دفاع وطن کیلئے مسلح افواج کو سلام

بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ قوم کی حمائت سے ملک کی بہادر افواج نے دشمن کو مار بھگانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس میں اللہ کا فضل شامل ہے۔ آئندہ بھی دشمن کو پاکستان کی طرف میلی آ نکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انشا اللہ!
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی بھارت کے منہ پر یہ کہہ کر تھپڑ رسید کیا ہے کہ اسنے پلوامہ کے سلسلے میں جو ڈوزیئر ارسال کیا تھا، اس کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ علامہ مسعود اظہر کا پلوامہ حملے سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔
بھارت کا سارا زور جیش محمد کومطعون کرنے پر تھاا ور اسی بلیم گیم کی آڑ میں ا سنے پاکستان کے خلاف فضائی جارحیت کا مظاہرہ کیا جس پر اسے منہ توڑ جواب دیا گیا،اب بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور بھارتی وزیر اعظم کی اس چال کو ہر کوئی سمجھ گیا ہے کہ ا سنے پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوادے کر اپنے عوام کو بیوقوف بنایا تاکہ آنے والے الیکشن میں فائدہ اٹھا سکے۔
بھارتی ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیلوںنے اپنی شکست کا ملبہ پاکستان کے ایف سولہ پر ڈال کر شرمندگی چھپانے کی حرکت کی ہے ، کسی نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی طیاروں کے خلاف جو میزائل استعمال کئے وہ صرف دہشت گردوں کو ٹارگٹ کرنے کے لئے امریکہ نے اسے دیئے تھے۔ یہ کام تو بھارت بہت پہلے کر چکا ہے جب اس نے چین کا ہوا کھڑا کر کے پوری دنیا سے اسلحے کا انبار لگایا، پاکستان چلاتا ہی رہ گیا کہ اصل میں یہ سارا اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو گا مگر ا سکی کسی نے نہ سنی اور پینسٹھ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کر کے ثابت کر دیا کہ اسے چین سے دفاع کی فکر نہیں تھی بلکہ پاکستان پر چڑھ دوڑنے کا جنون لاحق تھا۔ چھ ستمبر پینسٹھ کی دوپہر کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے قوم سے خطاب کیا تو بھارت کی ا س مکروہ چال سے پردہ اٹھایا۔
اب بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ اسے فرانس سے رافیل جنگی طیارے مل جائیں تو پاکستان اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اول تو رافیل طیاروں کے سودے میں کمیشن کھانے کے الزام سے مودی سرکار بچے گی تو اسے رافیل طیارے ملیں گے ، دوسرے بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے یہ محاورہ ضرور سن رکھا ہو گا کہ اسلحے کی اس قدر اہمیت نہیں جتنی اس شخص کی ہے جس کے ہاتھ میں یہ اسلحہ ہوتا ہے۔ کیا پینسٹھ کی جنگ میں بھارتی فضائیہ جدید تریں جنگی طیاروں سے لیس نہیں تھی جب ایک منٹ کے اندر پاک فضائیہ کے بہادر سپوت ایم ایم عالم نے پانچ بھارتی طیارے سرگودھا کی فضائوںمیں مار گرائے تھے، یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ کیا چونڈہ میں جارحیت کرنے والے بھارتی بکتر بند ڈویژن میں کوئی خامی تھی کہ چونڈہ ،جسڑ ، نارووال اور ظفر وال کے میدان بھارتی ٹینکوں کے مرگھٹ میں تبدیل ہو گئے تھے۔ بھارتی جرنیل یہ تو بتائیں کہ جب برا س ٹیکس مشقوںمیں ا سکی فوجیں پاک سرحد کی طرف بڑھ رہی تھیں تو انہیں یکا یک واپس چھائونیوں کا رخ کیوں کرناپڑا، اور بھارتی جرنیل یہ بھی بتا دیں کہ جب اس نے ممبئی حملوں کی آڑ میں پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دی تھی تو وہ اس پر عمل کیوں نہ کرسکا۔ اور اب جوپلوامہ کے جواب میں اس نے سرجیکل اسٹرائیک میں جیش محمد کے تین سو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعوی کیا تو وہ دنیا کو ایک لاش تک کیوں نہیں دکھا سکا۔اصل میں بھارت کے جرنیل اپنے عوام کو بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔
آیئے میں بھارت کی بزدلی کا ثبوت پیش کرتا ہوں۔ اس نے پینسٹھ میں بھی بغیر اعلان جنگ کے پاکستان کے خلاف جارحیت کی۔ اب بھی اس نے بالاکوٹ پر فضائی جارحیت بغیر اعلان جنگ کے کی۔ لڑائی کا اصول یہ ہے کہ آپ اپنے مقابل کو للکاریں۔ اس للکار کا نام اعلان جنگ ہے مگر بھارت بزدلوں کی طرح وار کرنا جانتا ہے۔ اسی لئے اس نے اعلان جنگ نہیں کیا۔ بالاکوٹ پر بھارتی بزدلانہ حملے کے فوری بعد افواج پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ اب اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر بھارت پر حملہ کریں گی۔ یہ باقاعدہ اعلان جنگ تھا جو بہادر اور نڈر قوموںکا شیوہ ہوتا ہے، اگر پھر بھی کسی کو پاکستان کے ارادوں کے بارے میں غلط فہمی باقی رہ گئی تھی تو پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں ۔ ملک کے تمام ہوائی اڈے سول پروازوں کے لئے بند کر دیئے گئے ۔ نہ کوئی جہاز ان ہوائی اڈوں پر اتر سکتا تھاا ور نہ پرواز کر سکتا تھا۔ یہ ایک کھلا اعلان جنگ تھا۔ یہ کام ایک بے خوف فوج ہی کر سکتی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی کے محافظوں کو اچھی طرح علم تھا کہ بھارت کوئی بھی اوچھا وار کر سکتا ہے جس میں اس کے میزائل حملے بھی شامل تھے۔ پاکستان نہیں چاہتا تھا کہ بھارت کے کسی میزائل سے ا س کا کوئی سول طیارہ تباہ ہو اور سینکڑوںمسافراس میں نشانہ بن جائیں۔ میزائلوں کے جواب میں پاکستان کو بھی میزائل داغنے پڑتے ا سلئے پاکستان اپنے سول طیاروں کی اڑان کا رسک نہیں لے سکتا تھا اور یہ صورت حال ا س امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج حالت جنگ میں تھیں اور وہ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر اقدام کر رہی تھیں۔ پاکستانی بحریہ نے بھارتی نیوی کی ایک ایسی آبدوز کومار بھگایا جس کے بارے میں اسے زعم تھا کہ اسے کسی راڈار پر دیکھا ہی نہیں جا سکتا۔ مگر پاک بحریہ نے بھارت کا یہ غرور بھی مٹا دیا۔ اب بھارت رافیل لے آ ئے یاا سرائیل ہی کو بلا لے، پاکستان کی مسلح افواج بھارت کو دندان شکن جواب دینے کی بھر پور صلاحیت سے لیس ہیں۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا چشم دید مشاہدہ دنیا کے ایک عظیم لیڈر مہاتر محمد نے کیااور انہوں نے یہ گواہی دی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ اور مسکت جواب دینے کی کے اہل ہیں ۔ اس لئے کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔
بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور مدتوں اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتا رہے گا۔ آئے روز وہ اپنی ناکامی کی ایک نئی وجہ بیان کرتا ہے۔ مگر اسے اپنے جارحانہ روئیے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ کشمیر ی عوام پر ظلم کا بازاربند کرے اور انہیں حق خود ارادیت دے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو بھارت اپنے گھر خوش۔ہم اپنے گھر خوش!