرح کی مشکلات پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہیں۔ ماؤزے نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں عوامی جمہوریہ چین کی مدد کی جائے اور اس واسطے ایک کروڑ کے قریب چینی خواتین کو امریکی اراضی منتقل کر کے چین کا بوجھ کم کیا جائے۔ ماؤزے نے عندیہ دیا کہ چینی خواتین ہر سال بچوں کی بڑی تعداد کو جنم دے رہی ہیں اور اس امر نے چین کو ایسے حال میں پہنچا دیا ہے جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔اس کے جواب میں کیسنجر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر سوچیں گے۔ بعد ازاں کچھ دیر سوویت یونین کے حوالے سے امریکی چینی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ تاہم چینی رہ نما ایک بار پھر سابقہ موضوع پر لوٹ آئے۔ انہوں نے کیسنجر کو واضح کیا کہ چینی خواتین کی ایک بڑی تعداد ہتھیار اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتی۔
اس دوران ملاقات میں موجود بعض چینی عہدے داران نے چینی خواتین کی برآمد کے موضوع کے حوالے سے ماؤزے تنگ کی سنجیدگی کو بھانپ لیا۔ اسی بنا پر چینی وزیر خارجہ کے معاون نے آگے بڑھ کر ماؤزے تنگ کو ان کے بیان کے خطرات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس کے منظر عام پر آنے کی صورت میں کون سے اندرونی بحرانات جنم لے سکتے ہیں۔بعد ازاں ماؤزے تنگ نے بات چیت کے دوران موجود خاتون مترجم سے معذرت کی اور پھر کیسنجر کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ چینی خواتین کے حوالے سے ماؤزے کے بیان کو ریکارڈ سے حذف کر دیا جائے۔اس گفتگو کے تقریبا 35 برس بعد 2008 میں امریکی وزارت خارجہ نے 1973 میں کیسنجر اور ماؤزے تنگ کے درمیان بات چیت کے متن سے متعلق دستاویز جاری کی جس میں چینی خواتین کے بارے میں ماؤزے کا بیان بھی شامل تھا۔