چوہدری پرویز اقبال لوہسرکی دورہ بارسلونا کے موقع پر پرہجوم پریس کانفرنس

بارسلونا(دوست نیوز)چئیرمین ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ چوہدری پرویز اقبال لوہسرنے اپنے دورہ بارسلونا کے موقع پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کی جس میں صحافیوں کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے اپنی پریس کانفرنس میں یورپ بھر کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی کارکردگی اور مسئلہ کشمیر پر بریفنگ دی۔انہوں نے یورپ میں بھارتی چالبازیوں سے بھی پاکستانیوں کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا میرا ایک نعرہ ہے ،وہی میری طاقت ہے وہی میرا ایمان ہے ،وہی میرا دین ہے وہ ہے پاکستان زندہ باد،ابھی کچھ لوگوں نے پروگراموں میں یہ کہاکہ لوہسر کے پاس عہدہ کون سا ہے؟یہ سفارت خانہ میڈرڈ اور بارسلونا میں بھی بات کی گئی میں ان بھائیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک عہدہ ہے وہ ہے پاکستان زندہ باد ،اس کے علاوہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے اور نا ہی مجھے کسی اور چیز پر فخر ہے۔مجھے اگر فخر ہے تو پاکستانی ہونے پر ہے ۔
قونصلیٹ بارسلونامیری آپ کی اور ہماری قونصلیٹ ہے۔ قونصل جنرل بارسلونا میرا آپ کا اور ہمارا قونصل جنرل ہے ۔وہ کسی ایک فرد کا،کسی ایک جماعت کا،کسی ایک علاقے کا،کسی ایک قوم کا ،بلکہ وہ تمام پاکستانیوں کا قونصل جنرل ہے۔اس پر ناہی ہمیں ابہام ہے اور نا شک وشبہ ہے۔میرا ایمان ہے کہ مذہب اسلام میں ہم سب برابر ہیں ۔اگر کوئی اوپر ہے تو وہ تقوی اور پرہیز گاری میں اوپر ہے۔بڑا بزنس ، بڑی گاڑیاں ، بڑے نعرے لگانے سے لوگوں‌کا حق کھانے سے اپنے ورکروں پر ظلم کرنے سے ،اور پاکستان میں ان کے خاندانوں کو دھمکی دینے سے ،کوئی بڑا نہیں بنتا بلکہ اس کی نسل کی پہچان ہوتی ہے۔
یورپ میں انڈیا نے جو ہمارے لوگوں کو کرایہ پر لیا ہوا ہے ۔گزشتہ دنوں ان کے ایک ریٹائرڈ میجر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی تھی اس نے کہا ہے کہ انڈیا دو سو پاکستانیو ں کو بلوچستان، کراچی، کے پی کے سے لا کر نیشنلٹی دے اور دنیا کے ہر ملک میں پاکستان کے خلاف سنٹر کھولے،اس ریٹائرڈ میجر کو میں کہتا ہوں کہ وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے کلبھوشن یادیو کو پکڑا تھا،اور آج انڈیا اس دہشت گرد کو انٹرنیشنل کورٹ میں لے کر آیا ہے۔اس وقت سے بھی ڈروجب ابھی نندن کو ہم نے اتار لیا تھا۔اور چائے پلا کر واپس کر دیا تھا۔یہ نہ ہو کہ یورپ میں جو ڈرامہ بازی کی سوچ رہے ہو اگر ہم میں سے کوئی آدمی نہیں ملے گا تو منہ کی کھانی پڑے گی۔ہماری کوشش ہونی چاہیئے جو بندہ پاکستان اور کشمیر کے لئے اپنے حصے کا کام کر رہا ہے اس کی تحسین ہونی چاہیئے میں یہ نہیں کہتا کہ میں بڑا کام کر رہا ہو ں ۔
سفارت خانوں اور قونصل خانوں مین جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اسٹیٹ آف پاکستان حکومت پاکستان کے ملازم ہیں ۔ اور ہم پاکستانی ہیں۔ اگر پاکستانی کا کام قونصل خانے ،سفارت خانے میں نہیں ہو گا ۔تو جو بھی آواز ہمیں اٹھانی پڑی مل کر اٹھائیں گے۔ہمیں صرف ایک چیز پر فوکس ہونا چاہیئے اور وہ ہے پاکستان ۔اسپین میں ہم رہتے ہیں یہ بھی ہمارا ملک ہے۔جیسے پاکستان مجھے پیارا ہے ایسے ہی مجھے اسپین پیارا ہے ۔ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان ہماری نئی نسل ہماری سفیر ہے۔ہمیں ان پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے۔اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجداور جھوٹی چوہدراہٹ اور غلبہ ہے اسے ختم کر کے آگے بڑھنا ہے۔