اسپین کے درالحکومت میڈرڈ کی بلدیہ کی اسمبلی کےلئے پہلی باحجاب مسلمان امیدوار میسن دعا

میڈرڈ(محمد فیاض قرطبی)میڈرڈ کی مئیر نے اگلے ماہ مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کےلئے اپنے امیدواروں کی جو فہرست عوام کے سامنے پیش کی ہے اس میں بارہویں نمبر پر میسن دعا کو رکھا ہے جن کے منتخب ہونے کے کافی امکانات ہیں کیونکہ گزشتہ الیکشن میں میڈرڈ سے موجودہ مئیر کی پارٹی پودےموس podemos جو ووٹ لئے تھے ان کے نتیجہ میں بیس ممبر منتخب ہوئے تھے۔میسن جو غرناطہ میں پیدا ہوئی پانج سال کی عمر میں میڈرڈ آگئیں اپنے والد کے ہمراہ جو ریاضی کے پروفیسر تھے میڈرڈ کی یونیورسٹئ میں میسن دعا نے فزکس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اسکے ساتھ میڈرڈ کی مئیر کی جانب سے شروع کئے گئے پراجیکٹ N@ve کی سپوک پرسن ہیں یہ پراجیکٹ میڈرڈ کی ایک پرانی فیکڑی کی بند عمارت کو نئے سرے سے تزین و آرائش کرکے نئے اسٹارٹ اپس کےلئے بنایا گیا ہے جہاں ٹکنالوجی کے متعلق نئے آئیڈیا کو پروموٹ کیا جاتا ہے
میڈرڈ میں تین لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کی آدھی آبادی اسپینش مسلمانوں یا اسپین میں پیدا ہونے والے مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔میسن دعا جیسی باحجاب پروفیشنل عورت کا میڈرڈ کی اسمبلی میں پہنچنا اسپین کی مسلمان کمیونٹی کےلئے ایک اچھی خبر ہے
میسن کہتی ہیں کہ مسلمانوں کی پہلی نسل اسپینش سوسائٹی سے الگ تھلک رہی جس کی وجہ سے اسپینشن معاشرہ میں انکے متعلق تصورات قائم ہوئے اب وہ دور ہوں گے۔N@ave کے سربراہ نے کہا کہ میسن میرا دائیں اور بائیں ہاتھ ہے ایک پروفیشنل ورکنگ خاتون ہیں جو میڈرڈ کو ٹکنالوجی کے میدان میں دوسرے یورپی شہروں کے برابر لانے کےلئے پرعزم ہیں
میسن دعا کے شوہر بائیولوجی کے پروفیسر ہیں اور انکے تین بچے ہیں جو چار سے بارہ سال کی عمر کے ہیں