چمپئینز لیگ سیمی فائنل: کیا لیورپول کی ٹیم بارسلونا کے سٹار کھلاڑی میسی کو روک سکے گی؟

غضنفر حیدر۔۔1989 میں کلئیوینڈ کویلیئرز اور شکاگو بلز کے درمیان ہونے والے میچ میں صرف تین سیکنڈ کا کھیل باقی بچا تھا۔ کویلیئرز کی ٹیم یہ میچ ایک پوائنٹ سے جیت رہی تھی۔ بلز کے کوچ ڈگ کولنز نے جب ٹائم آوٹ لیا تو ساری ٹیم ان کے گرد جمع ہوگئی۔
کولنز نے باری باری تمام کھلاڑیوں کی طرف دیکھا اور صرف ایک جملہ کہہ کر ٹائم آؤٹ میٹنگ ختم کردی۔کچھ ہی سیکنڈ بعد جب ریفری کی سیٹی پر کھیل شروع ہوا تو شکاگو بلز کے بریڈ سیلرز نے قریب کھڑے نوجوان مائیکل جارڈن کو بال پاس کی۔ جارڈن چیتے کی طرح لپکے اور گیند باسکٹ کے اندر ڈال دی۔ اور ساتھ ہی ریفری نے میچ ختم ہونے کی سیٹی بجا دی۔ بیس ہزار لوگوں سے بھرے ہوئے کلئیوینڈ کویلیئرز کے ہوم گراؤنڈ پر خاموشی طاری ہوگئی۔اس میچ کا شمار باکسٹ بال کے تاریخی میچوں میں ہوتا ہے اور مائیکل جارڈن کی اس مشہور زمانہ باسکٹ کو ‘دی شاٹ’ کہا جاتا ہے۔
کچھ عرصے بعد جب بلز کے مینیجر ڈگ کولنز سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ٹائم آؤٹ کے دوران اپنے کھلاڑیوں سے کیا کہا تو ان کا جواب تھا ‘پاس دی بال تو جارڈن اینڈ ایوری ون ایلس گٹ دی ہیل آؤٹ آف دی وے’۔ یعنی کہ گیند مائیکل کے ہاتھ میں دی جائے اور اس کے راستے میں ہر صورت کوئی نہ آئے۔یہ تھا ڈگ کولنز کا بھروسہ، اپنی ٹیم اور باسکٹ بال کی تاریخ کے بہترین کھلاڑی مائیکل جارڈن پر۔
کئی بار ٹیم سپورٹس میں ایک کھلاڑی ایسا ہوتا ہے جسے روکنا نا ممکن ہوتا ہے۔ایسے کھلاڑیوں کو نہ تو تماشائی پریشر میں ڈالتے ہیں اور نہ ہی مخالف ٹیم کی ٹیکٹکس، ایسا لگتا ہے کہ یہ کھلاڑی، دوسروں کی نسبت کسی الگ ہی میدان میں کھیل رہا ہے۔ سپورٹس کی زبان میں انھیں ‘گفٹڈ’ کہا جاتا ہے۔بدھ کی شام جب لیورپول کی ٹیم چمپئینز لیگ کے سیمی فائنل کے پہلے حصے کے لیے میدان میں اترے گی تو ان کا سامنا ایسے ہی ایک کھلاڑی سے ہوگا: لائنل میسی۔
فٹبال ٹیکٹکس اگر سکول میں ایک مضمون ہوتا تو اس کے امتحان میں سب سے مشکل سوال یہی ہوتا کہ ذیل میں دیے گئے منظر ناموں میں لائنل میسی کو مخالف ٹیم کے گول تک پہنچنے سے روکنے کے طریقے کا انتخاب کریں اور ٹیکٹیکل حوالے بھی دیں۔میسی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فٹبال پنڈٹوں نے الگ الگ تجاویز اور رائے دی ہیں۔
وہ اس سیزن میں اب تک 38 میچوں میں 31 گول کر چکے ہیں۔ جن سات میچوں میں انھوں نے گول نہیں کیے ان میں یا تو انھوں نے گول اسسٹ کیے ہیں یا پھر اپنے ساتھیوں کو ‘پلے میکنگ’ یعنی کے اہم پاس دیے ہیں۔اور جن میچوں میں ان کی پاسنگ اور گول کرنے کی شرح سب سے کم رہی ہے وہ حیران کن طور پر کسی بڑی فٹبال ٹیم کے ساتھ نہیں بلکہ مقامی سپینش لیگ ‘لا لیگا’ کی دو ٹیمیں ریال ولاڈو لڈ اور ریاد سوسائڈڈ ہیں۔اور ان دونوں ٹیموں کے گیم پلان کو اگر دیکھا جائے تو انھوں نے ہر وقت میسی کے گرد تین سے چار کھلاڑی رکھے ہوتے ہیں، جو انھیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اگر پھر بھی میسی نہ رکیں تو انھیں گرا دیا جاتا ہے۔
میسی کو روکنے میں اب تک صرف یہی تکنیک کام آئی ہے۔ لیکن یہ صرف تب کارگر ثابت ہوتی ہے جب میسی فیلڈ گول کرنے جارہے ہوں۔ ماہرین میسی کے پاس آنے والی فری کک کو ‘ہاف پینلٹی’ یعنی کے آدھی پینلٹی کہتے ہیں۔ ان کی فری ککس میں رونالڈو جیسی تیزی تو نہیں ہوتی لیکن وہ گیند کو ہوا میں جس طرح موڑتے ہیں اس سے دنیا کے بہترین ڈیفینڈر اور گول کیپر صرف گیند کو اپنے پاس سے گزرتے ہوئے ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔لیورپول کے پاس 27 سالہ ورجل وین ڈائک کی شکل میں ایک ایسا کھلاڑی ہے جس کا شمار دنیا کے بہترین دفاعی کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ لیکن خود وین ڈائک نے میچ سے پہلے یہ کہا ہے کہ اگر میسی کو روکنا ہے تو ایک ٹیم کی شکل میں رکنا ہوگا، یہ کسی اکیلے کے بس کی بات نہیں۔اور جیسا کہ ذلاٹان ابرہیمووچ نے میسی کے بارے میں کہا تھا ‘یہ کھیل نہیں مذاق لگتا ہے۔ اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی حقیقی زندگی میں نہیں بلکہ پلے سٹیشن پر فٹبال کھیل رہا ہو۔’