رمضان المبارک کی آمد آمد۔۔۔۔مہنگائی بے قابو۔۔ تحریر: سید شاہ زیب ارشد

رمضان کی آمد سے قبل پاکستان میں ذخیرہ اندوزوں نے بھی قمر کس لی،، دالیں، چینی ، بیسن اور دیگر اشیاء خورونوش مارکیٹ سے غائب،، مرغی ،بکرے اور گائے کے گوشت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں،،مہنگائی کا طوفان ہے کہ آگے بڑھتا ہی جا رہا ہے پیٹرول اور گیس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا گیا ہے ،،ایک طرف مہنگائی میں پسے عوام کا غصہ لبریز ہونے کو ہے تو دوسری طرف سورج بھی آنکھیں دکھانے لگا ہے عوام خوف میں ابھی سے مبتلا ہے کہ ہائے گرمی میں اگر لوڈشیڈنگ ہوئی تو کہاں جائیں گے،،ہر انسان دوسرے انسان سے چڑ کھا رہا ہے کوئی سابقہ حکمرانوں کو گالیاں دیتا ہے تو کوئی موجودہ حکمرانوں کو قوس رہا ہے افراتفری کا عالم شروع ہونے کو ہے، حکمران جماعتیں مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کی باتیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں تو اپوزیشن جماعتیں موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے نالاں دکھائی دے رہی ہیں بلاول کی اٹھارویں ترمیم ختم کرنے پر حکومت کو لات مار کر گرانے کے چرچے بھی ہر زبان پر ہیں آصف زرداری نے بھی حکومت گرانے کا گرین سگنل دے دیا ہے،،جبکہ حکومتی جماعت اپنی ہی پارٹی سے پریشان ہے وزرا کی ایک دوسرے پر بیان بازی نے وزیراعظم کو پریشان کررکھا ہے ادھر ذرائع کا کہنا ہے علیم خان اندر خانے کوئی گیم کھیل رہے ہیں اپوزیشن کی علیم خان کے رابطوں کا بھی انکشاف ہوا ہے،ذرائع کے مطابق علیم خان نے اپوزیشن کو 40 ایم پی ایز دینے کی پیشکش کرڈالی ہے اور بدلے میں پنجاب کی اہم وزارت بھی مانگ لی ہے،،ذرائع نے بتایا کہ علیم خان عمران خان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے کہنے پر انہیں گرفتار کیا گیا ہے،کرپشن کیخلاف حکومت بے شک کارروائی کرے نواز شریف کو گرفتار کرنے سے خزانے میں پیسے آجاتے ہیں تو پھر سے گرفتار کرلے،، شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے بجلی گیس کی قیمتیں کم ہوجاتی ہیں تو بے شک گرفتار کرلیں حمزہ شہباز کی گرفتاری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں واپس آجاتی ہیں تو بے شک گرفتار کرلیں ،،صرف گرفتاریاں کرنے سے مہنگائی کم نہیں ہوتی معیشت مستحکم نہیں ہوتی تو خدارا ہمیں ایسی گرفتاریاں نہیں چاہئیں جس میں صرف مخالفت کی بو آئے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستی رہے،،خدارا ہوش کے ناخن لو مہنگائی کو بے قابو ہونے سے رو کو ورنہ یہ عوام آپ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بے پناہ طاقت رکھتی ہے،،وزیراعظم عمران خان صاحب آپ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں آپ کے اختیار میں سب کچھ ہے میری سوچ آپکی سوچ سے بہت تھوڑی ہوسکتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں آپ کو پہلے 2 سال پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے میں لگانے چاہئیں تھے ناکہ مخالفین کو جیلوں میں ڈالتے آپ نے ایک سال جیل جیل جیل کرتے گزار دیا اور ہوا کیا نواز بھی آزاد،شہباز کی بھی ضمانت ۔۔اب آپکی توپوں کا رخ زرداری کی طرف ہے مطلب دوسرا سال بھی ضائع ہونے کو ہے خدارا ان گرفتاریوں سے اگر بجلی گیس پیٹرول اور مہنگائی کم ہوتی ہے تو سب کو جیلوں میں ڈال دو عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی اور آپ ایسا نہیں کرسکتے تو خدارا ہوش کے ناخن لو پہلے معیشت کو بہتر کرو اگر آپ نے معیشت بہتر کردی تو عوام آپ کو دوبارہ اقتدار میں لائے گی پھر آپ ان 5 سالوں میں کرپشن کرنے والوں کا احتساب کرلینا۔۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔۔