دنیا بھر کی طرح اسپین کے بڑے شہروں میڈرڈ ،بارسلونا اور جرونا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا

بارسلونا(دوست نیوز)ہر سال 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی کامیابیوں کا جشن منایا جاتا ہے۔دنیا بھر کی طرح اسپین کے بڑے شہروں میڈرڈ ،بارسلونا اور جرونا میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کے حقوق اور معاشرے میں عدم تفریق کے لیے جدوجہد جیسے موضوعات پر تقاریر کی گئیں اور خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حقوق سے متعلقہ نعرے درج تھے۔بارسلونا کی معروف شاہراہ پر خواتین نے اپنے حقوق کے لیے مارچ کیا۔مقامی پولیس کے مطابق دو لاکھ خواتین مارچ میں شریک تھیں جو میوزک کے ساتھ مارچ کرتے ہوئے رقص بھی کرتی رہیں۔بارسلونا کے مشہور اسکوائر پلاسا کاتالونیا میں مارچ کے اختتام پر نمائندہ خواتین نے اپنے خطاب میں معاشرے میں خواتین کو درپیش مسائل کے خاتمے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا ۔
دوسری جانب سینکڑوں خواتین برتنوں کے ساتھ سڑک پر نکل آئیں اور امتیازی سلوک برتنےکیخلاف بھرپور احتجاج کیا۔خواتین نے احتجاج کے دوران نہ صرف اپنے حقوق کیلئے نعرے بازی کی بلکہ برتن بجا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔خواتین کے عالمی دن پر خواتین کے احتجاج کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شدید متاثر ہوا۔
گزشتہ کچھ سالوں میں خواتین متعدد میدانوں میں بڑی تعداد میں آگے بڑھی ہیں، خصوصاً روزگار کے مواقعوں میں واضح فرق نظر آیا ہے۔یورپی یونین کی جانب سے مردوں اور عورتوں میں صنفی مساوات کے فرق پر ایک اہم پیش رفت سن 2005 میں سامنے آئی۔ اس پیش رفت میں مساوی حقوق کی پالیسیوں کو زیر بحث لایا گیا، جس کے نتیجے میں اب ہر گزرتا سال خواتین کو ملازمت کے بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔ مالیاتی بحران کے دور میں شدید حالات کی وجہ سے اسپین اور یونان جیسے کئی ممالک میں مردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور اس طرح روزگار کی منڈی میں ان کا حصہ کم ہو گیا تھا۔‘‘ تنظیم برائےتعاون و ترقی (او ای سی ڈی) نے بتایا کہ مالیاتی بحران کے بعد ملازمتوں میں خواتین کی شرح میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ دو ہزار اٹھارہ کی رپورٹ کے مطابق اگر مردوں اور خواتین کے مابین ملازمت کے مواقعوں کا موجودہ فرق یوں ہی چلتا رہا تو عورتوں کو مردوں کی برابری حاصل کرنے میں مزید دو صدیاں لگ سکتی ہیں۔