ادھوری خواہشیں جھوٹا خواب.. ساجد وحید سرورایڈووکیٹ

کتنا خوش تھا میں اپنی ملک کی ترقی پر اور نازاں بھی ۔۔۔ساتھ ساتھ یہ منظر میری آنکھوں سے چمٹے ہوئے تھے۔ جناب وزیراعظم صاحب نفس نفیس سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملنے اپنے بنی گالہ والے بڑے گھر سے نکلے اور جاتی عمرہ والے محل میں گئے۔ سابق وزیراعظم کی طبیعت و صحت کی بابت دریافت کیا۔ دونوں راہنماؤں نے ملکی صورتحال پر غور و خوص کیا اور آٓنے والے دنوں میں ملکی و سیع تر مفاد میں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم صاحب فرمارہے تھے کہ عہدوں کی معراج کا نام ہی وزیراعظم ہوتا ہے ۔ اب اس سے آگے میری کیا خواہش ہو سکتی ہے یہ عزت جو ملک نے مجھے عطا کی ہے۔ میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا کر ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کسی سے کوئی عناد نہیں ہے نہ ہی میں مزید کسی غرور میں مبتلا ہو کر ملک کو نقصان پہنچاؤں گا۔
اس ضمن میں سابق وزیراعظم سے احتسابی عمل کو صحیح قوانین کے مطابق اور تمام تعصبات سے پاک بنانے کا عندیہ دیا اس کے ساتھ ساتھ ایک درخواست کی کہ آپ سے ملک و قوم کی خاطر مدد چاہتا ہوں۔ ایک طرف تو قانون سازی میں مدد کریں کہ آئندہ کوئی کسی طرح سے بھی ہمارے ملک میں لوٹ کھسوٹ نہ کر سکے، وہ سرکاری افسران ہوں یا دیگر صاحب اقتدار لوگ۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ اپنے تمام جمع شدہ اثاثہ جات میں سے کم از کم تیسرا حصہ اپنی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں کے نام کر دیں کہ وہ بھی سکون کا سان لے سکیں۔ وزیراعظم صاحب نے مزید فرمایا کہ میں بھی اپنے اثاثہ جات سے تیسرا حصہ اپنے ملک و قوم کے نام کر رہا ہوں۔ پھر دونوں راہنماؤں نے یہ بات سابق صدر صاحب سے بھی کی ۔ ان سے بھی اپنے اثاثہ جات کا تیسرا حصہ عطیہ کرنے کی استدعا کی جس کو خوشدلی سے تسلیم کرتے ہوئے اپنی آزاد مرضی سے تیسرا حصہ ملک و قوم کے حوالے کر دیا گیا۔
اس حسن قدم کی پیروی کرتے ہوئے تو ہمارے ملک میں رہنے والے بے شمار امراء روساء ،وڈیروں اور جاگیرداروں نے بھی دل کھول کر ملکی خزانے میں جمع کروایا۔ ہر طرف عوام اپنے لیڈروں کی اس خوبصورت اقدامات کو سراہ رہے تھے۔ تمام ٹی وی چینلز ان مخالف سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کا ملک کی خاطر اٹھائے جانے والے جرات مندانہ اقدامات کی تعریفوں میں لگے ہوئے تھے۔ جو پٹواری، جیالے اور جنونی ایک دوسرے کو گالیاں تک دیتے اور ان کے راہنماؤں پر نقطہ چینی کرتے تھے وہ سب بھی شیرو شکر ہو گئے اور سیاسی مخالفت کو ذاتی بنانے سے تائب ہو گئے ۔ ساتھ ہی ساتھ غلیظ زبان کے استعمال سے بھی مکمل اجتناب کا عندیہ دے رہے تھے۔
میرا یہ سب جان اور دیکھ کر دل باغ باغ ہو رہا تھا، حیرت اس ہمت پر ہو رہی تھی کہ تمام راہنماؤں نے مل کر ملک کے وسیع تر مفاد میں احتسابی قوانین ، زرعی اصلاحات، صنعتی پیداواری قوانین، تعلیم، صحت کی پالیسیاں ، الغرض تمام اندرونی معاملات کے متعلق قوانین بنانے اور پھر اسمبلیوں سے بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرانے کا وعدہ بھی کر لیا۔ عوام بھی خوشی سے نہال ہو رہے تھے اور سارا معاشرہ باہم شیر و شکر ہو گیا تھا۔ قانون کی عملداری تھی اور لوگوں میں رواداری تھی۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بے شمار چھوٹے بڑے منصوبے شروع کر لیے تھے ،فنی تعلیم حاصل کر کے لوگ اندرون ملک، بیرون ملک سے خطیر رقوم کما کر اپنے ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے خاندانوں کی بھی اعلیٰ اور سہولتوں سے مزین طرز زندگی دینے پر قدرت حاصل کر چکے تھے۔
ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہا تھا کوئی کسی کے کام میں مداخلت کرنا تو درکنار سوچنا بھی کفر سمجھ رہا تھا، کوئی کسی پر بے جا تنقید کرنے کے بالکل حق میں نہ تھا۔ بلکہ تنقید صرف اور صرف اصلاح کی غرض سے کی جا رہی تھی اور جس کی خرابیوں کی نشاندہی کی جاتی وہ بھی خود اسے اپنی غلطی ولاپرواہی کو تسلیم کرتے ہوئے اسے جنگی بنیادوں پر ٹھیک کرنے کے درپہ ہو جاتا۔ کسی کو کسی پر کوئی برتری تھی نہ کوئی کسی کے حقوق غصب کرنے کا سوچ سکتا تھا نہ کسی کے پاس دولت کے انبار تھے نہ کوئی فاقہ کشی پر مجبور، نہ کہیں پر بیوہ یتم اپنے پیٹ کی خاطر انا کو دفن کرتے نظر آرہے تھے ۔ زکوٰہ لینے والے نہ تھے، چور،ڈاکو،خائن سب ناپید ہوچکے تھے۔ ریاست مدینہ کا عکس ہمارے معاشرے میں پوری طور سے عیاں تھا۔
اقوام عالم میرے ملک کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھ کر انگشت بادنداں تھیں ۔ میرا پیارا ملک چاند تاروں پر کمند ڈال رہا تھا اور مریخ کو تسخیر کرنے جا رہا تھا۔ ہر کسی کو سارے حقوق حاصل تھے انصاف کا دور دورہ تھا ۔۔۔لیکن پھر کیا تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں پھر لیٹے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ شاید میں نے کوئی خواب دیکھا ہے اور وہ بھی جھوٹا خواب۔
اب سوچتا ہوں کہ کاش یہ سب خواب نہ ہوتا، اے کاش!
خود کو بدل کے دنیا کو بدل ڈالیں قدرت ضرور مدد کرے گی ۔