ٹریفک حادثات میں اضافہ..چوہدری محمد امجد آف تھلہ

ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیز میں روڈ ٹریفک حادثات میں کمی کی بجائے اضافہ ہورہاہے۔الیٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور خصوصا”سوشل میڈیاسے یہ خبریں روزانہ دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں کی فلاں جگہ حادثہ ہوا ہے۔اتنے لوگ جان کی بازی ہار گئے ہیں اور اتنے زخمی ہیں۔یہ دکھ وہی جانتا ہے جس پہ یہ قیامت ٹوٹتی ہے۔کسی کے گھر کا اکلوتا کمانے والے توکسی کے گھر بار کی رکھوالی،کسی کا اکلوتا بیٹا تو کوئی کئی بہنوں کا اکلوتا بھائی وغیرہ وغیرہ اگلے جہاں کو سدھارگیا۔میں خود حادثے کا شکار ہوا ، ٹانگ اور پاوں ٹوٹ گیاجس نے سپورٹس جیسی سرگرمیوں سے دور کردیا اور میرے ساتھ میرا بھائیوں جیسادوست اپنی چھوٹے بچوں، جوان بیوی اور انتہائی بوڑھی والدہ کو الوداع کہہ کر جہان فانی کو خیر باد کہہ گیا۔اس سے پہلے اس کا بڑا بھائی اور والد صاحب دو مختلف ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار چکے تھے یوں گھرکے تینوں مرد حضرات تین مختلف حادثات میں۔۔۔
میں سمجھتا ہوں یہ انتہائی اہم ایشو ہےجس پر کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔میری نزدیک سڑکیں چوڑی کرنے سے نہ تو یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور نہ ہی ٹریفک جام پر قابوپایا جاسکتا ہے۔ٹریفک قوانین سے آگاہی ، قوانین پر عمل کرنےاور سختی سے عمل کروانے کی ضرورت ہے۔روڈ ڈیزائن کو بہتر بنانے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔اور کیا ہی بہتر ہو اگرٹریفک کے بنیادی اور ضروری قوانین کے چند باب نصاب میں شامل کیے جائیں تاکہ بچوں کے ذہن میں شروع سے ہی روڈ پر چلنے کا concept اور آئیڈیا ہو۔
اوور سپیڈ کوکنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، اوور لوڈنگ سے بریکوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس سے حادثات رونما ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو روکنے کیلیے ٹریفک پولیس کو پھرتی دکھانا ہوگی ۔
علاوہ ازیں ڈرائیونگ امتحان تھیوری و پریکٹیکل کے معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔گھر بیٹھ کر، یا بیرون ملک بیٹھ کر لائسنس کے حصول کو ختم کرنا گا۔ گاڑی آگے پیچھے کراکر لائسنس جاری کردینا موت کا پروانہ دینے کے مترادف ہے۔اس کیلیے ایک مضبوط، مربوط اور جامع نظام کی ضرورت ہے۔روڈ ڈیزائن میں کراس سیکشن، ٹی سیکشن ، ایکسلریشن روڈ ،بفرنگ روڈ ،روڈ آرمز، ورٹیکل سائن بورڈ، الیکٹرک سائن بورڈ سیمافورز ، پرنٹڈ روڈ سائنز، کیمروں کااستعمال وغیرہ کو بین الاقوامی معیار کےمطابق بنانا ہوگا۔اس مقصد کیلیے اوورسیز بہترین معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔پہلے سے تعمیر شدہ چوک چوراہوں میں موجود ٹیکنیکل غلطیوں کو محنت سے ممکنہ حد تک درست و کم کرنے کی سعی کرنا ہوگی۔
خدارا حکومت، والدین، ڈرائیور حضرات اور پیدل حضرات روڈپر چلتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنی و دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنائیں۔