’ہم جنس پرستی کوئی بیماری نہیں لہٰذا اس کے علاج کی بھی ضرورت نہیں۔‘‘

جرمنی میں ہم جنس پرستی کو کوئی مرض نہیں سمجھا جاتا، مگر پھر بھی بعض معالج ہم جنس پرستوں کا علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جرمنی میں ایسے افراد کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اب اس علاج پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔لوکاس ہاریلیک برلن میں زیر تعلیم 26 سالہ طالب علم ہیں جنہوں نے 2018ء کے وسط میں ہم جنس پرستوں کا علاج کیے جانے کے عمل پر پابندی کے لیے ایک پٹیشن کا آغاز کیا تھا۔ اب تک اس مہم پر 80 ہزار افراد دستخط کر چکے ہیں۔ اپنی اس مہم کے تناظر میں لوکاس ہم جنس پرستوں اور ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔
اس پٹیشن میں جرمن حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’کنورژن تھیراپی‘ یعنی ہم جنس پرست مردوں اور خواتین کی جنسی رجحانات کے علاج پر پابندی عائد کرے۔ یہ علاج کرنے والے ڈاکٹر مریضوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست نہیں اور انہیں فطری یا جنسِ مخالف کے ساتھ جنسی تعلق کو آزمانا چاہیے۔ رویے میں تبدیلی کے ان پروگراموں میں معالج اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسے افراد میں ہم جنس پرستی کے لیے منفی احساس پیدا کیا جائے۔علاوہ ازیں ایسی کوششوں کا تانہ بانہ عام طور پر قدامت پسند ’ایونگیلیکل چرچ‘ کی طرف سے امریکا میں چلائی جانے والی ایک مہم سے جوڑا جاتا ہے جہاں سات لاکھ افراد نے اس نوعیت کے علاج کو آزمایا۔ ان میں سے نصف سے زائد تعداد بچوں یا نو عمر نوجوانوں کی تھی۔ہم جنس پرست مرد اور خواتین ، دونوں جنسوں کی طرف رغبت رکھنے اور اپنی جنس تبدیل کروانے والے یعنی LGBT افراد کو جرمنی میں امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ امتیازی سلوک کے خلاف کام کرنے والی جرمن وفاقی ایجنسی کی طرف سے 2017ء میں کرائے جانے والے ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ 18.3 فیصد جرمن شہری ابھی بھی ہم جنس پرستی کو ’غیر فطری‘ عمل سجھتے ہیں جبکہ 9.7 فیصد اسے ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر تک لوکاس ہاریلیک (وسط میں موجود) اپنے مہم کے سلسلے میں 61 ہزار دستخط حاصل کیے تھے۔جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن اور ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن دونوں یہ کہہ چکی ہیں کہ ’ہم جنس پرستی کوئی بیماری نہیں لہٰذا اس کے علاج کی بھی ضرورت نہیں۔‘‘