ملکی معیشت کا بحرانی مرحلہ گزر گیا، وفاقی وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کا بحرانی مرحلہ گزر گیا اور اب ہم آہستہ آہستہ استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اسلام آباد میں درمیانی مدت کے اقتصادی لائحہ عمل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ جمہوری نظام میں پارلیمان کا کردار اہم ہے، قوم کے بڑے فیصلے پارلیمان میں کیے جانے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ رپورٹرز جو معیشت کی کوریج کرتے ہیں،بہت اچھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، اینکرز کےساتھ ان رپورٹرز کی نشست کروانی چاہیے تاکہ وہ بھی اچھے سوال پوچھنا سیکھیں۔اسد عمر نے کہا کہ اگر یہی بیانیہ میڈیا پر چلتا رہے گا کہ ہم کل صبح کیا کریں گے تو 70 سال گزر گئے، دنیا کے ممالک ایک ایک کرکے آگے نکلتے گئے اور ہم صرف یہی پوچھتے رہے کہ کل کیا کرنا ہے کیونکہ ہم وہ کام کرنے کے لیے تیار نہیں جس کا فائدہ آج سے 30 سال بعد نظر آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم صرف خبر یا الیکشن مقاصد کے لیے معیشت کے فیصلے کریں گے تو جو پاکستانیوں کا حق ہے وہ ہمیں حاصل نہیں ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہم اکنامکس پڑھتے تھے اس وقت بھی پاکستان کی حکومت اتنا پیسہ نہیں جمع کرسکی تھی جو اپنے ملک کی ترقی کے لیے، عوام کی فلاح کے لیے اور کارِ حکومت کے لیے درکار ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرسکتا تھا جس سے زرمبادلہ حاصل ہوسکے اور اتناپیسہ جمع نہیں کرسکتا تھا جس سے ملک میں سرمایہ کاری کرکے معیشت کی رفتار تیز کی جاسکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم مالیاتی، کرنٹ اکاؤنٹ، سرمایہ کاریا بچت خسارے میں آج بھی وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ اگست 2018 میں ہمیں جو فوری فیصلے کرنے کی ضرورت تھی وہ یہ فیصلے نہیں تھے جس سے ہم طویل المدتی اقتصادی پیداوار کی طرف جاسکیں، ہمیں تو اس وقت آئی سی یو میں جو مریض ملا اس کا آپریشن کرکے اس کی جان بچانی تھی اور اسے کم از کم نارمل وارڈ میں لے کر آنا تھا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ماہرین نے ہمیں کہا تھا کہ اگر فوری طور پر آئی ایم ایف کے پاس نہیں گئے تو بچ نہیں سکتے لیکن عوام نے دیکھا کہ ہم نے فیصلے کیے اور بہتری آئی، آئی سی یو سے مریض نکلا، پاکستانی معیشت کا بحرانی مرحلہ گزر گیا اور اب استحکام کا مرحلہ جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ رشتے کے لیے بھی اتنے سوال نہیں پوچھے جاتے جتنے آئی ایم ایف نے پوچھے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم آہستہ آہستہ استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں، مگر ملکی معیشت مستحکم ہونے میں ابھی ڈیڑھ سال لگیں گے اور جس کے بعد ہم بہتر پوزیشن میں آجائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زرمبادلہ کا خسارہ 19 ارب ڈالر تھا جس کی وجہ سے تیزی سے بین الاقوامی قرضے بڑھ رہے تھے اور اس کے باوجود ذخائر کم ہورہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات گزشتہ 5 برس پہلے کے مقابلے میں کم تھے۔اسد عمر نے کہا کہ ہم نے یہ صرف بدلتے دیکھا ہے کہ اب کون سا ملک پاکستان سے آگے نکل گیا، یہاں تک کے بعض افریقی ممالک کی معیشت بھی پاکستان سے بہتر ہورہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان دنیا کے لیے ترقیاتی رول ماڈل تھا لیکن اب ہمیں حکومتی اخراجات تو دور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے قرضے لینے پڑرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچت کو فروغ دے کر سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا تو معیشت ترقی کرے گی۔اسد عمر نے کہا کہ ایف بی آر میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جارہا ہے،معلومات میں تبادلے کے لیے ایف بی آر کو نادرا کے ساتھ منسلک کررہے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بے نامی قوانین کو نافذ کردیا گیا اور اب پبلک فنانشل منیجمنٹ کا نیا قانون لارہے ہیں۔