حکومت کہاں تھی؟؟؟؟چوہدری محمد امجد

خواتین ڈے کے بعد سے مسلسل کچھ پوسٹیں اور ان کے ساتھ کچھ پلے کارڈ اٹھائے خواتین کی فوٹو بھی دکھائی دیتی ہیں اور ان پر لکھے عجیب وغریب جملے بھی۔یقین جانیے مجھے ابھی تک یقین نہیں تھا کہ حقیقت میں ایسے ہوا ہے۔پہلے تو مجھے شائبہ ہوا کہ یورپ وکسی دیگر آزاد ملک میں ہمارے کئی دہائیوں سے رہنے والی آزاد منش خواتین یہ کارنامہ سر انجام دے سکتی ہیں لیکن توقع ان سے بھی نہیں تھی کیونکہ کبھی ایسا ہوا نہیں یا کم ازکم میں نے دیکھا نہیں ہے کہ اتنی ڈھٹائی سے یہ کام کیا گیا ہو۔کیونکہ یہاں بھی الحمدللہ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے خاوندوں، بھائیوں اوروالدین کے تابع دکھائی دیتی ہے۔انہیں بھی ان کی اور اپنے مذہب کی عزت کا پاس ہے۔لیکن جب یقین ہوگیا کہ یہ کارنامہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرانجام دیا گیا ہے تو چند سطریں لکھنے کی جسارت کرہی ڈالی۔
مذہبی حوالے سے اسلام نے جو عور ت کو مقام بخشا ہے، جو حقوق دیےہیں اور جو ان پر حدیں مقرر کی ہیں ۔اس پر بہت سارے دوستوں نےاسلامی تعلیمات کے مطابق روشنی بھی ڈالی ہے اور ڈال رہے ہیں۔لیکن یورپ میں بے پناہ آزادی ہونے کے باوجود کسی کو برہنہ گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں ہے۔ساحل سمندر پر بھی الگ مخصوص جگہیں ہیں جہاں وہ ۔۔۔۔۔اور اسی طرح کلبزو دیگر جگہوں پر اندر جو مرضی ہے کریں لیکن باہر برہنہ ہونے کی اجازت نہیں ہے۔پاکستان جیسے ملک جو اسلام کے نام پربنا ، جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے ایسا مظاہرہ اور ایسے نعرے بلکہ ایسا بیانیہ سڑکوں پر برہنہ گھومنے سے کم نہیں ہے۔ایسے بیہودہ اور گندے الظاظ شاید خواتین کے سامنے کرنےکے بھی لائق نہیں ہیں بلکہ دیکھ کے منہ چھپاناپڑتا پڑتا ہے ۔
پوچھنا صرف یہ چاہتا ہوں کہ ان آنٹیوں نے تو جو کچھ وہ چاہتی ہیں اور جو کرنا چاہتی تھیں انہوں نے کیا۔مجھے نہیں پتہ اس کے متعلق پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے لیکن گورنمنٹ نے ان کو کیوں نہ روکا۔اسلام کا نام لینے والوں کو تو غیروں کے کہنے پر پابند سلاسل بھی کیا جاتا ہے اور امامت سے روکا جاتا ہے لیکن بے حیائی کا ایٹم بم گرانے والوں کے خلاف کوئی بیان نہ کاروائی۔کیوں؟
مولوی روکیں گے تو دہشت گرد کہلائیں گے بہتر ہوگا گورنمنٹ معاشرے کےایسے قلیل ترین تعداد میں گندے کیڑوں کو اگرزہر دے کر مار نہیں سکتی تو اسے چمن کو برباد کرنے سے روکنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرے۔
قائد اعظم و اقبال کے خوابوں کی تعبیر کہ آزاد وطن جہاں ہم اپنی مرضی سے، آزادی سے ،احکامات خداوندی کو عملی جامہ پہنائیں گے کا قتل ہوا۔