’’متاثرین کے ’السلام علیکم‘ نے ہمیں متحد بنایا‘‘

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن کہتی ہیں کہ سانحہ کرائسٹ چرچ کے متاثرین کے الفاظ ’’السلام علیکم‘‘ نے ہمیں متحد بنا دیا ہے۔نیوزی لینڈ میں دہشت گرد حملے میں شہید افراد کی یاد میں منعقدہ قومی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم اور عوام نے ایک بار پھرمسلم کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کیا۔سانحہ کرائسٹ چرچ کی یاد میں سیکڑوں نیوزی لینڈرز ہیگلے پارک میں جمع ہوئے۔
یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ دہشت گرد حملے کا غم لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں نسل پرستی تشدد اور انتہا پسندی کی کوئی جگہ نہیں،سانحے میں مرنے والے ہمیشہ ہماری یادوں میں رہیں گے۔وزیراعظم نیوزی لینڈ کا کہنا تھا کہ نفرت کے خلاف جنگ حکومت تنہا نہیں لڑسکتی، خدا ہمارے ملک کو عظیم بنائے اور اس کی حفاظت فرمائے۔النور مسجد پر دہشت گرد حملے میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص فرید احمد نےکہا کہ ہمارا عقیدہ اور ثقافت تو الگ ہو سکتے ہیں لیکن ہم سب آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔
تقریب میں پاکستانی شہداء سمیت تمام 50 شہیدوں کے نام پکارے گئے تو وزیراعظم سمیت تمام شرکاء احتراماً کھڑے ہوگئے۔اس موقع پر برطانوی گلوکار یوسف اسلام نے شہداء کی یاد میں گیت بھی پیش کیا۔تقریب میں گلوکاروں ہولی اسمتھ اور ٹیکس نے بھی شہداء کوخراج عقیدت پیش کیا، اس موقع پر گلوکارہ ہولی اسمتھ نے ہیڈ اسکارف پہن رکھا تھا۔تقریب کے آخر میں شرکاء نے متاثرہ خاندانوں اور شہداء کی یاد میں نیوزی لینڈ کا روایتی گیت بھی گایا۔