عالمی یوم مزدور: فرانسیسی پولیس مظاہرین سے الجھ پڑی

گذشتہ برس نومبر سے شروع ہونے والی فرانس کی یلو ویسٹ تحریک میں شامل مظاہرین نے یوم مزدورپر فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔عالمی یوم مزدور پر فرانس کی پولیس یلو ویسٹ (زرد جیکٹ) تحریک کے مظاہرین سے الجھ پڑی۔ گذشتہ برس نومبر سے شروع ہونے والی فرانس کی یلو ویسٹ تحریک میں شامل مظاہرین نے یوم مزدورپر فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔
ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ مظاہرے میں شامل سرگرم کارکنوں نے جوابی حملے میں پولیس پر بوتلیں اور دوسری چیزیں بھی پھینکیں۔پولیس نے مشتعل ہجوم پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے علاوہ سٹنگ بال گرنیڈ کا استعمال بھی کیا۔سٹنگ بال گرنیڈ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک متنازعہ ہتھیار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسے زمین سے قریب تر رہتے ہوئے فائر کرتے ہیں اور اس میں سے ربڑ کے چھرے نکلتے ہیں۔ یہ چھرے پچاس فٹ کے دائرے میں موجود افراد کی ٹانگوں پر شدید چبھن کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ فرانس پولیس صبح سے ہی ان مظاہرین سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔ چھ ہتھیار بند گاڑیاں اور چھ ایسی بندوقیں ان کے پاس موجود تھیں جو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پریشر سے پانی پھینکتی ہیں۔فرانسیسی حکومت کو یلوویسٹ تحریک کی جانب سے حالات میں بگاڑ کا اندیشہ تھا کیونکہ فرانس حکومت اس احتجاج کے خلاف مکمل عدم برداشت کی پالیسی کا اعلان کر چکی ہے۔

یلو ویسٹ (زرد جیکٹ) تحریک کیا ہے؟
فرانس میں یہ تحریک ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ایندھن میں خاص طور سے ڈیزل پر پہلے ہی کافی زیادہ ٹیکس موجود تھا۔ نئے ٹیکس لگائے جانے کی وجہ سے عوام مشتعل ہو گئے۔ قیمتوں میں اضافے کے خلاف اس تحریک کا نام زرد جیکیٹس کی تحریک (ژیلے ژن) اس لیے پڑا کیوں کہ مظاہرین زرد جیکیٹیں پہن کر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ دراصل فرانس کے قانون کے مطابق ہر ڈرائیور کو دور سے نظر آنے والی یہ زرد جیکٹ اپنی گاڑی میں رکھنا لازمی ہے۔
ان مظاہروں کے بعد فرانس کی حکومت نے کئی ٹیکس موخر کیے لیکن معاملہ سڑک پر احتجاج تک پہنچ چکا تھا۔ یلو ویسٹ تحریک تنخواہوں میں اضافے، یونیورسٹی کی فیسوں میں کمی، بہتر پینشن، اور بہت سے دوسرے معاملات پر بھی احتجاج کرنے لگی۔اس تحریک کو فرانس کے غریب اور انقلابی طبقے کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔یلو ویسٹ تحریک کے بعد فرانسیسی حکومت کو مقبولیت میں تاریخی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے