پاک بھارت کشیدگی اور ورلڈ موبائل کانگریس بارسلونا ڈاکٹرقمرفاروق

27فروری کو ورلڈ موبائل کانگریس کا تیسرا دن تھا اور میں حسب روایت کانگریس میں موجود تھا ۔کانگریس میں پاکستان ،بھارت ،سری لنکا،انڈونیشیا سمیت ایشیائی ممالک کے ڈسپلے موجود ہیں ۔
پاکستان کا اسٹال ہو یا بھارتی یا پھر ہر وہ اسٹال یہاں پر دنیا بھر سے پاکستانی اور بھارتی نوجوان اپنی کمپنیوں کے ساتھ آئے ہیں ان کا موضوع گفتگو پاک بھارت کشیدگی تھا۔
تین واقعات پر بات کروں گا
برطانیہ کی ایک کمپنی کے اسٹال پر بھارتی شہر لکھنو کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی تو پہل کرتے ہوئے اس نے پوچھا آپ کہاں سے ہو، میں نے کہا کہ پاکستان سے اس نے دوبارہ پوچھا کہ لکھنوکے بارے جانتے ہو میں نے کہا کہ ہاں لکھنو کی اردو اور جون ایلیا تو وہ صاحب خوش ہو گئے اور گلے لگایا
اور جذباتی انداز میں کہنے لگا کہ یار پاکستان کا وزیراعظم کمال کا وزیر اعظم ہے آپ لوگ خوش قسمت ہو اب پاکستان ترقی کرے گا اور آگے بڑھے گا
ہمارا وزیراعظم ہمیں غربت میں دھکیل رہا ہے ایک انتخاب جیتنے کے لئے کروڑوں انسانوں کو جنگ کی بھٹی میں جھونک رہا ہے۔دونوں طرف نقصان انسان کا ہوگا انسانیت کاہوگا غریب کا ہوگا ۔
دوسرا واقعہ اجتماعیت کا ہے میں بھارتی اسٹال بھی دیکھا پاکستانی بھی دیکھا دونوں اسٹال پر اکثریت ایسے افراد کی تھی جو جنگ نہیں امن کے متلاشی تھے اور عمران خان کی امن کوششوں کو سراہا رہے تھے۔بھارتیوں کو گو جہاز کے گرنے اور پائلیٹ کے پکڑے جانے کا قلق تھا لیکن وہ جنگ کے کسی صورت حامی نہیں تھے۔جس کسی سے بھی بات ہوئی سب نے ایک ہی بات کی کہ قوموں کی ترقی امن کی شاہراہ سے گزر کر آتی ہے جنگیں تو برباد کرتی ہیں پاکستان بھارت اور ایشیا میں امن کی اشد ضرورت ہے آج ہم جس ملک میں کھڑے ہیں ان لوگوں اور ممالک نے بھی جنگ وجدل کو چھوڑ کر امن کو اپنا کر ترقی کی ہے اور آج اس میلہ میں جو ٹیکنالوجی نظر آ رہی ہے یہ انہی ممالک سے آئی ہے جنہوں نے امن کا راستہ اپنایا اور انسانیت کی فلاح چاہی ۔ہمارے حکمرانوں کو بھی عقل مندی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے اور ملک سے غربت کے خاتمہ کے لئے کام کرنا چاہئیے ناکہ لڑائی کی بات کی جائے۔
تیسرا واقعہ انتہائی دلچسپ ہے یہ ایک مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سکھ کا ہے۔موبائل کانگریس میں ایک سکھ سے ملاقات ہوئی جو تعلیم یافتہ اور ایک کمپنی کو ہیڈ کررہا تھا ،پاک بھارت کشیدگی پر میں نے ان کی رائے لی تو انہوں نے کہا کہ میں دونوں ممالک کا حامی ہوں میرے لئے دونوں ممالک ہی اہم ہیں ایک میں میری عقیدت ہے تو دوسرے میں میری جنم بھومی ہے۔دونوں پنجاب میرے ہیں اور میں کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ میرے پنجاب کو جنگ میں دھکیلا جائے اس نے مزید کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت نے جنگ ہی کرنی ہے تو میرے پنجاب سے باہر کرے ۔اس نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں عمران خان کا حمایتی ہوں وہ امن کی بات کرتا ہے وہ غربت کے خاتمہ کی بات کرتا ہے۔وہ انسانوں کے آپسی ملاقات میل جول کی بات کرتا ہے وہ دونوں ممالک کی ترقی چاہتا ہے۔اس نے کہا کہ میں کیوں نا حمایت کروں عمران خان نے میرے لئے اپنے ملک کے دروازے کھولے ہیں اب میں اپنی عقیدت اور محبت کو اپنے بابا جی پر نچھاور کرسکتا ہوں ،مودی جی کو چاہئیے کہ وہ اپنے ہمسایہ کی قدر کرے اور جنگ کا موحول پیدا نا کرے غریب انسانوں کا سوچے کہ ان کی زندگی کیسے گزر رہی ہے اس میں بہتری لائے ۔