بیرون ملک سے لائے گئے ملزمان پر سزائے موت کا اطلاق نہیں ہوگا

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاکستانیوں کے بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق ایمنسٹی اسکیم منظور نہ ہوسکی جبکہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات پولیس کے کاؤنٹر ٹیرر ازام ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ کابینہ نے یورپی یونین سے پاکستان لائے جانے والے ملزمان کو سزائے موت نہ دینے پر بھی اتفاق کرلیا۔
کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ بیرون ملک اثاثہ جات کی ڈکلیریشن سے متعلق ایمنسٹی اسکیم پر بحث ہوئی مگر تاحال تشنگی ہے، اسی وجہ سے کابینہ نے اسکیم کی تاحال منظوری نہیں دی۔فواد چوہدری نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ مطلوب ملزمان کی حوالگی سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ مگر اس میں قانونی پیچیدگی ہے۔ یورپی یونین کو تحفظات ہیں کہ پاکستان ان ملزمان کو سزائے موت نہ سنا دے جبکہ یورپی یونین میں سزائے موت پر پابندی ہے۔ اس لیے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک سے لائے گئے ملزمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی جائے گی کیوں کہ حسن نواز اور حسین نواز سمیت الطاف حسین کو بھی واپس لانا ضروری ہے۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ تیزی کیساتھ نیشنل ایکشن پلان پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کابینہ نے منی لانڈرنگ سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس کی تحقیقات سی ٹی ڈی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز کی پیداواری صلاحیت کو بڑھایاجائے گا جبکہ خیال رکھا جائےگا اسٹیل ملز کے ملازمین کو ٹھیس نہ پہنچے۔ اس سلسلے میں 6 بڑے صنعت کاروں نے اسٹیل مل میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم کل نیا گھر ہاؤسنگ اسکیم کاافتتاح کریں گے جس کے تحت 5 سال میں 50 لاکھ گھرتعمیر کیے جائیں گے۔علاوہ ازیں فواد چوہدری نے ہمیشہ کی طرح اپوزیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو کرپشن کے طعنے دیے۔